ریاست بچ جائے سیاست کی فکر نہیں

ریاست بچ جائے سیاست کی فکر نہیں

"ریاست بچ جائے سیاست کی فکر نہیں"یہ پیغام یا بیانیے کا عنوان ان گفتگوئوں ، خطابات اور بیانات کا نچوڑ سمجھا جا سکتا ہے جو وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے ملک کو درپیش معاشی بحران سے نکالنے کے لئے حالیہ دنوں میں اپنے اقتصادی ماہرین سے مشاورت کے لئے منعقدہ اجلاس میں خطاب اور میڈیا کے نمائندوں سے اپنی گفتگوئوں میں کیا۔ میاں شہباز شریف کے یہ خطابات اور گفتگوئیں جہاں اپنی جگہ چشم کشا اور مقاصد اور مطالب کے لحاظ سے انتہائی واضح اور جامع ہیں وہاں ان سے اس دکھ ، پریشانی اور تشویش کا اظہار بھی سامنے آتا ہے جو ملک کی موجودہ بحرانی اور معاشی لحاظ سے انتہائی دگر گوں صورتحال کی وجہ سے ہر دردمند پاکستانی محسوس کر رہا ہے۔ میاں شبہاز شریف کا کہنا ہے کہ ہم کب تک دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے رہے گے۔ کب تک چین اور سعودی عرب ہماری مدد کرتے رہیں گے، IMFہم (ریاست پاکستان) پر بے اعتباری کا اظہار کر رہاہے کہ سابقہ حکومت IMFسے شرائط پوری کرنے میں پس و پیش سے کام لیتی رہی۔ اس لئے آگے بڑھنے سے پہلے ضروری ہے کہ ان شرائط کو من وعن پورا کرنے کے عملی اقدامات کئے جائیں ۔ اس صورت میں معیشت کی بحالی کے لئے سخت اور مشکل فیصلے کرنے ہماری مجبوری اور اشد ضرورت ہے ورنہ ملک کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ سر پر منڈلاتا ہوا نظر آتا ہے۔ 

میاں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ذاتی پسند و نا پسند سے ہٹ کر ہمیں عزم و حوصلے اور پختہ یقین کے ساتھ ایسی راہ اپنانی ہو گی جس پر چل کر ہم ملک و قوم کی کشتی کو کنارے پر لگا سکیں۔ہمیں علم ہے کہ عوام کو ہوش ربا مہنگائی کا سامنا ہے اور کم آمدنی والے طبقات جن میں کسان اور مزدور وغیرہ نمایاں ہیں وہ اس کا زیادہ نشانہ بن رہے ہیں۔ ہم نے ان کے لئے 2ہزار روپے ماہانہ امداد (سبسڈی) کا اعلان کر رکھا ہے جس سے ملک کی کم و بیش 8کروڑ آبادی مستفید ہو سکے گی۔ میں جلد ہی قوم سے خطاب کر کے کم آمدنی والوں کے لئے مزید سہولیات اور مراعات کا اعلان کروں گا۔ وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے بڑے دکھ کے ساتھ اس بات کا اظہار کیا کہ سابقہ حکومت کی نا اہلی ، بد انتظامی اور لاپرواہی کی وجہ سے ملک کو در پیش مسائل و مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس حکومت کے دوران چینی ، آٹا ، آئل و گیس سکینڈلز اور بد عنوانی کے معاملات سامنے آئے لیکن ذمہ داران کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہوئی۔ سابقہ حکومت  نے IMFکے ساتھ پیٹرول پر 30روپے فی لٹر لیوی کے نفاذ کا وعدہ کر رکھا تھا ، جسے 

اب پورا کرنا ہماری ذمہ دار ی بنی ہوئی ہے۔ اسی طرح اور بھی کئی شرائط ہیں جن کے پورا کرنے کے لئے  ہم پر دبائو ہے۔ بجٹ خسارہ کم کرنا اور آمدنی کے وسائل میں اضافہ کرنا ہمارے لئے انتہائی اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً 450ارب روپے کے اضافی وسائل حاصل کرنے کے لئے ہم نے 10کروڑ سے زائد سالانہ آمدنی والے افراد اور صنعتوں پر 4% سپر ٹیکس اور بعض دیگر مخصوص صنعتوں اور شعبوں جن کی تعداد 13بنتی ہے ا ن پر 10%سپر ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے ہمیں غربت کم کرنے میں مدد ملے گی، میاں شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ غریب ہمیشہ ایثار اور قربانی کا مظاہرہ کر تے چلے آرہے ہیں، امراء کا فرض ہے کہ وہ زیادہ ایثار اور قربانی کا مظاہرہ کریں۔ اس سے ہمیں غربت کم کرنے  اور ملک و قوم کی حالت سنوارنے میں مدد ملے گی۔ 

وزیر اعظم میاں شہباز شریف کے گزشتہ ہفتہ کے دوران تین چار مواقع پر خطابات اور گفتگوئوں سے اخذ کردہ یہ نکات بلا شبہ انتہائی اہمیت کے حامل اور وقت کے تقاضوں کا کافی اور شافی علاج سمجھے جا سکتے ہیں۔ میرے نزدیک ان کی اس سے بھی بڑھ کر اہمیت اور حیثیت ہے کہ ان سے ملک کو درپیش مشکلات اور چیلنج سے عہدہ برا  ہونے کے پختہ عزم اور ارادے کا اظہار ہی سامنے نہیں آتا بلکہ درپیش چیلنج سے نمٹنے کے لئے ایک واضح اور ٹھوس منصوبہ بندی اور لائحہ عمل بھی تشکیل پاتا نظر آتا ہے۔ بلا شبہ جو لائحہ عمل اختیار کیا جا رہا ہے اور مالی سال 2022-23 کے بجٹ میں آمدنی کے ذرائع بڑھانے کے لئے محصولات کے پھیلائو (Range) میں اضافے کے لئے جو اقدامات تجویز کئے گئے ہیں اور جن پر مالی سال 2022-23کے دوران عمل در آمد ہو گا ، ایسے نہیں ہیں جنہیں آسانی سے مقبولیت عامہ کا درجہ حاصل ہو سکے۔ یقینا ان سے مہنگائی اور بحیثیت مجموعی اشیاء کی قیمتوں یا سروسز کی فراہمی کے اخراجات میں اضافہ ہو گا۔ اس طرح میاں شہباز شریف کی حکومت کے یہ اقدامات ان کی حکومت کے لئے ہی نہیں بلکہ ان کی جماعت مسلم لیگ (ن) کے لئے بھی نا پسندیدگی کے جذبات پیدا کرنے کے سبب بنیں گے بلکہ بن رہے ہیں۔ لیکن ان کا مثبت پہلو یہ ہے کہ ان سے یہ جھلکتا ہے کہ ریاست یا مملکت کو درپیش حقیقی مسائل کو کسی نے Ownتو کیا ہے، کسی نے ان کو یہ سوچے سمجھے بغیر اہمیت تو دی ہے کہ اس سے ان کی جماعت یا حکومت کو کتنا فائدہ یا نقصان ہو گا۔ 

حقیقت یہ ہے کہ ہمیں اس وقت اسی طرح کے ٹھوس رویوں اور انداز فکر و نظر کی ضرورت ہے۔ ہمارے لئے ضروری ہے کہ کسی مصلحت کو خاطر میں لائے بغیر ہم ملک و قوم کے مفاد میں جو فیصلے اور اقدامات نا گزیر سمجھے ہیں انہیں خلوص اور پورے عزم و یقین کے ساتھ بروئے کار لائیں اور نتیجہ اللہ کریم پر چھوڑ دیں۔ نہایت عاجزی کے ساتھ یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ ان شاء اللہ مثبت نتائج سامنے آئیں گے ۔ سچی بات ہے حکومت کو سب سے بڑھ کر جس بات کو اہمیت دینی ہو گی وہ عوام الناس کے اقدامات کی بحالی اور ان کی طرف سے حکومتی سطح پر کئے جانے والے بظاہر سخت نظر آنے والے فیصلوں اور اقدامات کی تائید اور حمایت ہے۔ یقینا یہ تائید اور حمایت آسانی سے حاصل نہیں ہو سکے گی کیونکہ سب کو پتا ہے کہ ان فیصلوں اور اقدامات کی وجہ سے انہیں مزید مہنگائی اور مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 

معروضی صورتحال کو سامنے رکھ کر کسی حد تک یہ کہا یا سمجھا جا سکتا ہے کہ حکومت کو سخت اقدامات کرنے کی وجہ سے ہو سکتا ہے اس حد تک مخالفتوں یا مخالفانہ رد عمل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو بھاری اضافہ ہوا ہے ، با شعور طبقے کو اس بات کا احساس ہے کہ ایسا کرنا عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور یہاں کم نرخوں پر پیٹرول یا ڈیزل اور مٹی کا تیل وغیرہ مہیا کرنے کے لئے حکومت کی جانب سے دی جانے والی بھاری سبسڈی کی بنا پر نا گزیر تھا۔ کوئی حکومت 120ارب روپے کی سبسڈی دے کر حکومتی نظام نہیں چلا سکتی۔اسی طرح بجلی کے نرخوں میں اضافہ بھی ایک مجبوری سمجھا جا سکتا ہے کہ بجلی گھر چلانے کے لئے LNG، کوئلہ اور فرنس آئل وغیرہ جیسے ایندھن کی ضرورت پڑتی ہے ان کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ تاہم یہ حقائق اپنی جگہ کتنی اہمیت کیوں نہ رکھتے ہوں ، حکومت کے لئے ضروری ہے کہ وہ عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالے۔ اس سے بڑھ کر حکومت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے انتظامی اخراجات میں کمی لائے اور اعلیٰ ترین سطح پر حکومتی عمائدین کو جو سہولیات ملی ہوئی ہیں ان میں سامنے نظر آنے والی کمی لے کر آئے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ حکومت میںشامل عمائدین اور اعلیٰ سرکاری افسروں کے پیٹرول کی ماہانہ مد اور دیگر مراعات میں 40%تک کمی کر دی گئی ہے ۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ کمی نظر نہیں آرہی ہے بلکہ حکومتی اللے تللے بدستور جاری ہیں یہاں اگلے دن وزارت منصوبہ بندی کے تحت منعقد ہونے والی ٹرن آئوٹ کانفرنس کا حوالہ دیا جا سکتا ہے جس پر غیر ضروری طور پر لاکھوں روپے کے اخراجات کر دیئے گئے۔ آخر میں اس بات کا حوالہ بے جا نہیں ہوگا کہ حکومتی اقدامات کی وجہ سے IMFکے ساتھ معاملات بڑی حد تک طے پا گئے ہیںاور اگلے ایک دو ہفتوں میں حکومت کو IMFکی طرف سے 2ارب ڈالر کے لگ بھگ قرضے کی دو قسطیں اکٹھی مل جائیں گی اس سے ملک کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ بڑی حد ٹل چکا ہے۔

مصنف کے بارے میں