منی بجٹ

منی بجٹ

بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ عام آدمی پر کوئی بوجھ نہیں ڈالا جا رہا ہے بلکہ عوامی ریلیف کے لئے بہت سے اقدامات کئے گئے ہیں لیکن بجٹ کے گزرنے کے کچھ دنوں کے بعد ہی جو صورتحال سامنے آ رہی ہے اس سے تو یہی لگتا ہے کہ حکومت نے تمام مشکل فیصلے عوام پر بوجھ ڈالنے کے حوالے سے ہی کئے ہیں۔ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں مراعات یافتہ طبقہ اور اشرافیہ ہی مستفید ہوتی دکھائی دے رہی ہے جب کہ عوام کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ حکومت نے صنعتوں پر سپر ٹیکس کے نام سے ٹیکس لگایا ہے لیکن اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ جب بھی صنعت کاروں پر کوئی ٹیکس لگتا ہے تو وہ اسے عوام کی طرف شفٹ کر دیتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہو گا کہ ملک میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ کساد بازاری کو بڑھاوا دیتے ہوئے مزدوروں کو بے روزگار بنا دے گی۔ ہماری اشرافیہ اور حکمران فضول خرچیوں میں لگے ہوئے ہیں اور اس کے لئے رقم قرضوں سے پورے کرتے ہیں۔ تمام حکومتی اخراجات، قرضوں اور سود کا بوجھ عام پاکستانی پر ڈال دیا جاتا ہے، حکومتی آمدنی بڑھانے کا سارا بوجھ پہلے سے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام پر ڈالنا معمول ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ہم نے اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مشکل فیصلے کئے۔لیکن معاشی استحکام کے لئے حکومت جو کوششیں کر رہی ہے ان کو عام آدمی کی تائید و حمایت اسی وقت حاصل ہو گی جب عوام کی مالی مشکلات میں کمی آئے گی اور انہیں صاف نظر آئے گا کہ معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے حکومت مراعات یافتہ سے بھی قربانیاں لے رہی ہے۔ لیکن جب بھی اشرافیہ کی بات کی جاتی یے تو حکومتی اور اپوزیشن ارکان باہم متحد ہو جاتے ہیں، بے سہارا عوام مہنگائی کے بوجھ تلے سسکتے رہتے ہیں۔ موجودہ دنوں میں تو یہ بھی مصیبت ہے کہ حکومت نے کچھ کہا تو اتحادی ناراض ہو جائیں گے اور حکومت جاتی رہے گی۔ اس قوم کا کوئی پرسانِ حال نہیں، بس حکومت بچی رہے، اتحادی خوش رہیں، موج میلے جاری رہیں۔ بڑے کرب سے کہنا پڑتا ہے ہے کہ یہاں کبھی کوئی ایسی حکومت نہیں آئی جن کے ارکان عام لوگوں کے ساتھ بازاروں میں گھر کی گراسری خریدتے نظر آئیں، جن کے وزیر 

پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے نظر آئیں۔    

آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کرنے کے لئے مسلم لیگ (ن) کی حکومت منی بجٹ لے آئی ہے جس نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے گزشتہ روز کہا ہے کہ پیٹرول کے نرخ مزید بڑھا دیئے جائیں گے جب کہ نیپرا نے مئی کی ماہانہ فیول ایڈ جسٹمنٹ کی مد میں جولائی کے لئے بجلی 7 روپے 90 پیسے فی یونٹ مہنگی کر دی ہے۔ مہنگائی کی بلند ہوتی شرح اور عوام کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کے پیشِ نظر یہ فیصلہ عوام کے لئے مزید مشکلات لائے گا۔ اس قدر مہنگی ہونے کے باوجود تشویشناک امر یہ ہے کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہ صرف برقرار ہے بلکہ اس میں روز بروز اضافہ وہ رہا ہے۔ لوڈ شیڈنگ کے منفی اثرات انڈسٹریل پروڈکشن میں کمی اور چھوٹی صنعتوں کی بندش کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف بیروزگاری میں اضافہ ہو گا بلکہ برآمدات کے آرڈر بھی بروقت مکمل نہیں ہو پائیں گے نتیجتاً معاشی مشکلات میں اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان میں جب بھی بین الاقوامی اداروں سے سخت شرائط پر قرضہ لیا جاتا ہے تو اس کے فوائد و ثمرات یہ بتائے جاتے ہیں کہ اس سے ملک کی معیشت مضبوط ہو گی، عوام کا معیارِ زندگی بہتر ہو گا اور ملک ترقی و استحکام کی شاہراہ پر گامزن ہو جائے گا مگر کچھ عرصہ کے بعد جب قرضے کی اگلی قسط لینے کی باری آتی ہے تو وہی عالمی ادارے کہتے ہیں کہ ملکی معیشت کی حالت بہتر نہیں، خسارہ بڑھ گیا ہے، کرنسی کی قدر گر گئی ہے لہٰذا اگلی قسط کی فراہمی کے لئے مزید شرائط پر عمل درآمد کرنا ہو گا۔ موجودہ حکومت جب اپوزیشن میں تھی تو بیرونی قرضہ جات اس کا خاص ہدف تھے کہ کشکول توڑے بغیر ملک ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا ہے اور اگر اسے حکومت کرنے دی جائے تو وہ اس سے جان چھڑا لیں گے جب کہ حکومت میں آتے ہی پہلا کام آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور یقین دہانی کروائی کہ جلد ہی معیشت کی زبوں حالی پر قابو پا لیا جائے گا جس کے بعد بیرونی قرضوں سے نجات حاصل ہو جائے گی، لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ آئی ایم ایف سے قرضے کی نئی قسط لینے کے لئے اس کی ہر جائز ناجائز شرط کو پورا کیا جا رہا ہے۔ جس سے روپے کی قیمت گرتی جا رہی ہے، جب کہ اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ آئی ایم ایف کے قرضے کی بحالی سے روپے کی قدر میں کمی آئے گی اور ڈالر کی قیمت کم ہو جائے گی لیکن سوچنے کا پہلو یہ ہے کہ ڈالر کی قیمت کتنی دیر کے لئے کم رہے گی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آئی ایم ایف سے قرض منظوری کے بعد وقتی طور پر روپے کی قدر مستحکم ہو گی لیکن کچھ عرصہ کے بعد روپے قدر میں بہت کمی واقع ہو گی۔ 

عام آدمی پریشان ہے اسے فکرِ معاش چین سے بیٹھنے نہیں دیتی ہے وہ ان حالات میں سوچ رہا ہے کہ آئی ایم ایف کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، وہ آئی ایم ایف کی مزید شرائط پر عملدرآمد کے فیصلے کو روکنے سے قاصر ہے بس اسے اتنی فکر ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط اس پر اس دفعہ کتنی بھاری پڑ سکتی ہیں۔ وزیرِ اعظم ماضی جیسے دعوے کر رہے ہیں کہ قوم کو جلد خوشخبری ملے گی لیکن اس تمام عرصہ میں کسی اچھی خبر کا دور دور تک نام و نشان نظر نہیں آیا۔ بلکہ مہنگائی ہے کہ بڑھتی جا رہی ہے۔ خورونوش، پوشاک، تعمیراتی سامان غرض ہر چیز کی قیمت میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ بڑھتی قیمتوں سے عوام الناس پریشانی کے عالم میں سرگرداں ہیں۔ کمر توڑ مہنگائی کے عالم میں سب سے زیادہ متاثر یومیہ اجرت کا کام کرنے والوں کی حالت بہت نازک ہوتی جا رہی ہے۔ ان میں جو بیچارے ہنر اور تعلیم سے عاری ہیں انہیں مزدوری تک نہیں ملتی ہے۔ عارضی کام مل بھی جائے تو بھی اجرت سے چولہا تک نہیں جلتا، دو وقت کی روٹی کے لئے کتنے ہی جتن کرنے پڑتے ہیں۔ مہنگائی نے سفید پوش خاندانوں کے لئے بھرم قائم رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔ وضع داری اور رکھ رکھاؤ دم توڑ گئے ہیں۔ 

سیاسی حکومتوں سے غلطیاں زیادہ سرزد ہوتی ہیں، لوگ ہر حکومت کو اپنا سمجھتے ہیں اور اس کے ساتھ ضرورت سے زیادہ توقعات وابستہ کر لیتے ہیں۔ سیاست دان بھی بڑے کمال کے لوگ ہوتے ہیں، انتخابات کے دوران ووٹ مانگتے ہوئے ایسے ایسے دعوے کر گزرتے ہیں کہ عوام کو ان کی شکل میں اپنے تمام مسائل کا حل نظر آنا شروع ہو جاتا ہے۔ انہیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کا لیڈر انتخاب کے فوری بعد ان کے لئے دودھ اور شہد کی نہریں بہا دے گا، آسانیاں ہی آسانیاں پیدا کر دے گا۔ غربت ختم ہو جائے گی، مہنگائی کا نام و نشان مٹ جائے گا، روزگار کی صورتحال یوں ہو گی کہ ایک نوجوان کی جیب میں دو دو تقرر نامے ہوں گے اور وہ تیسری زیادہ بہتر جاب کے لئے پہلی اور دوسری جگہ جوائن نہیں کرے گا۔ کسی آئیڈیل معاشرے میں ایسے ہی حالات ہوسکتے ہیں۔ ایسا معاشرہ خوابوں کی دنیا میں کہیں ہوتا ہو گا۔

مصنف کے بارے میں