ٹائوٹ میڈیا کی تباہ کاریاں

ٹائوٹ میڈیا کی تباہ کاریاں

اسٹیبلشمنٹ کی جہادی پالیسی ایک طویل عرصے سے ملک کے اندر اور باہر شدید تنقید کا نشانہ بنی رہی ہے ۔ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہونا اسی کا ایک کڑوا پھل ہے ۔ افسوسناک بات ہے کہ خصوصاً ملک کے اندر سے جب بھی کسی نے ایسے تجربات کو ملکی مفاد کے منافی قرار دے کر گریز کرنے کا مخلصانہ اور صائب مشورہ دیا تو اسے نشان عبرت بنا دیا گیا ۔آج حال یہ ہے کہ اب وہ سب کچھ کیا جارہا ہے کہ جس سے ریاست کے جہادیوں کے سرپرست ہونے کا تاثر دور کیا جاسکے ۔ پھر بھی مشکلات میں کمی نہیں آرہی ۔ بالکل اسی طرح میڈیا کے حوالے سے نہایت غور و فکر ، طویل منصوبہ بندی اور وسائل کی بھر مار کے بعد تیار کی گئی پالیسی الٹا گلے پڑ چکی ہے ۔ ایسا نہیں کہ جس وقت یہ سب ہورہا تھا تو منصوبہ سازوں کو معقول رائے نہیں دی گئی ۔ آزاد اور پروفیشنل میڈیا سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے اسی وقت کہا تھا یہ کھیل مت کھیلیں مگر مہم جوئی کرنے والوں کے سر پر طاقت کا نشہ اور سیاسی مخالفین سے انتقام لینے کی دھن سوار تھی ۔ جو زبان اور الفاظ اس وقت اسٹیبلشمنٹ کی قیادت کے خلاف استعمال کیے جارہے ہیں ۔ وہ سیاسی مخالفین کے حوالے سے باقاعدہ منظور شدہ تھے ۔ اداروں کی جانب سے میڈیا کو زبان بدلنے پر مجبور کر دینے سے لے کر خود ساختہ تجزیہ کاروں کو جبری طور پر ٹاک شوز میں تھوپنے تک ایک ایک لمحے کی نگرانی کی جاتی رہی ۔ روزانہ کی بنیادوں پر سکرپٹ فراہم کیا جاتا تھا ۔ سوشل میڈیا یلغار کے لیے کئی بریگیڈ تیار کیے گئے جو درحقیقت ایک ہی مقام سے کنٹرول ہوتے تھے ۔ پیزا فیم جنرل عاصم باجوہ نے پوری میڈیا انڈسٹری کو پراپیگنڈہ ٹول بنانے کے منصوبے کے تمام خدوخال طے کیے اور پھر ان پر عمل درآمد کرایا ۔ ایک طرف سیاسی مخالفین پر تابڑ توڑ حملے کیے گئے تو دوسری جانب جرنیلوں کا امیج ابھارنے پر بھرپور وسائل استعمال کیے گئے ۔ سب کو یاد ہے جنرل راحیل شریف کے دور میں وقفے وقفے سے ’’شکریہ راحیل شریف ‘‘ کی مہم یوں چلائی جاتی رہی جیسے ملک کو جنگی لحاظ سے امریکہ اور معاشی طور پر چین بنا دیا گیا ۔ ظاہر ہے گرائونڈ پر ایسا کچھ بھی نہیں تھا ۔ اس دوران باقاعدہ منصوبہ بندی کرکے نئے میڈیا ہائوسز بھی بنوائے گئے ۔ مختلف کاروبار کرنے والے سیٹھوں سے کہا گیا کہ اپنے سرمایہ سے چینل اور اخبارات نکالیں ۔ اس کے عوض ان کو ان کے کاروباروں میں ریاستی اداروں کی جانب سے کیا کیا چھوٹ ملی ہوگی یہ الگ سے ایک مکمل موضوع ہے ۔ یہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ اپنے قیام سے لے کر نیا پاکستان پراجیکٹ کے آغاز تک آئی ایس پی آر جب تک نارمل انداز میں کام کرتا رہا کسی ایک میڈیا ہاؤس نے بھی کبھی کوئی فرمائش نہیں ٹالی ۔ قوم اور میڈیا کے فوج سے روایتی رومانس کی وجہ سے ادارے کی بہت عزت تھی۔میڈیا ہائوسز میں فورسز اور خفیہ ایجنسیوں کے بیان کردہ قومی مفاد کو ہی حقیقت گردان کرکے ادارتی پالیسیاں مرتب کی جاتی تھیں ۔ لیکن ہائبرڈ سسٹم میں آزاد اور دوست میڈیا کیلئے کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی ۔ ملک کے اندر غلط 

سلط پراپیگنڈہ کرنے والوں کے سوا باقی سب کو غدار میڈیا قرار دے کر دھتکارا گیا ۔ گالیاں بکنے اور قسم اٹھا کر جھوٹ بولنے والے سینئر تجزیہ کار قرار پائے ۔ ان میں سے کئی صحافی ہی نہیں تھے اور بعض تقریباً ان پڑھ مگر یکطرفہ بکواس کرنے کی ’’خوبی‘‘ نے انہیں نہ صرف میڈیا ہائوسز میں بڑے عہدے ، قیمتی گاڑیاں اور بھاری تنخواہیں دلوا دیں بلکہ ہر طرف کا تحفظ بھی فراہم کیا گیا ۔ نجی میڈیا ہائوسز میں ایسے تمام عناصر کی نوکریوں کا بندوبست سرکاری طور پر کیا جاتا تھا ۔ اسی طرح سوشل میڈیا کو منظم کیا گیا ۔ قوم کو یہ بتا کر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا گیا کہ ہمیں بھارت سے ففتھ جنریشن وار کا خطرہ ہے ۔لیکن جب ایسے سوشل میڈیا سیل بن گئے تو انہیں مکمل طور پر ملک کے اندر ہی سیاسی مخالفین کے خلاف یکطرفی جنگ میں جھونک دیا گیا ۔ اسی دوران عمران خان کی شخصیت سازی کے لیے بھی پراجیکٹ شروع کیے گئے ۔ بیرون ملک کمپنیوں کی خدمات حاصل کی گئیں ۔ پاکستان کے اندر جو سوشل میڈیا سیل بنائے گئے اس کی فالوولنگ بڑھانے کے لیے پی ٹی آئی سے مل کر کام کیا گیا ۔ سوشل میڈیا گینگز چلانے کے لیے جو لوگ بھرتی کیے گئے انہیں بہت بھاری تنخواہیں اور مراعات ہی نہیں کئی کئی کروڑ کے خصوصی ٹاسک بھی دئیے گئے یوں اربوں نچھاور کیے گئے ۔ یو ٹیوبروں کا گروہ بنا کر ملک کے اندر جعلی خبروں اور تبصروں کی بھرمار کردی گئی ۔ سیاست ، صحافت اور عدالت میں موجودہ ناپسندیدہ افراد کو غلیظ مہم کا نشانہ بنایا گیا۔ جو جتنا جھوٹ اور گند پھیلاتا اسے اتنی ہی زیادہ شاباش ملتی تھی ۔ایسے ہی ایک نام نہاد نیم خواندہ تجزیہ کار کو ایک اہم طاقتور شخصیت نے ہم خیالوں کی محفل میں جب یہ بتایا کہ اس کا شو ، وہ اور انکی فیملی بڑے شوق سے دیکھتے ہیں تو اس کی مزید چاندی ہوگئی ۔ ایک پیج کی حکومت کے دوران پی ٹی آئی اور آئی ایس پی آر یک جان دو قالب تھے ۔ اس طرح تمام اداکاروں اور اداکارائوں، گلوکاروں کے ساتھ بڑے صنعتکاروں، کھلاڑیوں اور دوسری سلیبرٹیز کو بتا دیا گیا تھا کہ آگے عمران خان ہی عمران خان ہے ۔ باقی سب قصہ ماضی بن چکے ۔ عمران خان، بشریٰ بی بی ، فرح خان ، مانیکا فیملی کا سرسری ذکر تک ہوتا تو ٹلیاں کھڑک جاتی تھیں۔ یہاں تک کہ کسی روز پیاز کی قیمتوں میں اضافے کے متعلق معمول کی خبر بھی چلائی جاتی تو فوراً رابطہ کرکے کہا جاتا تھا کہ ایسی اطلاعات مت دیں جن سے حکومت کے بارے میں ہلکا سا بھی منفی تاثر جائے ۔ آزاد صحافت کرنے والے صحافیوں اور اداروں کا گھیرا تنگ کردیا گیا ۔ سادہ سی بات ہے کہ جب بھی کسی طرح کا نیا بیانیہ یا پراپیگنڈہ شروع کیا جائے قریبی اور ماتحت حلقے سب سے پہلے یقین کرنا شروع کردیتے ہیں جب یہ کام ادارے کی سطح پر کیا جائے تو وہ خود بھی اثرات کی زد میں آکر رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب ایک پیج کی سانجھے کی ہنڈیا بیچ چوراہے میں پھوٹی تو اسٹیبلشمنٹ کی اپنی صفوں میں زلزلہ آتا دکھائی دیا ۔ ہائبرڈ نظام یوں تو دس سال کے لیے لایا گیا تھا مگر کچھ سٹیک ہولڈر ضرورت سے زیادہ ہوشیار بننے کی کوشش میں اگلے بیس سال کا نقشہ تیار کیے بیٹھے تھے ۔ حکومت جانے سے سب کے سہانے خواب چکنا چور ہوئے تو کہرام مچنا فطری امر تھا ۔ اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے میڈیا ہائوسز اور سوشل میڈیا سیل تخلیق کاروں پر ہی ٹوٹ پڑے ۔ جس منظم انداز میں فوج کی قیادت کے خلاف مہم چلائی گئی اس سے واضح ہے کہ ان کے پیچھے کوئی طاقت موجود ہے ، وسائل کی بہتات بھی ہے اور گائیڈ لائن بھی ۔ بہت ممکن ہے اس تمام کھیل میں بیرونی ہاتھ ملوث نکلیں ۔پتہ نہیں ہماری اسٹیبلشمنٹ کو یہ بات کیوں سمجھ میں نہیں آتی کہ جو اپنے معمولی مالی مفادات کے لیے ان کا ٹائوٹ بن سکتا ہے وہ زیادہ بڑی مراعات حاصل کرنے کے لیے بیرونی دشمنوں کا آلہ کار کیوں نہیں بن سکتا ؟ بہر حال بڑے میڈیائی حملے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کو یہ رضاکارانہ سہارا ملا کہ آزاد میڈیا اور ملک کی اکثر سیاسی جماعتوں نے فوج مخالف پراپیگنڈے کی مخالفت کردی ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب سوشل میڈیا پر بھی پی ٹی آئی اور اس کے سرپرستوں کا زور ٹوٹ رہا ہے ۔ اب اگر سوشل میڈیا پر بھی فوج اور اس کی قیادت کے خلاف کوئی ٹاپ ٹرینڈ بن بھی جائے تو وہ زیادہ موثر ثابت نہیں ہورہا ۔ امکان غالب ہے کہ اس وقت حکومتی اداروں کو ایسے عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کی اجازت مل جائے تو یہ قصہ مکمل طور پر بھی نمٹ سکتا ہے ۔ اس تمام معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کے لیے سبق یہ ہے کہ سیاست ، صحافت اور عدالت کے معاملات سے دور رہا جائے اپنے تمام ذیلی اداروں کو بھی کسی قسم کی دخل اندازی کرنے سے سختی سے روکا جائے ۔ ہوسکتا ہے آگے چل کر ایسا ہی ہو ۔ مگر ہمارا المیہ ہے کہ ہم سبق سے بھی سبق نہیں سیکھتے۔

مصنف کے بارے میں