وزیراعظم استعفے کیلئے ذہنی طور پر تیار ہے ، شیخ رشید کا دعویٰ

وزیراعظم استعفے کیلئے ذہنی طور پر تیار ہے ، شیخ رشید کا دعویٰ

اسلام آباد:عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے دعویٰ کیا ہے کہ پاناما لیکس اسیکنڈل پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بننے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی ابتدائی کارروائی کے بعد وزیراعظم نواز شریف اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں.


نوازشریف اپنے صاحبزادے حسین نواز سے زیادہ قابل اپنے کزن طارق شفیع کوسمجھتے ہیں اور جب انھوں دیکھ لیا کہ جے آئی ٹی کی تفتیش کے دوران کئی گھنٹوں تک کیے جانے والے سوالات کے بعد صورتحال مشکل ہورہی ہے تو اب وہ عہدہ چھوڑنے کے لیے تیار ہیں،کسی کوبھی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیئے لندن فلیٹس قطریوں کی ملکیت ہیں،سیکیورٹی کی یقین دہانی کروا نے کے بعد قاضی خاندان بھی اپنا بیان ریکارڈ کروانے پاکستان آجائے گا،وزیراعظم اپنے صاحبزادی کو بچانے کیلیے ہرحد تک جانے کو تیار ہیں،کیس جتنا پیچیدہ ہوتا جائے گا، اتنی ہی ن لیگ کی مشکلات میں اضافے کا سبب بننے گا۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ میرے پاس ایسی اطلاعات ہیں کہ قاضی خاندان نے پاکستان آنے کے لیے فوج سے سیکیورٹی کا مطالبہ کیا ہے اور اگر انہیں سیکیورٹی کی یقین دہانی کروا دی گئی تو 3 یا 4 جون کو قاضی خاندان بھی اپنا بیان ریکارڈ کروانے پاکستان آجائے گا۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ کیس کی حقیقت کو چھپانے کے لیے قاضی خاندان کو پاکستان آنے سے ڈرایا جارہا ہے تاکہ اصل کہانی سامنے نہ آسکے۔شیخ رشید نے کہا 'میں سمجھتا ہوں کہ کسی کو بھی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیئے کہ لندن فلیٹس قطریوں کی ملکیت ہیں، کیونکہ انھوں نے مجھے خود ایک بار کہا تھا کہ آپ ٹی وی پر جاکر بتائیں کہ قطری حکومت کا اس سے کسی قسم کا واسطہ نہیں ہے۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں یہ کیس مزید پیچیدہ ہوتا جارہا ہے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کے لیے سوال نامہ تیار کیا جاچکا ہے اور دیکھنا ہوگا کہ انہیں طلب کیا جاتا ہے یا نہیں۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف کی جانب سے اب تک جو کچھ بھی کیا گیا وہ صرف مریم نواز کو بچانے کی کوشش ہے، کیونکہ وہ اپنے صاحبزادی کو بچانے کے لیے ہرحد تک جانے کو تیار ہیں، لہذا استعفے کے بعد وہ اپنی سیاست کا مستقبل بھی مریم نواز کے سپرد کردیں گے۔

شیخ رشید نے مزید کہا کہ 'میرے پاس یہ بھی اطلاعات ہیں کہ شاید پاناما کیس کی جے آئی ٹی کے مقررہ 60 روز سے قبل ہی کچھ بڑا واقعہ ہوسکتا ہے، کیونکہ کیس جتنا پیچیدہ ہوتا جائے گا، اتنی ہی ن لیگ کی مشکلات میں اضافے کا سبب بننے گا'۔انھوں نے جے آئی ٹی کے ارکان کی سیکیورٹی پر بھی خدشات کا اظہار کیا اور انہیں مکمل تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت جے آئی ٹی کے ارکان پر سخت دباو ہے اور اگر سیکیورٹی نہ دی گئی تو ان 60 دنوں میں کوئی بڑا حادثہ بھی پیش آسکتا ہے