سپریم کورٹ نے خواجہ آصف کی تاحیات نااہلی کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا

سپریم کورٹ نے خواجہ آصف کی تاحیات نااہلی کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا
خواجہ آصف نے اقامہ کی بنیاد پر نااہل قرار دینے کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کر رکھی تھی۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کی نااہلی کے خلاف نظرثانی اپیل پر محفوظ کیا ہوا فیصلہ سُنا دیا۔سپریم کورٹ نے سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کی نااہلی سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا جس کے بعد ان کی تاحیات نااہلی بھی ختم ہو گئی۔ جسٹس عمر بندیال نے مختصر فیصلہ سنایا اور تفصیلی فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا۔ 


فیصلے پر خواجہ آصف کا ردعمل

خواجہ آصف نے اپنے پیغام میں کہا اللہ نے مجھ عاجز اور گناہ گار پر رحم اور کرم کیا ہے۔ رب العزت کا احسان اور مہربانیوں کا شمار ہی نہیں ۔ میں عدلیہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، الحمداللہ۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی جس میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس سجاد علی شاہ بھی شامل تھے۔ 

خواجہ آصف نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے اقامہ کی بنیاد پر نااہل قرار دینے کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کر رکھی تھی۔ دوران سماعت تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کے وکیل سکندر بشیر مہمند نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف کی مدت بطور کابینہ ممبر کا ریکارڈ جمع کروایا ہے اور ان کا حلف بطور وزیر دیکھ لیا جائے۔

وکیل نے کہا کہ حلف یہ اٹھایا کہ وہ ذاتی مفاد کو خاطر میں نہیں لائیں گے لیکن وہ وزیر ہوتے ہوئے بیرون ملک ملازم بھی رہے۔

 مزید پڑھیں: الیکشن میں کسی قسم کی تاخیر قابل قبول نہیں، وزیراعظم کا اسمبلی سے الوداعی خطاب

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد خواجہ آصف کی نااہلی کے خلاف نظرثانی اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا اور کہا کہ اگر کسی نتیجے پر پہنچ گئے تو آج ہی فیصلہ سنا دیں گے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 26 اپریل کو تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے وزیر خارجہ خواجہ آصف کو تاحیات نااہل قرار دیا تھا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں