مغرب ابھی تک اسلام کی غلط تصویر پیش کر رہا ہے، وزیراعظم عمران خان

مغرب ابھی تک اسلام کی غلط تصویر پیش کر رہا ہے، وزیراعظم عمران خان
اسرائیل نے دہشت گردی کو معصوم فلسطینیوں کے خلاف استعمال کیا، وزیراعظم۔۔۔۔۔۔۔۔فوٹو/ عمران خان آفیشل فیس بُک پیج

مکہ المکرمہ: اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کشمیریوں اور فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی سے نہیں جوڑا جا سکتا جبکہ او آئی سی کشمیر اور فلسطین کے مظلوم عوام کا ساتھ دے۔


وزیراعظم نے کہا کہ اسلام فوبیا اور دہشت گردی سے سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کو پہنچا۔ مغرب ابھی تک اسلام کی غلط تصویر پیش کر رہا ہے اور کوئی بھی مذہب انسانی قتل و دہشتگردی کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام کا دہشت گردی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور مغربی دنیا مسلمانوں کے جذبات کا خیال کرے۔ دنیا کو اسلام فوبیا سے باہر نکلنا ہو گا جبکہ مسلم دنیا کی قیادت مغربی دنیا کو قائل کرے۔

انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کے واقعے نے ثابت کیا دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور کوئی مسلمان دہشت گردی میں ملوث ہو تو اسلامی دہشت گردی کا نام دیا جاتا ہے۔ نائن الیون سے پہلے زیادہ تر خودکش حملے تامل ٹائیگرز کرتے تھے اور ان کے حملوں کا کسی نے ہندو مذہب سے تعلق نہیں جوڑا جبکہ دہشت گردی کو اسلام سے علیحدہ کرنا ہو گا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ نائن الیون کے بعد کشمیریوں اور فلسطینیوں پر مظالم ڈھائے گئے جبکہ او آئی سی کشمیر اور فلسطین کے مظلوم عوام کا ساتھ دے۔ مسلم سیاسی جدوجہد کو دہشتگردی کا لیبل دیا جانا درست نہیں جبکہ کشمیریوں اور فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی سے نہیں جوڑا جا سکتا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ کشمیر میں مسلمانوں پر مظالم کی لہر بڑھتی جا رہی ہے۔ کشمیری آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور او آئی سی مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے دہشت گردی کو معصوم فلسطینیوں کے خلاف استعمال کیا۔ بیت المقدس فلسطینیوں کا دارالحکومت ہ ےاور گولان کو فلسطین کا حصہ ہونا چاہیے۔

وزیراعظم نے زور دیا کہ مسلم ممالک جدید ٹیکنالوجی اور تعلیم کو ترجیح دیں جبکہ انہیں جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی پر رقم خرچ کرنی چاہیے۔

عمران خان نے کہا کہ جب کوئی پیغمبر اسلام کی توہین کرتا ہے تو یہ ہماری ناکامی ہے اور ہمیں مغرب کو بتانا چاہیے کہ پیغمبر کی توہین پر ہم کتنا دکھ محسوس کرتے ہیں۔ یہودیوں نے دنیا کو بتایا ہے کہ ہولو کاسٹ کی غلط توجیح سے انہیں دکھ ہوتا ہے۔