بڑی مچھلی کے جاگ جانے کا خطرہ

بڑی مچھلی کے جاگ جانے کا خطرہ

ہم نے چھوٹے ہونے کے دنوں میں سند باد جہازی کی وہ کہانی تو ضرور پڑھی ہوگی جس میں اس کا بحری جہاز سمندری طوفان میں تباہ ہوجاتا ہے۔ سند باد جہازی اور اس کے چند ساتھی ٹوٹے ہوئے جہاز کے تختوں سے چمٹ کر سمندر کی لہروں پر تیرتے ہوئے خشکی کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر جا اترتے ہیں۔ جان کے بچ جانے کا یقین آنے اور زندگی دوبارہ پانے کی خوشی جب آہستہ آہستہ کم ہوتی ہے تو انہیں سردی تنگ کرنے لگتی ہے۔ وہ اِدھر ُادھر گھوم کر خشک جڑی بوٹیاں اکٹھی کرتے ہیں اور پاس پڑے کنکروں کو ٹکرا کر چنگاریاں پیدا کرتے ہیں جس سے خشک جڑی بوٹیاں آگ پکڑ لیتی ہیں۔ وہ اس کامیابی پر پھولے نہیں سماتے اور اچھلنے کودنے لگتے ہیں کہ اچانک انہیں زمین میں تھرتھراہٹ محسوس ہوتی ہے۔ پہلے تو وہ اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دیتے اور آگ میں مزید ایندھن ڈالتے رہتے ہیں لیکن رفتہ رفتہ زمین باقاعدہ ہلنا شروع ہو جاتی ہے اور پھر خشکی کا وہ چھوٹا سے ٹکڑا سمندر میں دائیں بائیں ڈولنے لگتا ہے۔ وہ معاملے کو سمجھنے کی کوشش ہی کر رہے ہوتے ہیں کہ اچانک ان میں سے ایک چیخ چیخ کر بولتا ہے کہ ’’وہ دیکھو‘‘۔ جدھر وہ اشارہ کرتا ہے سب اُدھر مڑکر دیکھتے ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اُس کنارے پر ایک بہت بڑی مچھلی کا سر اٹھا ہوا ہے اور وہ جس جگہ کو خشکی کا ٹکڑا سمجھ رہے تھے وہ اُسی بہت بڑی مچھلی کی کمر ہے۔ یہ مچھلی برسوں سے سطح سمندر پر سو رہی تھی اور اوپر کے آندھی طوفان نے اس کی کمر پر مٹی جما دی جس میں جھاڑیاں اُگ گئیں۔ اب جب ان مسافروں نے اچھل کود کی اور سردی سے بچنے کیلئے آگ جلائی تو ہنگامہ آرائی اور آگ کی حرارت 

سے مچھلی جاگ گئی۔ آئیے! اس کہانی کو ہم اپنے حالات کے مطابق دیکھتے ہیں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن یہاں سب سے زیادہ بوئی اور اگائی جانے والی چیز خبریں ہیں۔ دن رات، اندر باہر اور دائیں بائیں کے ہرقسم کے میڈیا پر خبریں ہی خبریں بتائی جاتی ہیں جن میں زیادہ تعداد سازشی، دکھی اور پریشانی والی خبروں کی ہوتی ہے۔ ان کے اثرات سیاست اور عام لوگوں کے ساتھ ساتھ اہم اداروں پر بھی ہوتے ہیں۔ انہی خبروں کے ذریعے اپنی راہ میں رکاوٹ سمجھنے والے اداروں کو اس طرح نشانہ بنایا جاتا ہے کہ پتا بھی نہ چلے اور اُس کا امیج خراب کیا جائے کہ لاٹھی ٹوٹے بغیر معاملہ حل ہو جائے۔ اِن دنوں اِس طرح کی جتنی خبریں اڑائی جارہی ہیں اُن میں سے بیشتر کا تعلق کسی نہ کسی طرح حساس اداروں سے جاجڑتا ہے۔ خواہ وہ سیاسی بیان ہوں، سروے رپورٹ ہوں، انٹرویو یا تحقیقی و تفتیشی خبریں ہوں یا مرتے جیتے عوام کی خواہشوں کی نمائندگی کا دعویٰ ہو، حساس اداروں کا ذکر کہیں نہ کہیں ضرور کردیا جاتا ہے۔ جیسے فلاں شہر میں سرکاری افراد کے ہاتھوں کچھ لوگوں کی ہلاکت ہوئی یا اُن کے ہاتھوں لاپتہ ہوئے جبکہ یہ فوراً بھلا دیا جاتا ہے کہ سکیورٹی اداروں نے اپنے کتنے جانبازوں کا خون اِن بے پر کی اڑانے والے سازشیوں کی زندگیوں پر قربان کیا ہے۔ سازشی خبروں میں اُن چند لوگوں کو بار بار یاد کرایا جاتا ہے جو امن کی ڈھال میں بدامنی کا بارود لیے ہوتے ہیں مگر اُن شہداء کو چند گھنٹوں کے اندر ہی عمومی خبروں اور سوشل میڈیا کی خبروں میں نظرانداز کردیا جاتا ہے جو دہشت گردوں کو ٹھنڈے کمروں اور شہروں میں بسنے والے اِن نرم و نازک افلاطونوں سے دور رکھنے کے لیے بارودی سرنگوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ فرض کریں سکیورٹی ادارے ان علاقوں میں دہشت گردوں کا پیچھا چھوڑ دیں اور خود کو محفوظ مقامات تک محدود کرلیں تو شاید سکیورٹی اداروں کو دہشت گردوں کے خلاف ایک گولی بھی نہ چلانا پڑے اور اِن کے اپنے خون کا ایک قطرہ بھی نہ بہے مگر وہ دہشت گرد ٹھنڈے کمروں اور شہروں میں بیٹھے ان حسن و جمال کے پیکر نرم و نازک فلاسفروں تک پہنچ جائیں تو سوچیے کیا ہو؟ پھر اِن نرم و نازک افلاطونوں کو یہ کہنے کا حق نہیں ملنا چاہیے کہ سکیورٹی ادارے دہشت گردی کا قلع قمع کریں یا ایک تجویز کے طور پر ٹھنڈے کمروں اور شہروں میں بیٹھے حسین و جمیل نرم و نازک افلاطونوں کو دہشت گردی کے مشکوک علاقوں میں جاکر ایک ہفتے کے لیے چھوڑ دیا جائے تو ممکن ہے یہ افلاطون واپسی پر کچھ بتانے کے قابل بھی نہ رہیں۔ انہی حالات کے آگے سکیورٹی ادارے اپنے گوشت پوست کے جسم کو فولادی دیوار بنائے کھڑے ہیں۔ اِس وقت فوج کا بڑا حصہ اپنے پیشہ ورانہ کاموں میں مصروف ہے جس کی شاید عام لوگوں کو خبر بھی نہیں ہے۔ اگر پاکستان کے شہر اِس وقت دہشت گردی سے بہت حد تک پاک ہیں تو اس کی وجہ موجودہ فوج ہی ہے۔ پاک فوج پر اِس وقت ہر طرح کے اندرونی اور بیرونی حملے ہو رہے ہیں اور یہ ادارہ سب سے زیادہ مشکل میں ہے لیکن ہم گزر جانے والے گہرے سمندر کے خوفناک طوفانوں کو بھول کر خشکی کے ملنے والے چھوٹے سے ٹکڑے پر آگ جلانے، اچھل کود کرنے اور ہنگامہ آرائی میں مصروف ہیں۔ کیا یہ سب معاملات کسی اور کو ہی کنٹرول کرنا ہوں گے؟ ان حرکتوں سے اگر خاموشی سے تیرتی ہوئی بڑی مچھلی جاگ گئی تو کیا ہوگا؟ اندازے لگانے والے کہتے ہیں کہ اگر اس مرتبہ ایسا ہوا تو یہ سابقہ چاروں فوجی عِہدوں سے بہت مختلف ہوگا جس میں شاید کسی کے لیے معافی کی گنجائش نہ ہو۔ 

مصنف کے بارے میں