سروسز سیکٹر کی بہتری کے لیے رئیل سیکٹر کی وسعت ملکی معیشت کی اہم ضرورت ہے: ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا

سروسز سیکٹر کی بہتری کے لیے رئیل سیکٹر کی وسعت ملکی معیشت کی اہم ضرورت ہے: ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا

لاہور : سروسز سیکٹر کی بہتری کے لیے رئیل سیکٹر کی وسعت ملکی معیشت کی اہم ضرورت ہے۔ صوبے میںSMEs کے فروغ کے لیے پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن اور KOSGEBکے تعاون سے انٹرپینیورشپ ٹریننگ پروگرام ترتیب دیا جا رہا ہے جس کے تحت فنی تربیتی اداروں اورجامعات کے فارغ التحصیل طالبعلموں اور کو کاروبار کی خصوصی تربیت دی جائے گی. اس مقصد کے حصول کے لیے چیمبر آف کامرس اورپبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کی بہترین یونیورسٹیز کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ ماسٹرز کی ٹریننگ کے لیے ترکی سے تربیت یافتہ ماہرین کو مدعو کیا جائے گا۔


ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے سول سیکرٹریٹ میں سٹیٹ بنک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر سعید احمد کو SMEsکے فروغ کے لیے ترکی کے حالیہ دورہ سے متعلق بریفنگ کے دوران کیا ۔ اُنھوں نے ڈپٹی گورنر سٹیٹ بنک کو بتایا کہ پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن نے KOSGEBکے فنانشیل ماڈل کے جائزہ کے بعد پنجاب میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے پھیلاؤ کے لیے لون انٹرسٹ سپورٹ پروگرام اور کریڈٹ سکیم پر مشتمل پرپوزل تیار کی ہے جس پر عمل درآمد کے لیے حکومت پنجاب کو سٹیٹ بنک آف پاکستان کی خدمات درکار ہوں گی۔

اس موقع پر پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر بلال احمد نے گورنر سٹیٹ بنک کو تیار شدہ پرپوزل کے ابتدائی پروگرام کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے گورنر سٹیٹ بنک کو بتایا کہ وہ پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے مختلف بنکوں کے ساتھ رابطوں کا آغاز کر چکی ہے جو SMEsکے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔

ڈپٹی گورنر سٹیٹ بنک نے پنجاب سمال انڈسٹری کی جانب سے پیش کئے گئے ماڈل میں دلچسپی کا اظہار کیا اور اُنھیں یقین دلایا کہ سٹیٹ بنک کی جانب سے ضروری جانچ پڑتال کے بعد اُنھیں مالی معاونت کی فراہمی کے لیے شرائط اور قوائد وضوابط سے آگاہ کردیا جائے گا۔ صوبائی وزیر نے ڈپٹی گورنر سے درخواست کی کے وہ جتنا جلد ممکن ہو سکے ان معاملات کو طے کریں کیونکہ SME سیکٹر کی موجودہ صورتحال ہنگامی اقدامات کی متقاضی ہے ۔

اس سے قبل صوبائی وزیر خزانہ نے ای ایگری کریڈٹ سکیم کی سٹیرنگ کمیٹی کے آٹھویں اجلاس کی بھی صدارت کی جس میں کسانوں کو قرض کی فراہمی کے حوالے سے زرعی ترقیاتی بنک،نیشنل بنک آف پاکستان ، بنک آف پنجاب اور اخوت مائیکرو فنانسنگ کی اب تک کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور اُنھیں نئے سیزن کے لیے نئے اہداف تفویض کئے گئے۔

سیکرٹری ایگریکلچر کپٹن محمود نے صوبائی وزیر کو سکیم کی جلد تکمیل کی راہ میں حائل مشکلات سے آگاہ کیا ۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کی درخواست پر قرض کے لیے مقررہ حد کو ختم کر کے اور آئندہ کاشتکاروں کو ضرورت کی بنیاد پر قرض کی فراہمی کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں ضلعی بنیادوں پر کوٹہ کے تقرر کوقرض وصول کرنے والوں کی تعداد کی بجائے رقم سے مشروط کرنے اورکسانوں کے لیے انشورنس سکیم کی تجویز بھی پیش کی گئی ۔

نیوویب ڈیسک< News Source