زینب قتل کیس، ملزم پر شاہد مسعود کی جانب سے لگائے گئے الزامات جھوٹے نکلے

زینب قتل کیس، ملزم پر شاہد مسعود کی جانب سے لگائے گئے الزامات جھوٹے نکلے

اسلام آباد: ڈاکٹر شاہد مسعود کی میں نہ مانوں کی ضد گئی ہار اور زینب قتل کیس میں اینکر پرسن کے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا گیا۔ ڈی جی ایف آئی اے بشیرمیمن کی سربراہی میں تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی۔

 ملزم عمران کا کسی گروہ سے تعلق ثابت نہیں ہوا اور کوئی سیاسی وابستگی بھی نہیں۔ قصور میں وائلنٹ چائلڈ پونوگرافی گینگ سے بھی تعلق کے حوالے سے الزام صرف الزام ہے۔

ملزم کے 37 بنک اکاونٹس کے الزامات بھی غلط نکلے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کے لگائے گئے 18 الزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں۔

مزید پڑھیں: زینب قتل کیس، مجرم عمران کی عدالتی فیصلے کیخلاف اپیل

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ثبوت نہیں ملے کہ کوئی ملزم کو ذہنی مریض ثابت کرنا چاہتا ہے جبکہ زینب کی تصاویر ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنا بھی ثابت نہ ہوا۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے جھوٹے الزامات پر معافی کا آپشن پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔

واضح رہے لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے قصور میں 6 سالہ بچی زینب کو ریپ کے بعد قتل کے جرم میں عمران علی کے خلاف 4 مرتبہ سزائے موت، تاحیات اور 7 سالہ قید کے علاوہ 41 لاکھ جرمانے کا فیصلہ سنایا تھا۔

 

کیس کا پس منظر

پنجاب کے شہر قصور میں 4 جنوری کو 6 سالہ بچی زینب کو اپنے گھر کے قریب روڈ کوٹ کے علاقے میں ٹیوشن جاتے ہوئے اغوا کرلیا گیا تھا۔ زینب کو اس وقت اغوا کیا گیا جب اس کے والدین عمرے کی ادائیگی کے سلسلے میں سعودی عرب میں تھے جبکہ اہل خانہ کی جانب سے زینب کے اغوا سے متعلق مقدمہ بھی درج کرایا گیا تھا لیکن پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔ 5  روز بعد 9 جنوری کو ضلع قصور میں شہباز خان روڈ پر ایک کچرے کے ڈھیر سے زینب کی لاش ملی تو ابتدائی طور پر پولیس کا کہنا تھا کہ بچی کو گلا دبا کر قتل کیا گیا۔

 

یہ خبر بھی پڑھیں: فاروق ستار نے الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار چیلنج کر دیا

 

بچی کی لاش ملنے کے بعد قصور میں پُر تشدد مظاہروں کا آغاز ہوا اور شدت اس وقت دیکھنے میں آئی جب اہلِ علاقہ نے مشتعل ہو کر ڈی پی او آفس پر دھاوا بول دیا اور دروازہ توڑ کر دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس موقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی تھی جبکہ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

23 جنوری کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے زینب کے والد کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ زینب کے قاتل کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ملزم عمران کو پاکپتن سے گرفتار کیا گیا تھا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں