'سندھ حکومت کو یہ اختیار نہیں کہ وہ جب چاہے پولیس افسران کو ہٹا دے'

 'سندھ حکومت کو یہ اختیار نہیں کہ وہ جب چاہے پولیس افسران کو ہٹا دے'

اسلام آباد: آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ تقرری کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پارلیمنٹ ہی سپریم ہے لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا پارلیمنٹ کسی عدالت کو قانون کا جائزہ لینے سے روک سکتی ہے؟۔


ریمارکس میں انہوں نے یہ بھی کہا  بدقسمتی سے وہ لوگ تبصرے کر رہے ہیں جو آئین کے بنیادی نکات سے واقف نہیں۔ پارلیمنٹ کے بنائے گئے کتنے ایسے قوانین ہیں جن کو عدالت نے کالعدم قرار دیا۔ لوگوں کو فیصلوں سے متعلق شک ہوتا ہے کیونکہ ہم نے فیصلے بھی دینے ہیں اور ان فیصلوں پر عملدرآمد بھی ہونا ہے۔

مزید پڑھیںمیرا کوئی سیاسی ایجنڈا ہے اور نہ ہی کوئی سیاسی مقاصد، چیف جسٹس

انہوں نے ریمارکس میں یہ بھی کہا صوبائی اسمبلیاں قانون بنانے کا مکمل اختیار رکھتی ہیں۔ کیا سندھ حکومت کو یہ اختیار نہیں کہ وہ جب چاہے پولیس افسران کو ہٹادے یا تبادلے کر دے۔ اس موقع پر سندھ حکومت کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیئے کہ صوبائی حکومت کو قانون بنانے سے روکنا پارلیمانی بالادستی کے خلاف ہے۔

سندھ حکومت کے وکیل نے کہا کہ پولیس کے حوالے سے 4 قوانین ہیں جو ایک دوسرے سے متضاد ہیں اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے 1861 کا قانون ریوائز کر دیا ہے۔ مجھے موقع ملا تو پولیس کا یونیفارم لاء ہو گا۔

بعد ازاں عدالت نے کیس میں اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید سماعت 7 مارچ تک ملتوی کر دی۔

یہ بھی پڑھیں: بنی گالہ اراضی کیس، ن لیگ نے فریق نہ بننے کا فیصلہ کر لیا

سندھ کابینہ نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی خدمات وفاق کے سپرد کرنے اور عبدالمجید دستی کو آئی جی سندھ بنانے کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی تھی۔ اس کے بعد سندھ حکومت نے آئی جی کے معاملے پر سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا تاہم عدالت عظمیٰ نے بھی صوبائی حکومت کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے اے ڈی خواجہ کو ذمہ داریاں نبھانے کا حکم دیا۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں