گھریلو تشدد ؛ سخت سزاؤں کے لیے قانون میں تبدیلی کا فیصلہ

گھریلو تشدد ؛ سخت سزاؤں کے لیے قانون میں تبدیلی کا فیصلہ
کیپشن:   گھریلو تشدد ؛ سخت سزاؤں کے لیے قانون میں تبدیلی کا فیصلہ سورس:   File Photo

لندن : برطانیہ میں گھریلو تشدد کے خلاف مہم چلانے والوں کے دبائو کے تحت اب برطانوی حکومت نےایک نیا قانون پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت گلا گھونٹ کر مارنے کی کوشش کرنے والے ملزمان کو 5 سال تک قید کی سزا دی جاسکے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اب گھریلو تشدد سے متعلق بل میں ترمیم کا بل پیش کیا جائے گا، پارلیمنٹ میں بحث کے بعد جس کی منظوری دی جائے گی۔

 یہ ترمیم گھریلو تشدد کے مرتکب افراد کے سزا سے بچ نکلنے پر پائی جانے والی تشویش کا تدارک کرنے کیلئے پیش کی جارہی ہے۔ کیونکہ گلا گھونٹنے کی کوشش کے دوران کسی طرح کا زخم نظر نہیں آتا، اس لئے موجودہ قوانین کے تحت مجرموں کو سزا دلانا مشکل ہوجاتا ہے۔

 اس قانون کے تحت جابرانہ رویئے پر سزا دینا بھی ممکن ہوجائے گا اور اس کیلئے متاثرہ شخص کو ملزم کے ساتھ رہنا لازمی نہیں رہے گا، اس کے علاوہ انتقامی طورپر پورن بنانے کے ملزمان کے خلاف کارروائی کیلئے بھی قوانین کو توسیع دی جائے گی اور نقصان پہنچانے اور پریشان کرنے کی نیت سے قابل اعتراض تصاویر ظاہر کردینے کی دھمکی پر بھی سزا دی جاسکے گی۔

 گھریلو زیادتیوں اور تشدد سے متعلق امور کی کمشنر نکولا جیکب نے کہا ہے کہ قانون میں اس طرح کی تبدیلی سے متاثرین کو زیادہ سپورٹ مل جائے گی اور اس سے زندگیاں بچانے میں مدد ملے گی لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے وزرا سے مزید پیش رفت کا مطالبہ کیا۔ چیرٹیز اورکمپینرز نے ان تبدیلیوں کو گھریلو زیادتیوں اور تشدد کے شکار لوگوں کی بڑی فتح قرار دیا ہے۔

 یہ بل جو فی الوقت ہائوس آف لارڈز میں زیر بحث ہے اور جس میں متعدد ترامیم تجویز کی گئی ہیں، عمومی طورپر انگلینڈ اور ویلز میں ہی نافذ العمل ہوگا، پہلے حکومت نے نئی قانون سازی سے قبل اس کو رواں بل میں شامل کرنے سے انکار کیا تھا لیکن متاثرہ افراد سے متعلق امور کی سابقہ کمشنر بیرونس Newlove نے اس کو جلد از جلد قانون کی شکل دینے کیلئے موجودہ بل میں شامل کرنے پر زور دیا تھا۔

 اب وزرا جان بوجھ کر کسی کا گلا گھونٹنے یا کسی بھی دوسری طرح دوسرے کی سانس روکنے کی کوشش کرنے والے قانون میں ترمیم کے ذریعہ ملزمان کو 5 سال تک قید کی سزا دینے پر رضامند ہوگئے ہیں۔ دریں اثنا توقع کی جاتی ہے کہ چانسلر رشی سوناک بدھ کو پیش کئے جانے والے بجٹ میں گھریلو زیادتیوں اور تشدد پر قابو پانے کیلئے 19 ملین پونڈ کے پیکیج کا اعلان کریں گے۔

 کسی کی نجی جنسی تصاویر اور فلمز دوسرے کو نقصان پہنچانے کی نیت سے ظاہر کرنے یا عام کرنا 2015 میں جرم قرار دیا گیا تھا لیکن اب نئی ترمیم کے تحت اس طرح کی چیزیں ظاہر کرنے کی دھمکی دینے والوں کو بھی 2 سال قید کی سزا دی جاسکے گی۔

 وزیر انصاف رابرٹ بک لینڈ کا کہنا ہے کہ یہ بل گھریلو تشدد اور اس کے مختلف طریقوں کو روکنے کیلئے قانون کو مضبوط بنانے میں مددگار ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ قانون کو مضبوط بنانے کا یہ موقع ایک نسل کے دوران ایک ہی مرتبہ ملتا ہے۔