حسینہ معین کا چھاتی کے سرطان سے آگاہی پر پاکستان کی پہلی ویب سیریز بنانے کا اعلان

حسینہ معین کا چھاتی کے سرطان سے آگاہی پر پاکستان کی پہلی ویب سیریز بنانے کا اعلان
کیپشن:    حسینہ معین کا چھاتی کے سرطان کی آگاہی پر پاکستان کی پہلی ویب سیریز بنانے کا اعلان سورس:   فائل فوٹو

اسلام آباد: حسینہ معین کی تحریر اور مصباح اسحاق خالد کی ہدایت کاری میں بننے والی ویب سیریز 'ابھی نہیں' اپریل میں رنسڑا پر دستیاب ہو گی۔ پریس بریفنگ میں سیریز کی کاسٹ، مصنفہ اور سیریز کی ہدایت کارہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ۔ ابھی نہیں کی کہانی، معاشرے میں چھاتی کے سرطان کے داغ کو دور کرتے ہوئے، ''بیماری میں یا صحت میں '' کے موضوع پر مبنی ہے۔ جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ انسان کیسے محبت اور عزم کے ذریعے اس کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ سینارا (ڈرامے کا مرکزی کردار) ندا کریم کا جذباتی سفر چھاتی کے کینسر سے لڑنے کے دوران کیسے اہم تبدیلی لائی۔

اپنے دور کی سب سے مشہور مصنفہ، حسینہ معین نے کہا ''میں خود ہی کینسر سے بچ کر آئی ہوں اور جب رنسٹرا نے مجھ سے یہ ڈرامہ لکھنے کو کہا تو میں اس ڈرامے میں نوجوان لڑکیوں اور ماؤں کو اس سے آگاہ کرنا چاہوں گی جس کا بنیادی پیغام ہے 'آئیے مل کر کینسر سے لڑیں'۔

اپنی پہلی فلم میں کام کرنے والی ویب سیریز کی مرکزی کردار ندا کریم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ''میں ہمیشہ ایک ایسا کردار کرنا چاہتی تھی جو معنی خیز ہو اور اس میں کسی خاص پیغام کو سامنے لانے کی صلاحیت حاصل ہو۔ ابھی نہیں میں، سنارا کا کردار لچک،  سچے پیار اور دیکھ بھال پر اعتماد کا پیغام دینے میں کامیاب رہا ہے۔ یہ وہی حقیقی اقدار ہیں جو ہمارے معاشرے اور آس پاس کے لوگوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ جو بھی اسے رنسٹرا پر دیکھے گا اس پر اثر ضرور کرے گا۔

گرین اسٹار کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عزیز رب والد کا کردار ادا کر رہے ہیں اور سیریز میں نعمان سمیع لیڈ ہیرو ہیں۔ نعمان سمیع ایک پاکستانی ٹیلی ویژن اور فلمی اداکار ہیں۔ نعمان سمیع میں ہار نہیں مانوں گی، دلدل، ہیلپ می دردانا میں بھی کام کر چکے ہیں۔ 2019 میں انہوں نے تلاش کے ساتھ فلمی میدان میں قدم رکھا جسکو سراہا گیا تھا۔

رنسٹرا کی چیف تخلیقی آفیسر مصباح اسحاق خالد جو ویب سیریز کی تیاری اور ہدایت کاری بھی کر رہی ہیں نے کہا 'ابھی نہیں' کا موضوع میرے دل سے بہت قریب ہے اور میں نے ہر ایک کردار کو ایک جامع نقطہ نظر سے سامنے لانے کی کوشش کی ہے اور یہ دکھایا گیا ہے کہ کیسے فیملی کا ہر فرد اس سے متاثر ہوتا ہے اور وہ کس طرح اس بیماری سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔

2021  میں کینسر کی تمام اقسام میں سے 28 اعشاریہ سات فیصد کیسز چھاتی کے تھے۔ اس ویب سیریز میں مرکزی کردار سنارا جو بیس سال کی ابتدائی عمر کی ایک نوجوان لڑکی ہے جس نے آیان سے شادی کرنی تھی۔ تاہم بیرون ملک اپنے کام کے سفر کے دوران اسے چھاتی کے کینسر کی تشخیص ہوئی جب وہ شادی کی تیاریوں میں مصروف تھی جس کی وجہ سے وہ اس تعلق کو چھوڑنے کی کوشش کرتی ہے تاکہ وہ آیان کو اپنی بیماری سے بچائے۔ پانچ قسطوں پر مبنی کہانی کے دوران وہ بیماری سے لڑتے ہوئے اپنے قریبی لوگوں میں اعتماد کرتی ہے۔

رنسٹرا ٹیکنالوجیز کے چیئرمین اور شریک بانی ڈاکٹر عادل اختر نے کہا کہ آنکولوجسٹ ہونے کی وجہ سے میرے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ پاکستانی میڈیا انڈسٹری کے لئے اس طرح کی کہانی کا حصہ ہوں۔ چھاتی کا کینسر دنیا بھر میں موت کی سب سے اہم وجوہات میں سے ایک ہے اور ڈبلیو ایچ او کے اندازوں کے مطابق یہ دنیا بھر میں تشخیص کردہ کینسر کی اقسام میں سے دس فیصد ہے۔

انہوں نے کہا ہمیں یقین ہے کہ ابھی نہیں سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر آگاہی پیدا ہو گی۔ اس کوشش کے لئے ہماری توجہ ملک میں چھاتی کے سرطان کے بارے میں شعور بیدار کرنے کی ہے جس میں پاکستان میں بریسٹ کینسر کے خطرناک حد تک واقعات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا یہ بیماری بھی مہلک نہیں ہے اور قابل علاج ہے اگر چھاتی کے معمول کے معائنے کے ذریعہ جلد ہی اس کا پتہ لگایا جا ئے تو کینسر کے بعد کی زندگی کو بھی ویسے ہی جیا جا سکتا ہے جیسے کینسر سے پہلی کی ذندگی کو جیا جاتا ہے۔