کلر بلائنڈ لڑکا جرابیں بیچ کر کروڑ پتی بن گیا

کلر بلائنڈ لڑکا جرابیں بیچ کر کروڑ پتی بن گیا

اوریگن، امریکہ: دنیا میں کوئی بھی ایسا کام نہیں ہے جو ناممکن ہو اور اگر کسی میں قدرتی طور پر کائی جسمانی خامی ہے تو اس کا مطلب ہر گز نہیں کہ وہ کسی بھی طرح سے کمتر ہے اور وہ عام لوگوں کی نسبت اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لا سکتا ۔کلر بلائنڈ لوگ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو بنیادی رنگوں میں فرق نہیں کر پاتے اور ان کو نیلا،سرخ ،سبز رنگ ایک ہی طرح کا نظر آتا ہے  لیکن اس کے باوجود امریکہ میں 17 سالہ کلربلائنڈ لڑکے نے اپنی معذوری میں بھی ہمت دکھاتے ہوئے رنگ برنگی جرابیں فروخت کرنا شروع کیں اور اب تک وہ صرف چار سال میں 10 کروڑ روپے کما چکے ہیں۔


برینن اگرانوف جب 13 برس کے تھے تو ان کے ذہن میں ایک کمپنی بنانے کا خیال آیا تھا۔ وہ اوریگون کے شہر شیرووڈ میں ایک باسکٹ بال گیم دیکھ رہے تھے جس میں ان کی عمر کے دیگر بچے بھی موجود تھے۔ بچوں کی اکثریت سادے اور سفید موزے پہنے ہوئے تھی۔ ان کے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ مختلف ڈیزائن والے موزے بنائے جائیں تاکہ وہ لوگوں میں مقبول ہوسکیں۔

لیکن اس کے بعد انہوں نے ڈیجیٹل پرنٹنگ، جرابیں چھاپنے والی مشینوں پر تحقیق کے ساتھ ساتھ اپنے کاروباری منصوبے بھی تیار کئے۔ اس کے بعد انہوں نے کاروبار شروع کرنے کے لیے والدین سے قرض مانگا اور آخر کار انہیں 3 ہزار ڈالر مل گئے۔  اس کے بعد انہوں نے اپنے والدین سے کہا کہ وہ کھیلوں کی جرابیں جتنی ہوسکیں، خرید لیں۔ اس دوران انہوں نے کلربلائینڈ ہونے کے باوجود بھی 200 کے قریب رنگے برنگے ڈیزائن تیار کئے جن میں ایک پگھلتی ہوئی آئسکریم کون ’گوفی‘ اور پورٹلینڈ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قالین جیسے ڈیزائن شامل ہیں۔

انہوں نے ’ہوپ سواگ‘ کمپنی کی بنیاد رکھی اور سوشل میڈیا اور ویب سائٹ پر اپنے کام کا آغاز کیا۔ اب روزانہ انہیں 100 جرابوں کے آرڈر موصول ہوتے ہیں۔ اب تک وہ دس لاکھ ڈالر سے زائد کی رقم کماچکے ہیں اور اب ہوپ سواگ کی ٹائی اور دیگر اشیا فروخت کرنے کے منصوبے بنارہے ہیں۔