زیادہ حادثات ہونے کا تعلق عمر سے ہے

زیادہ حادثات ہونے کا تعلق عمر سے ہے

 زیادہ حادثات ہونے کا تعلق عمر سے ہے

لوواسٹی: ویسے تو روڈ حادثات عمر کے کسی بھی حصے میں ہوسکتے ہیں،ان کا عمر سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، تاہم زیادہ حادثات ہونے کا تعلق عمر سے ضرور ہے۔


اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ انسان جیسے جیسے بڑا ہوتا جاتا ہے، ویسے ویسے اس کے سمجھنے کی صلاحیت بھی بڑھتی چلی جاتی ہے، اور اس کی جانب سے غلطیوں کی گنجائش کم ہوتی جاتی ہے۔

عمر اور روڈ حادثات کا تعلق جاننے کے لیے امریکی ریاست لووا میں کی جانے والی ایک تحقیق سے پتہ چلا کہ زیادہ تر روڈ حادثات کم عمری اور ناسمجھی میں ہوتے ہیں۔

سائنس جرنل میں شائع تحقیق کے مطابق انسان جیسے جیسے بڑا ہوتا جاتا ہے، اس میں سمجھ آتی جاتی ہے، اور وہ گاڑیوں کی رفتار اور سڑک کے فاصلے کا اندازہ لگا کر ایک خاص وقت میں روڈ پار کرنے کی صلاحیت حاصل کرلیتا ہے، جو یقینا 6 یا 8 سال کی عمر میں حاصل نہیں ہوپاتی۔یونیورسٹی آف آئیوا کی جانب سے 6 سے 14 سال کے 8 ہزار بچوں کے مختلف گروپس پر کی جانے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ سب سے زیادہ روڈ حادثات چھوٹے بچوں کے ہوتے ہیں۔

تجربے کے لیے 6، 8، 10، 12 اور 14 سال کے بچوں کو کئی عرصے تک ایک مصنوعی لیبارٹری میں رکھا گیا، جہاں تھری ڈی گاڑیوں اور ٹریفک کا انتظام کرکے 9 فٹ چوڑی سڑک سے ہر ایک بچے کو کم سے کم 20 بار گزارا گیا۔

تحقیق کے بعد حاصل ہونے والے نتائج کے مطابق 6 سال کی عمر کے بچوں کے روڈ پار کرتے وقت گاڑی سے ٹکرانے کے 8 فیصد امکانات ہوتے ہیں، جب کہ 8 سال کے بچوں میں یہ تناسب 6 فیصد، اور 10 سال کے بچوں میں 5 فیصد ہوتا ہے۔ 12 سال کی عمر کے بچوں کے روڈ پار کرتے وقت گاڑی سے ٹکرانے کے 2 فیصد امکانات ہوتے ہیں، جب کہ 14 برس کے بچوں کے گاڑی سے ٹکرانے کے امکانات نہیں ہوتے۔

ماہرین کے مطابق کم عمر بچوں کو گاڑیوں کی رفتار اور ان کے درمیان فاصلے کا صحیح اندازہ نہیں ہوتا، اس وجہ سے ان کے ایک کے بعد دوسری آنے والی گاڑی سے ٹکرانے کے امکانات ہوتے ہیں۔ماہرین نے بتایا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بچوں کا مشاہدہ بھی بڑھتا ہے، اور انہیں ایک کے بعد دوسرے آنے والی گاڑی کے فاصلے، روڈ کے مفاصلے اور اپنے روڈ پار کرنے کے وقت کا بھی اندازہ ہوتا ہے، اس وجہ سے وہ درست حساب لگاکر روڈ پار کرتے ہیں۔

تحقیق کاروں نے تجویز پیش کی کہ کم عمر بچوں میں روڈ پار کرنے سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے والدین، اسکولوں اور حکومتی اداروں کو کام کرنا چاہئیے، انہیں بچوں کو نقشوں اور نشانات کی مدد سے گاڑیوں میں فاصلے کو نظر میں رکھ کر روڈ پار کرنے کے لیے تیار کرنا چاہئیے۔