دال میں کچھ کالا ہے، گزشتہ انتخاب میں چوتھے نمبر پر بھی نہ آنے والے جیت کیسے گئے: شاہد خاقان عباسی

دال میں کچھ کالا ہے، گزشتہ انتخاب میں چوتھے نمبر پر بھی نہ آنے والے جیت کیسے گئے: شاہد خاقان عباسی
سورس:   فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

کراچی: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ دال میں کچھ کالا نظر آرہا ہے ، این اے 249 میں جو چوتھے نمبر پر بھی نہیں تھے وہ کیسے جیت گئے ؟ ایسے الیکشن الیکٹڈ نہیں بلکہ سلیکٹڈ جیتا کرتے ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 249 میں 100 سے زائد فارم 45 دستخط کے بغیر ہیں اور 34 پولنگ سیٹشنز کے فارم 45 کا واٹس ایپ رزلٹ ریٹرننگ افسران کے پاس نہیں جبکہ 30 فارم 45 مسلم لیگ (ن) کو نہیں ملے۔ 

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ بہت سے ایسے فارم ہیں جن پر ٹوٹل ہی نہیں کیا گیا ، اتنی بے ضابطگیوں کے بعد دوبارہ گنتی کے سوا کوئی چارہ نہیں، اس سے پہلے ہونے والے انتخاب میں جو چوتھے نمبر پر بھی نہیں تھے وہ کیسے جیت گئے؟ ہمیں دال میں کالا نظر آرہا ہے اور معلوم ہوگیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے عزائم کیا ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں فخر ہے ہم نے سلیکٹڈ کا لفظ ملک کو دیا ،ہم نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں،اس الیکشن میں صوبائی حکومت براہ راست ملوث رہی ہے، میرا وفاقی وزیر اسد عمر کو مشورہ ہے کہ وہ خان صاحب سے کہیں کہ ملک کا جلدی پیچھا چھوڑ دیں۔ 

واضح رہے کہ این اے 249 ضمنی انتخاب میں حصہ لینے والے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار مفتاح اسماعیل کی درخواست پر الیکشن کمیشن کے دو رکنی کمیشن نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے حتمی نتائج روک دئیے ہیں، کمیشن نے موقف اختیار کیا کہ وہ درخواست سے مطمئن ہے اور یہ الیکشن کمیشن کی مداخلت کا کیس ہے۔ 

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ دوبارہ ووٹوں کی گنتی کی درخواست 4 مئی کو سماعت کیلئے مقرر کی گئی ہے جس کیلئے فریقین کو نوٹس جاری کردئیے گئے ہیں۔این اے 249کراچی میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوارمفتاح اسماعیل نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست دی تھی۔

یاد رہے کہ 29 اپریل کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی کے امیدوار قادر خان مندوخیل کامیاب قرار پائے تھے جبکہ مفتاح اسماعیل کچھ ووٹوں کے فرق سے دوسرے نمبر پر رہے تھے۔