سعید غنی بھی این اے 249 میں دوبارہ الیکشن کے حامی

سعید غنی بھی این اے 249 میں دوبارہ الیکشن کے حامی
کیپشن:   سعید غنی بھی این اے 249 میں دوبارہ الیکشن کے حامی سورس:   فائل فوٹو

لاہور: این اے 249 میں الیکشن جیتنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی نے مسلم لیگ ن کی طرف سے دھاندلی کے الزامات کے بعد حلقے میں دوبارہ انتخابات کی تجویز پارٹی کو دیدی۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی کا کہنا تھا کہ 2013 میں این اے249 سے الیکشن جیت چکا ہوں اور پیپلزپارٹی کا حلقے میں نام موجود تھا جبکہ شاہدخاقان عباسی کوغیرذمہ دارانہ بیان نہیں دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کوتجویزدی ہے کہ ری پول کی طرف جانا چاہیے، سوفیصد یقین ہے کہ ہم ری پول میں زیادہ مارجن سے جیتیں گے۔ پیپلزپارٹی واحد جماعت جس کے سو فیصد ورکرز پولنگ ایجنٹ اپنے تھے، پی ٹی آئی، (ن)لیگ کے اپنے پولنگ ایجنٹ نہیں تھے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ پیپلزپارٹی کوموردالزام ٹہرانا مناسب بات نہیں اور کسی ایک جماعت نے بھی حلقے میں شکایت نہیں کی جبکہ پی پی کراچی کا صدرہوں پورے الیکشن کومانیٹرکیا ہے اور ہم نے (ن)لیگ،پی ٹی آئی، ایم کیو ایم کے لوگوں سے ووٹ کے لیے رابطے کیے اور ہم نے این اے249حلقے میں محنت کی جس کے باعث جیت ہمارا مقدر بنی۔

خیال رہے کہ این اے 249 ضمنی الیکشن میں پیپلز پارٹی کے قادرخان مندوخیل 16156 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، ن لیگ کے مفتاح اسماعیل 15473 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

ٹی ایل پی کے نذیر احمد 11125 ووٹ لے کر تیسرے،   پی ایس پی کے مصطفیٰ کمال 9227 ووٹ لے کر چوتھے، پی ٹی آئی کے امجد آفریدی 8922  ووٹ لے کر  پانچویں اور ایم کیوایم کے حافظ محمد مرسلین 7511 ووٹ لے کر چھٹے نمبر پر رہے تھے۔