الوداع، الوداع…

الوداع، الوداع…

دوستو، آج انتیس واں رمضان المبارک ہے، آج افطار کے بعد رویت ہلال کمیٹی عیدالفطر کا چاند دیکھنے کے لئے بیٹھک لگائے گی۔۔ چاند نظر آگیا تو سمجھ لیں کہ ۔۔اس رمضان المبارک کا یہ آج آپ کا آخری روزہ ہے۔۔موسمیات اور فلکیات کے ماہرین تو کہہ رہے ہیں کہ چاند نظرنہیں آئے گا اور منگل کی عید ہوگی۔۔بہرحال اگر چاند نظر آجاتا ہے تو پھر سمجھ لیں کہ شیطان آزاد ہوجائے گا، شیطان کے پیروکار نہ بنیں اور پورے رمضان جو عبادات کی ہیں اس کا انعام اللہ سبحانہ تعالیٰ ’’چاند رات‘‘ کو دیتا ہے۔۔ اسے لیلۃ الجائزہ بھی کہاجاتا ہے۔۔جس طرح ایک مزدور پورے ماہ کام کرتا ہے پھر مالک اسے مہینے کے اختتام پر اجرت عطا کرتا ہے تو سمجھ لیں کہ چاند رات اجرت والی رات ہے۔۔ کوشش کیجئے گا کہ اپنے حقیقی مالک سے بھرپور اجرت وصول کرسکیں کیوں کہ اس کے خزانوں کے بارے میں جہاں آپ کی سوچ ختم ہوتی ہے وہاں سے اس کی عطا شروع ہوتی ہے۔۔تو چلئے شروع کرتے ہیں اپنی اوٹ پٹانگ باتیں۔۔۔

 رمضان المبارک کتنی جلدی ہم سے رخصت ہوگیا ،پتہ ہی نہیں لگا۔۔ باباجی فرماتے ہیں۔۔عورتیں افطار میں جتنا مرضی لیموں پانی، روح افزا، لسی اور ستو پی لیں لیکن ان کے کلیجے کو ٹھنڈ شوہر سے لڑائی کر کے ہی پڑتی ہے۔۔ رمضان المبارک کے ایک جمعہ کو ہمارے ساتھ ایک ’’سین‘‘ ہوگیا، اسے ’’شین‘‘ مت سمجھئے گا، ورنہ آپ کے ساتھ بھی کبھی عین،غین ہوسکتا ہے۔۔ہوا کچھ یوں کہ ۔۔جمعہ کی نماز پڑھنے اپنے علاقے کی جامع مسجد گئے، رمضان المبارک کی وجہ سے کافی رش کا اندازہ تھا اس لئے عین دوسری اذان کے وقت جانے کے بجائے کچھ پہلے جانے کی ٹھانی اور مسجد کے اندر سایہ دار جگہ میں ’’جگہ‘‘ بناکربیٹھ گئے۔ مولوی صاحب کا اردو میں خطاب یا بیان جاری تھا، بڑے پرجوش اور ولولے کے انداز میں وہ اپنی تقریر جاری رکھے ہوئے تھے، مولوی صاحب کے لہجے سے بالکل اندازہ نہیں ہورہا تھا کہ ان کا روزہ ہے(یہ ہمارے اندر کا راڈار بتارہاتھا،واللہ اعلم باالصواب)آواز میں گھن گرج، ہاتھوں کا فضا میں ہلانا، باربار ریش مبارک پر ہاتھ پھیرنا، روزے میں تو انسان بالکل ڈھیلا ڈھالا سا ہوجاتا ہے،(شاید یہ ہماری آبزورویشن ہو، ممکن ہے آپ اتفاق نہ کریں)، بہرحال مولوی صاحب کے خطاب کے دوران چندے کا بکس نمازیوں کے آگے کیا جا رہا تھا، بکس ہمارے سامنے پہنچا تو ہم نے بسم اللہ پڑھ کر جیب سے دس روپے کا کڑک نوٹ نکالا اور اسے چندہ بکس کے سپرد کرڈالا، ہمارے پیچھے بیٹھے صاحب نے اسی دوران ہمارا کاندھا ہلایاپھر ممکن ہے تھپکی دی اور پانچ سو کا نوٹ ہمارے ہاتھ میں تھمادیا،ہمارے دل میں ان صاحب کے لئے جذبات امڈ آئے، ہم نے وہ نوٹ پکڑا اور اسے بھی جلدی سے چندہ بکس کی نذر کردیا اور پلٹ کر ان صاحب کو بڑے عقیدت بھرے انداز میں کہا، جزاک اللہ جناب۔۔ وہ صاحب تھوڑا سا آگے کی طرف جھکے ، ہمارے کان کی طرف اپنا منہ لائے اور بہت ہی آہستہ سے بولے، احتیاط کیا کیجئے، یہ نوٹ آپ کی جیب سے گر گیا تھا۔

کہتے ہیں دنیا میں سب سے طویل روزہ پاکستانی صحافیوں کا تھا، جنہوں نے پورے ساڑھے تین سال بعد وزیراعظم ہاؤس میں افطاری کی۔۔شوہر سے قرآن مجید حفظ نہیں ہو رہا تھا، بیگم سے شکوہ کیا کہ ۔۔یہ بہت مشکل کام ہے،حفظ کی کوشش کرتا ہوں، اگلے دن پچھلا سارا سبق بھول جاتا ہوں۔۔بیگم نے قسم اٹھا کر یقین دلایا کہ اگر وہ ایک سال میں حفظ کرے تو وہ اس کی دوسری شادی کرا دے گی۔ پھر کیا تھا۔۔ شوہر نے چھ ماہ کی مدت میں سارا قرآن مجید حفظ کر لیا۔۔ اور بیگم صاحبہ نے تین دن روزے رکھ کر قسم توڑنے کا کفارہ دے دیا۔۔اب کچھ حالات ’’ہاجرہ‘‘ پر کچھ گفت و شنید ہوجائے۔۔ جی بالکل ٹھیک پڑھا آپ نے، ہم نے ’’ہاجرہ‘‘ ہی لکھا ہے، کیوں کہ یہ باتیں لڑکیوں سے متعلق ہی ہیں۔۔یہ وہ لڑکیاں ہیں جن کا کراچی میں اچانک لاپتہ ہونے کا شور مچا لیکن چند روز بعد عقدہ کھلا کہ انہوں نے اپنی اپنی پسند کا دلہا ڈھونڈ کر شادیاں بھی کرلی ہیں۔۔ ان میں دعازہرہ کاظمی، نمرہ اور دینار ہیں۔۔ ان کے گھر والوں نے میڈیا اور سوشل میڈیا پر بہت ہی ’’رولا‘‘ مچایا۔۔بچیوں کے لاپتہ ہونے کی دہائی دی لیکن جب تفتیش کارحرکت میں آئے تو پتہ لگا کہ سب نے اپنے اپنے پسند کی شادیاں کرلی ہیں۔۔ ہم ایک ایسے ہی نوجوان کو جانتے ہیں جس نے شرط رکھی کہ وہ اس لڑکی سے شادی کرے گا جو اچھا کھانا پکاناجانتی ہوگی۔۔آخر اس کے چچا نے ہمت کی اور اس نوجوان کو اپنی بیٹی سے شادی کی پیش کش کردی۔۔ نوجوان نے اپنی شرط چچا کو یاد دلائی جس پر چچا نے اس کو اگلے دن اپنے گھر مدعو کیا۔۔ نوجوان جب اپنے چچا کے گھر پہنچا تو چچا گھر کے باہر ہی اس کا انتظار کررہا تھا۔۔وہ اسے سیدھا مویشیوں کے باڑے میں لے گیا اور خوب موٹا تازہ پلا ھوا مینڈھا اس کو دکھا کر کہا کہ۔۔ بیٹا جی ذرا اس کو ذبح کر کے گوشت بنا لاؤ تا کہ تیرے مستقبل کی دلہن اس کو تیرے سامنے ہی پکا کر ہمیں کھلائے۔۔چچا نے ساتھ ہی مزید کہا کہ ۔۔ بیٹا میں نے بھی مینڈھا ذبح کر کے اپنے چچا کی بیٹی کو دیا تھا جس نے اسے بہترین طریقے سے پکا کر مجھے کھلایا تھا اورہماری شادی ہو گئی تھی ۔۔نوجوان کا رنگ پیلا پڑ گیا ۔۔وہ خجالت کے ساتھ بولا کہ ۔۔چچا جان زمانہ تبدیل ہو گیا ہے، آج کے نوجوان مینڈھے ذبح کرنا بھول گئے ہیں ۔۔چچانے نوجوان کی یہ بات سنی تو کہنے لگے۔۔آہستہ بولو بیٹا، اللہ کا ڈالا ہوا پردہ مت پھاڑو، اللہ تیرے پردے کو قائم رکھے، واقعی زمانہ تبدیل ہوگیا ہے، اب لڑکے مینڈھا ذبح کرنا بھول گئے ہیں ، بالکل اسی طرح لڑکیاں بھی کھانا پکانا بھول گئی ہیں۔۔تعلیم نے دونوں کو کسی قابل نہیں چھوڑا۔۔نوجوان نے چپ کر کے چچا کی بیٹی سے شادی کر لی اورہنسی خوشی رہنے لگے۔۔کھانے اور پیزہ باہر سے آتا رہا ۔۔واقعہ کی دُم: اپنا منہ شیشے میں دیکھ کر اس کے سائز کے مطابق ہی شرائط رکھنی چاہئے۔۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔ٹائم اور پیٹ کب ’’نکل‘‘ جاتا ہے، پتہ ہی نہیں لگتا۔۔۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

مصنف کے بارے میں