پنجاب میں نیب کا قانون اور سندھ میں اور ہے، شرجیل میمن

پنجاب میں نیب کا قانون اور سندھ میں اور ہے، شرجیل میمن

کراچی: پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن نے سندھ اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا جو شخص ملک میں نہیں اس کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا طریقہ کار سمجھ میں نہیں آیا۔ نئے چیرمین نیب سے گزارش ہے کہ نام ای سی ایل میں ڈالنے کے طریقہ کار جائزہ لیں۔ شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ نیب نے مجھے کوئی سمن جاری کئے بغیر ہی گرفتار کیا اور جیسے ہی اسلام آباد ایئرپورٹ پر طیارے کی آخری سیڑھی پر قدم رکھا تو نیب اہلکاروں نے پھرتی دکھاتے ہوئے مجھے گرفتار کر لیا جب کہ گرفتاری کے باوجود میرے پاس ضمانت کے کاغذات موجود تھے۔


انہوں نے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر عباسی کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب کیپٹن صفدر اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچے تو انہی نیب اہلکاروں کو ایئرپورٹ جانے کی اجازت نہیں تھی اس صورت حال کو کیا میں نیب کی مسلم لیگ (ن) سے محبت کا نام دوں۔ سابق صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ گزشتہ 7 ماہ سے ملک میں موجود ہوں اور ہر پیشی پر عدالت میں پیش بھی ہو رہا ہوں لیکن اس کے باوجود میرا نام تاحال ای سی ایل میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور ان کی پوری فیملی کے خلاف نیب ریفرنسز دائر ہیں جب کہ اسحاق ڈار ریفرنسز کے باوجود پوری دنیا میں گھوم پھر رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ نیب کے قانون میں میرے لیے اور میاں صاحب کے لئے دوہرا معیار کیوں ہے؟۔ 

شرجیل میمن کو سندھ اسمبلی اجلاس میں شرکت کیلئے بکتر بند گاڑی میں لایا گیا تھا  ۔ اسپیکر سندھ اسمبلی نے ملزم شرجیل میمن کی ایوان میں حاضری کو یقینی بنانے کے لئے پروڈکشن آرڈر جاری کئے تھے۔

یاد رہے سندھ کے محکمہ اطلاعات میں 5 ارب 76 کروڑ روپے کی مبینہ بدعنوانی کے معاملے پر احتساب عدالت نے گرفتار سابق صوبائی وزیر اطلاعات اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن سمیت دیگر ملزمان کو 4 نومبر تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں