فردوس عاشق کو کرمنل توہین عدالت کا نیا نوٹس جاری

فردوس عاشق کو کرمنل توہین عدالت کا نیا نوٹس جاری
آپ نے زیر سماعت مقدمات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فوٹو/ ریڈیو پاکستان

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین عدالت کیس میں فردوس عاشق اعوان کی معافی قبول کر کے کرمنل توہین عدالت کا نیا نوٹس جاری کر دیا۔ عدالت نے پیر تک تحریری جواب داخل کرانے کا حکم دے دیا۔


اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے فردوس عاشق کیخلاف توہین عدالت کیس محفوظ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کہا آپ کیخلاف توہین عدالت کا پرانا شوکاز نوٹس واپس لیا جا رہا ہے جبکہ کریمنل توہین عدالت کا نیا نوٹس جاری کیا جا رہا ہے۔ مطمئن کریں آپ نے جان بوجھ کر عدلیہ کی تضحیک نہیں کی۔ جج پر ذاتی تنقید، عدالتیں تحمل کا مظاہرہ کرتی ہیں اور عدالت اس حوالے سے آپ کی معافی قبول کرتی ہے۔

دوران سماعت چیف جسٹس ہائیکورٹ نے استفسار کیا آپ وزیراعظم کی معاون خصوصی ہیں؟۔ وزیراعظم عدلیہ بحالی مہم میں پیش پیش تھے اور 2 وجوہات کی بنیاد پر نوٹس جاری کیا۔ وزیر اعظم ہمیشہ رول آف لا کی بات کرتے ہیں اور آپ نے زیر سماعت مقدمات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ آپ نے عدلیہ کو سکینڈلائز کرنے کی کوشش کی اور میرے بارے میں جو کہیں مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔

عدالت نے کہا آپ سے ہرگز یہ امید نہیں تھی اور ہائی کورٹ کے رولز پڑھ کر سنائیں جس پر فردوس عاشق اعوان نے ہائیکورٹ کے رولز پڑھ کر سنائے کہ چھٹی کے روز بھی کیس سنا جا سکتا ہے۔ چیف جسٹس کی غیر موجودگی، سنیئر جج فوری نوعیت کا کیس سن سکتے ہیں۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا وزارت قانون نے نہیں بتایا تو ان وکلا سے پوچھ لینا تھا۔ مجھے اپنے ججز پر فخر ہے اور ایک سال میں ریکارڈ کیسز نمٹائے جس طرح آپ نے ہرزہ سرائی کی کہ کاش عام آدمی کیلئے بھی عدالت لگے اور ہم تو بیٹھے ہی عام لوگوں کے لیے ہیں۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا بہتر ہوتا آپ سیاست کو عدلیہ سے الگ رکھتیں اور آپ ایک عام شخصیت نہیں بلکہ وزیراعظم کی معاون ہیں۔ کیا آپ کبھی ڈسٹرکٹ کورٹ گئیں ؟ صدر بار ایسوسی ایشن آپ کو ضلعی عدالتوں کا دورہ کرائیں، کبھی انتظامیہ کو ان عدالتوں کا خیال نہ آیا، ان عدالتوں میں عام لوگوں کے کیسز ہوتے ہیں اور جا کر دیکھیں کچہری میں ججز کے لیے ٹوائلٹ تک نہیں۔ ہمارے فیصلے بولتے ہیں اور وہی لوگوں کا اعتماد ہے۔ ہمارے فیصلے سے آدھے لوگ خوش ہوتے، آدھے ناراض ہیں۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا آپ کا عدلیہ تحریک میں بڑا کردار ہے جس پر چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا اُس بات کو آپ رہنے دیں یہاں۔