پلوامہ حملے سے متعلق نریندر مودی کا بیان گمراہ کن ہے، ترجمان دفتر خارجہ

narendra-modi's-statement-on-pulwama-attack-is-misleading-foreign-office-spokesman
کیپشن: FILE PHOTO

اسلام آباد: پاکستان نے پلوامہ حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے سے متعلق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بیان کو دو ٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے پاکستان کی قومی اسمبلی میں ایک وزیر کے تبصرے کا حوالہ دینا اور اسے توڑ مروڑ کر پیش کرنا گمراہ کن ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کی طرف سے ہفتہ کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزیراپنے ریمارکس میں 26 فروری 2019ء کو دن کی روشنی میں اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت کی غیر قانونی مہم جوئی کا پاکستان کی مسلح افواج کی طرف سے دیئے گئے منہ توڑ جواب کا حوالہ دے رہے تھے جسے توڑ مروڑ کر پیش کرنا ایک شرمناک عمل ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ یہ بی جے پی کی قیادت کا پاکستان کے ساتھ لا علاج جنون ہے اورہمیشہ سے اپنی ناکامیوں اورکوتاہیوں کا الزام پاکستان پر عائد کرنے کا ہمیشہ سے بھارت کا وطیرہ رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بی جے پی کی قیادت کو مشورہ ہے کہ پاکستان مخالف جذبات کو ابھارکر اپنے ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کے بجائے بھارتی عوام کی توقعات پر پورا اترنے اور حقیقی کارکردگی کا مظاہرہ کرکے ووٹروں کی حمایت حاصل کرے۔

یہ انتہائی قابل ذکر ہے کہ ووٹرزکی حمایت بڑھانے کےلئے پاکستان پر الزامات لگانا بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی کا ایک حصہ اور وطیرہ رہا ہے بلکہ عوام کی توجہ ملکی مسائل اور خارجہ پالیسی کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش رہی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ فروری 2019ء کے پلوامہ حملے کا سب سے زیادہ فائدہ بی جے پی حکو مت کو ہوا جس کے نتیجہ میں پلوامہ حملے کے بعد پاکستان مخالف مہم سے بی جے پی کو لوک سبھا انتخابات میں واضح اکثریت ملی۔ بھارتی قیادت کا وطیرہ ہے کہ وہ اپنی ناکامیوں کا الزام پاکستان پر لگاتی ہے اور بھارت آج تک پلوامہ حملے میں پاکستان کے مبینہ ملوث ہونے کا کوئی بھی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔