سیاست ……ایک بے رحم کھیل

سیاست ……ایک بے رحم کھیل

آہ!!!ارشد شریف شہید!! پاکستان کی صحافت ایک اچھے دوست سے محروم ہوگئی،ارشد شریف کامیرے ساتھ ا س وقت سے تعلق تھا جب میں 2004 ء  ایک بڑے قومی اخبارکا اسلام آباد کاچیف رپورٹر تھا اورمیرے بڑے بھائی فیصل خان درانی ڈپٹی ایڈیٹر رپورٹنگ تھے،ان دنوں میں سکھرسے ٹرانسفر ہوکراسلام آباد آیا اور اکثر میڈیاکانفرنسز میں شہید سے ملاقات ہوتی،ارشدشریف ہمیشہ چہرے پراپنے معصوم سوالات کے باعث مسکراتے رہتے،اس وقت چونکہ نجی ٹی وی چینلز کابہت کم رجحان تھا،دوسے ایک چینل تھے وہ بھی اپنے ارتقائی مراحل میں تھے،لیکن اردوانگریزی اخبارات اورعالمی نیوزایجنسیاں پاکستان کی سیاست میں بہت اہم مقام کی حامل تھیں،1999ء میں سابق وزیراعظم محمدنوازشریف حکومت کے خاتمہ اورافغانستان کی صورتحال کے باعث ملکی سیاست انتہائی پیچیدہ ہوچکی تھی،نیم مارشلائی نظام تھا،جمہوریت تھی بھی اورنہیں بھی،سول مارشل لاء تھابھی اورنہیں بھی،اس دورمیں بھی ارشد شریف ملکی صحافت میں اہم گرداناجاتاتھا،چونکہ وہ فوجی گھرانے سے تعلق رکھتاتھااس لئے عام ڈیفنس رپورٹرکی نسبت پاک فوج سے اس کی والہانہ محبت اورجذبہ دیدنی تھا مگرانجانے میں وہ اسی لگن میں ایک ایسی وکٹ پرجاکرکھیلنے لگاجس کے منفی اثرات ہمارے سامنے ہیں،آپ ارشدشریف کے نکتہ نظرسے اختلاف کرسکتے ہیں مگرجوکچھ ہوا اس سے نظریں بھی نہیں چراسکتے،قوم کواس بہیمانہ قتل کے باعث ورطہ حیرت میں ہے،حکومت،اپوزیشن اورقومی ادارے بھی اس واقعہ پرپریشان ہیں،حکومت اپوزیشن اوراپوزیشن حکومت پراس قتل کی ذمہ داری ڈالنے کیلئے بیان بازی کررہی ہے اورچاہتی ہے کہ کسی طرح سے اس کامدعا حکومت اورقومی اداروں پرگرے اوراقتدارہمار ی جھولی میں آگرے۔

سیاست بلاشبہ ایک بے رحم کھیل ہے،اس میں کبھی بھی دوست دشمن اوردشمن دوست ہوسکتے ہیں کیونکہ یہ دنیاوی اقتدار کی خصوصیات ہیں جن کوہم جمہوریت حسن کہتے ہیں،مگرحقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ پاکستان میں جمہوریت زرہ مختلف نوعیت کی ہے،سابق وزیراعظم لیاقت علی خان کاقتل،سابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹوکا مبینہ عدالتی قتل اورسابق وزیراعظم بے نظیربھٹوشہید کے قتل سے جڑے حالات وواقعات ہمارے سیاسی تاریخ کاسیاہ باب ہیں مگرافسوس کے اس میں صرف سویلین حکمران ہی نشانہ عبرت بنائے گئے،اوراسی لئے ہماری اسٹیبلشمنٹ تاریخ کے سامنے جواب دہ رہتی ہے،اب ایک صحافی کے بہیمانہ قتل پربھی ہماری اسٹیبلشمنٹ قوم اپنے صفائی دے رہی ہے،اللہ نہ کرے کہ ہماری فوج کے سینے پرایسے گھناؤنی سازش کے تمغے سجیں،ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل بابرافتخاراورڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی ہنگامی نیوزکانفرنس میں جن نکات پربات چیت ہوئی وہ قومی تاریخ کے ریکارڈ کاحصہ ہوگی کیونکہ یہ ایک غیرمعمولی پریس کانفرنس تھی جوظاہرکرتی ہے کہ شہید ارشدشریف کی شہہادت ایک معمولی واقعہ نہیں بلکہ اس سے جڑے پس پردہ کئی رازپوشیدہ ہیں جن کاقوم کے سامنے آناضروری ہے،ان پوشیدہ رازکابراہ راست تعلق قومی سیاست اورقومی اداروں کی ناموس سے ہے،اس لئے انہیں آشکارہوناچاہئے۔کیونکہ شہید گندگی سیاست کی بھینٹ چڑھے ہیں۔

اس وقت دوبیانئے ہیں،ایک سیاسی بیانیہ ہے اوردوسرا ادارہ جاتی بیانہ ہے،سیاسی بیانے کے مطابق تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اوران کے پیروکاراس بات کوپروموٹ کررہے ہیں بلکہ یہ ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ یہ قتل مسلم لیگ (ن)کی حکومت اوران سے جڑے نامعلوم افراد سے ہے،اس بیانئے کے مطابق شہید کوصحافتی حوالے سے خاص سکول آف تھاٹس کے باعث ملک سے نکلنے پر مجبور کیا گیا اورکینیا میں اس کام کوانجام دیاگیاجبکہ حکومتی اورادارہ جاتی بیانیہ ہے کہ یہ الزامات ہیں اوراس کامقصد سیاسی مقاصد کوحاصل کرناہے،کیونکہ شہید کوتحریک انصاف کے سربراہ اوران کی خیبرپختونخواہ کی صوبائی حکومت نے بیرون ملک جانے کیلئے سہولت کاری کی جبکہ انہیں ملک میں جان کاخطرہ نہیں تھا،بحرحال اب جوکچھ ہوناہے وہ تحقیقات میں سامنے آئے گا،پاکستانی تحقیقات کارکینیا پہنچ چکے ہیں،اس کہانی کے اصل کردارکینیا میں پاکستانی بزنس مین بھائی وقاراحمداورخرم احمدہیں،کیاسچ ہے؟؟ کیاجھوٹ ہے؟؟یہ بڑے مہرے ثابت ہوں گے جس کے کردار یقینا پاکستان میں ہوں گے جواس ساری کاروائی کومانیٹرکررہے ہوں گے،کیونکہ یہ بات اب تک کے حالات وتجزیوں کے مطابق حادثہ نہیں بلکہ ٹارگٹ کلنگ کاشاخسانہ ہے،میں اس بات پرمطمئن ہوں کہ قومی ادارے اس واقعہ پرفوکسڈ ہیں اوراس کاضرورنتیجہ نکلے گا اورشہید کاخون رنگ لائے گا۔ویسے بھی اس خاندان کے شہیدوں کاخون کاہم پرقرض ہے۔

اطلاعات ہیں کہ حکومت اورتحریک انصاف کے درمیان باقاعدہ بیک ڈورمذاکرات نہیں ہورہے ہیں،وزیراعظم محمدشہازشریف کوعمران خان نے جس کاروباری دوست کے زریعے پیغا م رسانی کی ہے اس پروزیراعظم شہبازشریف نے اصولی مؤقف اپنایاہے کیونکہ بات لانگ مارچ اورملکی سیاسی صورتحال کی نہیں بلکہ اصل بات نومبرمیں آرمی چیف کی تعیناتی ہے جس پرسابق وزیراعظم عمران خا ن اوران کی ٹیم پریشان ہے،اسی لئے ایوان صدرمیں صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی کی موجودگی میں عمران خان نے آرمی چیف کوتوسیع دینے کی حامی بھری کہ اگرن لیگ سے توسیع لینا ہے!! تواس قربانی کیلئے ہم حاضرخدمت ہیں!!اسی لئے میں کہتاہوں کہ سیاست ایک بے رحم کھیل ہے جس میں دوست اوردشمن کے بدلتے دیرنہیں لگتی۔

آخرمیں ملک کے آئینی وقانونی ماہرین کو صدر مملکت، آرمی چیف اورعمران خان کی ایوان صدر میں ہونے والی ملاقات اورزیربحث سیاسی معاملات اورتوسیع کی آفر پر اپنی رائے دیناچاہئے کہ ہمارے صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی کاکنڈکٹ کیسا رہا؟؟ کیا وہ  اپنے حلف کی پاسداری کررہے ہیں؟؟کیاوہ تحریک انصاف کی لائن ٹوکررہے ہیں؟؟کیایہ ان کے حلف کی خلاف ورزی ہے؟

مصنف کے بارے میں