توشہ خانہ ریفرنس، نواز شریف کے اثاثے اور جائیداد ضبط کرنے کا حکم

توشہ خانہ ریفرنس، نواز شریف کے اثاثے اور جائیداد ضبط کرنے کا حکم
کیپشن:   احتساب عدالت کے جج سید اصغر علی نے نواز شریف کی جائیداد ضبطی کے احکامات جاری کیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: احتساب عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی جائیداد ضبطی کے احکامات جاری کر دیے۔احتساب عدالت نے نواز شریف کی اثاثے اور جائیداد ضبط کرنے کے لیے نیب سے ریکارڈ طلب کیا تھا جو اب نیب کی جانب سے پیش کر دیا گیا ہے۔

نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں جمع کرائی گئی تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم کے نام پر لاہور میں 1650 کنال سے زائد زرعی اراضی شامل ہے۔ پراپرٹیز، گاڑیاں اور بینک اکاؤنٹس بھی شامل ہیں۔

نیب کی جانب سے لاہور کے نجی بینک میں نواز شریف کے نام پر ملکی و غیر ملکی رقوم کی تفصیلات بھی عدالت میں پیش کی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ نیب رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مری میں بھی نواز شریف کے نام پر جگہ ہے جب کہ شیخوپورہ میں بھی 102 کنال زرعی اراضی سابق وزیراعظم کے نام پر ہے۔

احتساب عدالت کے جج سید اصغر علی نے نواز شریف کی جائیداد ضبطی کے احکامات بھی جاری کر دیے۔

عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس میں نواز شریف کی جائیداد ضبطی کے احکامات جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

خیال رہے کہ قومی احتساب بیورو کی جانب سے توشہ خانہ ریفرنس دائر کیا گیا تھا جس میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف پر غیر قانونی طور پر گاڑیاں الاٹ کرنے کا الزام ہے۔

اس ریفرنس میں اومنی گروپ کے سربراہ خواجہ انور مجید اور خواجہ عبدالغنی مجید بھی ملزم نامزد ہیں۔

ریفرنس کی 9 ستمبر کی سماعت میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، عبدالغنی مجید اور انور مجید پر فرد جرم عائد کردی تھی جبکہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو اشتہاری قرار دیا تھا اور ساتھ ہی احتساب عدالت کے جج نے نواز شریف کے کیس کو الگ کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ 11 جون کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ سے قیمتی گاڑیاں اور تحائف وصول کرنے سے متعلق ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔