نواز شریف کو الیکشن پر اعتراضات ہیں تو الیکشن کمیشن اور عدالتوں سے رجوع کریں، شبلی فراز

نواز شریف کو الیکشن پر اعتراضات ہیں تو الیکشن کمیشن اور عدالتوں سے رجوع کریں، شبلی فراز
اس وقت نواز شریف خود جمہوریت کے دشمن بنے ہوئے ہیں، شبلی فراز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے نواز شریف کے پارٹی رہنماوں سے کئے گئے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے کہا فیصلہ کرنا ہو گا کہ نواز شریف کی تقاریر کی اجازت کس طرح دی جائے جبکہ میڈیا جیلوں میں جائے اور دیگر مجرموں کی تقریریں بھی سنائے اور نواز شریف اس ملک کیخلاف تقریریں کر رہے ہیں جہاں سے منی لانڈرنگ کے ذریعے اربوں ڈالر کے اثاثے بنائے۔


ان کا مزید کہنا تھا نواز شریف نے اثاثے کیسے بنائے اور کیسے باہر لے گئے ان سوالات کے جواب کیوں نہیں دیتے۔ اس وقت نواز شریف اور بانی متحدہ کے خطاب میں کوئی فرق نہیں رہا کیونکہ لندن میں بیٹھ کر نواز شریف نیلسن منڈیلا بنے خطاب کر رہے ہیں۔

انہوں نے نواز شریف کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر نواز شریف اور مسلم لیگ ن کو الیکشن نتائج پر اعتراضات ہیں تو الیکشن کمیشن جاتے اور عدالتوں سے رجوع کرتے ایسے شور شرابا کرنے سے کچھ نہیں ہو گا۔ 

انہوں نے بتایا کہ 2018ء کے الیکشن میں 287 پیٹشن میں سے آدھی تو تحریک انصاف کی تھیں اور ہمیں اعتراض تھا کہ 45 حلقوں سے ہمارے امیدواروں کو جیتنا چاہیے تھا۔ پنجاب میں تحریک انصاف کی 13، (ن) لیگ کی 11 پیٹشن تھیں تو یہ کیسے دھاندلی ہوئی اور یہ اب اپنے آپ کو بچانے کے لیے الزامات لگا رہے ہیں۔

انہوں نے نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کس نے آپ کو کہا کہ آپ کا خاندان ہمیشہ اقتدار میں رہے گا اور نواز شریف بدگمانی کے بجائے حقائق پر بات کریں سب کو نواز شریف کے بیک گراؤنڈ کا پتا ہے۔ شبلی فراز نے مزید کہا کہ اس وقت نواز شریف خود جمہوریت کے دشمن بنے ہوئے ہیں اور وہ اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ شخص ملک کا تین بار وزیراعظم رہا لیکن ادارے بنانے کے بجائے انہیں تباہ کیا جبکہ ملک کی معیشت اور پاکستان کے کردار کا ستیاناس کر دیا۔ نواز شریف نے مہنگے معاہدے کیے جس وجہ سے آج بجلی مہنگی ہے۔ ڈالر کو مصنوعی طور پر برقرار رکھنے کے لیے 23 ارب لگائے گئے۔ ڈالر کو مصنوعی طریقے سے برقرار رکھ کر ملکی معیشت کو تباہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور میں ایکسپورٹ کم ہوئی جبکہ ایجوکیشن اور صحت پر بھی پیسہ نہیں لگایا گیا کیونکہ وہ تو سارا کچھ اپنے خاندان کے لیے کر رہے تھے۔