افغان مفاہمتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ کے مشیر نے امریکی فوج کے فوری انخلا کی مخالفت کردی

افغان مفاہمتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ کے مشیر نے امریکی فوج کے فوری انخلا کی مخالفت کردی
عمران خان کے بیان سے متفق ہیں کہ افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا فوری طور پر نہیں ہونا چاہیئے، مجیب رحیمی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فوٹو/ اسکرین گریب

لاہور: افغان مفاہتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ کے چیف ایڈوائزر ڈٖاکٹر مجیب رحیمی نے نیو نیوز کے پروگرام حرف راز میں سینئر تجزیہ کار اور کالم نگار اوریا مبقول کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے دورے کے دوران حکومتی عہدیداروں کے درمیان ملاقاتیں کی ہیں اور اس وقت ہمارا بنیادی فوکس بھی امن پر ہے۔ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذکرات شروع ہو چکے ہیں اور یہ مذاکرات کا پہلا مرحلہ ہے۔ اس پہلے مرحلے میں طریقہ کار واضح کرنا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کیسے ہوں گے اور امن عمل کو آگے کیسے بڑھایا جائےڈ ان کا مزید کہنا تھا کہ دوسرا مرحلہ ایجنڈے پر عمل درآمد اور امن مذاکرات کا ہو گا جیسا کہ متنازعہ مسائل کے حوالے سے ابھی تک باتیں چل رہی ہیں۔ مذاکراتی ٹیمیں ملاقات کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں گی، بقیہ مسائل جس کے بارے میں اس وقت بات چل رہی ہے اور اس کا بنیادی نقطہ یہ تھا جو طالبان کی طرف سے ایک تجویز بھی تھی کی فرقہ حنفی کو اس مسئلے پر کھڑا کرنا چاہیئے، تاہم اس کے ساتھ اگر افغانستان کے حوالے سے دیکھا جائے تو وہاں پر فقہ جعفرایہ سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا طالبان کی اس تجویز کے بارے میں افغان حکومت کا موقف ہے کہ اگر وہ مذہب کو حوالہ بناتے ہیں تو پھر افغان حکومت کو جعفری فرقے کو بھی اس میں شامل کرنا پڑے گا لیکن اس قانون پر معاہدہ موجود ہے جو متنازعہ نہیں ہے۔


ڈٖاکٹر مجیب رحیمی نے کہا کہ دوسرا مسئلہ وہ معاہدہ ہے جو طالبان اور امریکیوں کے درمیان ہوا تھا اور طالبان اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مذاکرات کی بنیاد وہ معاہدہ ہو گا جس میں انہوں نے یہ تجویز رکھتی تھی لیکن افغان حکومت کا موقف ہے کہ ہم اس کو ریفر کر سکتے ہیں جبکہ افغانستان اور امریکا کے درمیان قرارداد کے طور پر اور جو دونوں فریقین کی قیادت مذاکرات میں طے کرے گی  پھر اس کی بنیاد پر افغان مفاہتی کونسل طالبان سے علیحدہ سے مذاکرات کرے گی۔ 

انہوں نے کہا کہ طالبان اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مذاکرات اس معاہدے کی بنیاد پر ہوں جو دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہوا تھا لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کس طرح سے باقی مسائل کا حل بہتر انداز میں نکالا جائے۔ 

اوریا مقبول کے سوال پر جس میں انہوں نے رجب رحیمی سے پوچھا کہ طالبان تو شریعت اور شوریٰ کی بات کرتے ہیں اور اپنے طریقہ کار کے ذریعے افغانستان کو چلانا چاہتے ہیں ، جس کے جواب میں ڈاکٹر رجب رحیمی کا کہنا تھا کہ ہم ابھی جس پوائنٹ پر بات کر رہے ہیں اس پر ہم ابھی نہیں پہنچے، لیکن حقیقت میں توجہ کا مرکز اس وقت طریقہ کار ہی بنا ہوا ہے لیکن یہ ایک ایجنڈے کے مطابق ہو گا اور اگر ایک بار ہم ایجنڈے کی طرف بڑھ سکیں اور دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات شروع ہو جائیں پھر ان چیزوں کو بھی دیکھا جائے گا جیسے کہ پاکستان میں الیکشن ہوتے ہیں اور اس میں لوگوں کی مرضی ہوتی ہے اور لوگ الیکشن میں شرکت بھی کرتے ہیں جبکہ مختلف پارٹیوں کے نمائندے الیکشن لڑتے ہیں اور یہ سب حکومت کو چلانے کے لئے ہی ہوتا ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اسلام میں ایسا کوئی قانون نہیں دیکھا کہ زبردستی شریعت نافذ کی جائے ۔ ہمارے کئی اسلامی ممالک میں الیکشن کا قانون نہیں ہے جبکہ افغانستان میں ہم کئی سالوں سے اس قانون پر عمل کر رہے ہیں اور حکومتی ادارے پچھلے 16 سال سے اس بات کا ثبوت دے رہے ہیں کہ الیکشن ریاستی عمارت کو مستحکم اور مضبوط کرنے کا طریقہ کار ہے جبکہ حکومتی ادارے الیکشن کی طرف جاتے ہی اس لئے ہیں کہ وہ الیکٹڈ باڈی کو الیکٹ کر سکیں۔ 

انہوں نے طالبان کے مائنڈ سیٹ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میرے خیال کے مطابق لوگوں کی خواہش اور مرضی تو ہو سکتی ہے لیکن افغانستان کی حکومت آئین کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ طے کرتی ہے کہ حکومتی ادارے اور نظام کیسے چلے گا۔ یہ سب صرف اور صرف الیکشن کی صورت میں ہی ممکن ہو گا۔  مجھے امید ہے کہ طالبان اب بدل چکے ہیں یا پھر بدلنے کے پروسیس میں ہیں ۔ یہ لوگ مختلف ممالک میں سیر کرتے ہیں اور لوگوں سے ملتے جلتے ہیں۔ اور دنیا میں اس وقت کوئی بھی حکومت الیکشن کے بغیر نہیں چل سکتی۔ ایک دوسرے سے مقابلہ بازی اور ریاستی تکنیکی پہلو کے بغیر ایک انسان پر یقین رکھتے ہوئے کہ وہ ملک کی قسمت بدل سکتا ہے یہ ایک مسئلہ ہو گا لیکن پھر بھی افغان حکومت کوشش کرے گی کہ مذاکرات کے بعد اس کا کوئی حل نکالا جائے۔ 

امریکی فورسز کی واپسی کے حوالے سے مجیب رحیمی نے کہا ہے کہ عمران خان کے بیان سے متفق ہیں کہ افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا فوری طور پر نہیں ہونا چاہیئے جو ملک میں منفی اثرات لا سکتا ہے اور امن کی کوششوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ طالبان اور امریکییوں کے درمیان جو معاہدہ ہے وہ ایک شرط پر ہے اور یہ معاہدہ دونوں کے ہاتھ میں ہے کہ افغانستان میں فورسز میں کمی اور واپسی ہو گی یا نہیں۔

دوسری طرف موجودہ صورت کے حوالے سے بات کریں تو افغانستان کی حکومت پچھلے دس سال کی نسبت اب اور زیادہ طاقتور ہے۔ ہمارے پاس آرمی ہے اور کام کرنے کے لئے ادارے موجود ہیں جبکہ کوئی بھی بین الاقوامی تعلقات اب دو طرفہ حکمت عملی کی بنیاد پر طے ہونگے اور اٖفغانستان امریکا، یورپی یونین یا ہمسائیہ ممالک کے بغیر یہ سب نہیں کر سکتا۔ موجودہ صورتحال میں اب ہم جس معاملے پر بات کر رہے ہیں کہ افغانستان میں کوئی بھی پالیسی چاہیے وہ علاقائی ہو یا بین الاقوامی ہو اس کو امن معاہدے پر یا پھر گراونڈ لیول پر منفی اثراث مرتب نہیں کرنا چاہیئے۔ 

افغان مفاہتی کونسل کے چئیرمین عبداللہ عبداللہ کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر رجب رحیمی نے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ دو ممالک کے درمیان تعلقات میں اتار چڑھاو آتا رہتا ہے، پاکستان ہمارے ہزاروں مہاجرین کی مہمان نوازی کر رہا، اب ہم پاکستان کے ساتھ نئے باب کو کھولنا چاہتے ہیں لیکن میں جس بات پر زور دینا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہمیں اب سرد جنگ کی ذہنیت کے ساتھ نہیں چلنا چاہیئے اور نہ ہی تاریخ میں جانا چاہیئے کیونکہ ماضی میں چیزیں مختلف طریقوں سے ہوئی ہوں گی اور غلطیاں بھی دونوں اطراف سے ہوئی ہوں گی لیکن اب افغان قیادت پاکستان کے ساتھ ایک نئے باب کو شروع کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئے تعلقات استوار کرنے کے بعد ممکن ہے کہ افغانستان کی قیادت اور پاکستان کی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان پیدا ہونے والے نئے روابط ایک آزاد اور خوشحال افغانستان اور پاکستان کے قومی مفاد کی خدمت کریں۔ افغانستان اپنی مرضی سے امن بحال کرنا چاہتا ہے اور یہ ہمارا واضح موقف ہے کہ افغانستان اور پاکستان ایک دوسرے کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کریں گے۔ 

ڈاکٹر رجب رحیمی نے افغانستان ، پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونیوالی غلط  فہمیوں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر جواب دیا کہ افغانستان کی یہ خوش قسمتی ہے کہ اس کے تمام ہمسائیہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اگر کہیں کوئی مسئلہ آتا بھی ہے تو ہم اسکو حل کرنے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں ۔ ہم کسی بھی ادارے اور ملک کے ساتھ کوئی مسئلہ یا پریشانی نہیں چاہتے۔ نہ ہی کسی گروپ اور تنظیم کی مداخلت کو چاہتے ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا میرے خیال میں علاقائی سطح پر ہمارے کئی ہمسائیہ ممالک کے ساتھ تعلقات ٹھیک نہیں ہیں لیکن ہم دعا کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں کہ افغانستان کے دوسرے ممالک کے ساتھ جو بھی معاملات خراب ہیں ان کو جلد ٹھیک کریں اور دونوں ممالک کی عوام اور حکومت کے درمیان باہمی عزت کا رشتہ قائم ہو جبکہ ہم افغانستان کے مستقبل کے لئے پرعزم ہیں۔ 

افغان عوام نے گزشتہ 19 سال میں ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے ہمسائیہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔ طالبان کا ایک اپنا نظریہ ہے اور وہ شریعت کی بات کرتے ہیں اور اکثریت افغان طالبان کی باتوں کی دھونس سے نہیں مانتی۔ ڈاکٹر رجب رحیمی نے کہا کہ اپنے لوگوں کو قتل کرنا کوئی دانشمندی نہیں ہے، اب یہ افغانیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، مسجدوں اور سکولوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، اور معصوم شہری جو بڑے شہروں میں رہتے ہیں۔ طالبان افغانستان کے کسی بھی بڑے شہر میں مکمل طور پر قابض نہیں ہیں کیونکہ حکومت کی رٹ اور زیادہ مضبوط ہو گئی ہے۔