مقصود بٹ کی دنیا

مقصود بٹ کی دنیا

چند دن سے جب بھی کالم لکھنے کے لیے قلم اٹھاتا تو دماغ، دل اور روح قلم اور قرطاس کے درمیان کھڑے ہو جاتے۔ ایک پیہم اور گہرا صدمہ اپنے گرفت بلکہ خیال کو بھی مبتلا کیے ہوئے ہے۔ پچھلے ہفتے چھوٹے بھائی ذوالفقار بٹ (ڈی ایس پی) کا فون آیا ویسے تو روزانہ بات ہوتی ہے اور ملاقات بھی لیکن اس فون میں وہ مجھے لگا جیسے کسی ناقابل تلافی نقصان اور ناقابل بیان صورت حال سے دوچار ہیں۔ میرے والد صاحب کہا کرتے تھے کہ وہ شخص احمق ہے جو فون پر کسی کی ہیلو سے اس کی کیفیت اور رجحان نہیں پہچانتا۔ میں نے ذوالفقار بھائی سے کہا، خیریت ہے۔ کہنے لگے، ڈیوٹی سخت تھی پھر رات کو مقصود بٹ صاحب کے پاس رہا۔ میں نے پوچھا، خیریت ہے۔ کہنے لگے، ہاں خیریت ہے بس ان کا بیٹا بیمار ہے، میں نے بے اختیار کہا کہ اللہ کریم زندگی اور صحت دے، کیا ہوا اور کونسا بیٹا؟ وہ کہنے لگے جو اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل رہا ہے۔ لندن سے قانون کی ڈگری کے بعد لاہور کے ایک معروف کالج میں پڑھاتا بھی رہا ہے۔ میں نے پوچھا، کیا ہوا۔ کہنے لگے کہ دل کی تکلیف ہے۔ انہوں نے دوبارہ فون کیا اور 10/15 منٹ میں مجھے خبر دی کہ وہ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ یہ خبر انہوں نے قسطوں میں سنائی، اس کی وجہ مجھے جاننے والے جانتے ہیں، کیا ہو سکتی ہے۔ حساسیت سزا ہے۔ یہ حساس لوگ جانتے ہیں اور وفا مرض ہے جو زندگی کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔ بہرحال ان کا کہنا کہ عاصم عزیز ایڈووکیٹ مقصود بٹ صاحب کا بیٹا رخصت ہو گیا۔ مجھے خیال آیا کہ وہ کہاں رخصت ہوا وہ تو بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہو گیا، رخصت تو مقصود احمد بٹ صاحب اور ان کے خاندان کی دنیا ہو گئی۔ اب تو بقول گلزار صاحب کے مقصود بٹ بھائی کے لیے تو

سانس لینا بھی کیسی عادت ہے

جیئے جانا بھی کیا روایت ہے

کوئی آہٹ نہیں بدن میں کہیں 

کوئی سایہ نہیں آنکھوں میں 

پاؤں بے حس ہیں، چلتے جاتے ہیں 

اک سفر ہے جو بہتا رہتا ہے

والا معاملہ ہو گا۔ گوجرانوالہ کے معروف اور حقیقی دانشور جناب علامہ عزیز انصاریؒ میرے ابا جی کے دوست تھے اور میرے والد صاحب جناب حاجی عنایت اللہ کو لوگ اور ان کے دوست شہزادہ صاحب کہتے تھے۔ مجھے ان کی نیابت داری کا شرف حاصل ہے۔ ایک دن گوجرانوالہ اعظم بھائی کے ہوٹل تشریف لائے، سیاسی، سماجی، مذہبی حوالے سے ان کی گفتگو کا ایک ایک لفظ کتاب ہوا کرتا۔ سیاسی حوالے سے بات کر رہے تھے تو کہنے لگے کہ اگر بھٹو صاحب (وہ بھٹو کے مخالف دھڑے میں سیاست کرتے تھے) فلاں غلطی نہ کرتے تو یہ یوں ہوتا اور حالات یوں ہوتے۔ میں نے جسارت کر کے کہا کہ قبلہ علامہ صاحب یہ جو ”اگر“ ہے اس ایک لفظ کے گرد دنیا بلکہ کائنات کی تاریخ گھومتی اور اس اگر کی قیدی ہے، پھر آدم کی تخلیق، شیطان کی تکبر کی بنیاد پر نافرمانی، ہابیل اور قابیل، انبیاء، ولی، شیوخ اور دانشوروں، قوموں اور تہذیبوں کی تاریخ کی گردان سب کی سب اگر میں گرفتار ہیں۔ علامہ صاحب کا یہ بڑا پن ہے کہنے لگے، یہ میرے شہزادے یار کے بیٹے نے آج کیا بات کر دی، میری ساری بحث کا رخ موڑ دیا۔ مجھے بہت داد دی، پیار کیا، گلے لگایا، دعا دی۔ وہ لمحے میرے لیے اثاثہ ہیں۔ علامہ صاحب کے ذکر کے بغیر گوجرانوالہ کی سیاسی اور شعوری تاریخ نا مکمل ہے۔ اب ان کے بیٹے علامہ فاروق عالم انصاری کالم نگار ہیں مگر تنگ دامنی کالم کی وجہ سے شاید لوگ ان کے شعور سے محروم اور تشنہ رہتے ہیں۔ جناب محمد سلمان کھوکھر کی تحریریں بھی تشنہ رکھتی ہیں۔ بہرحال جناب مقصود احمد بٹ کے بیٹے کے وصال پر گلزار بھائی سے پوچھا تو کہنے لگے کہ پاء جی اعظم صاحب کے سانحے پر آپ بہت دکھی اور نڈھال تھے، میں نے اس لئے آپ کو نہیں بتایا مگر آج پھر وہی کیفیت ہے۔ مقصود احمد بٹ کے بیٹے کے لیے علامہ فاروق عالم انصاری کہتے ہیں:

میرے ہون دا تماشا جدوں مکیا

مداری مینوں نال لے گیا

مجھے پاء جی اعظم صاحب، معظم بھائی جنت مکین اور مقصود احمد بٹ کے بیٹے کی ناگہانی رحلت اوپر سے علامہ فاروق انصاری کا کہا ہوا اب تک ذہنی طور پر مفلوج کئے ہوئے ہے۔ پاء جی اعظم صاحب کے سانحہ پر میں نے ایک دوست مرزا قاسم بیگ سے ذکر کر کے پوچھا کہ آپ کو علم ہے کہ میری دنیا تہہ و بالا ہو گئی۔ اس نے ذکر کیا کہ مجھے بھائی جان کا پتہ چلا تھا مگر آپ کا صدمہ اتنا بڑا، بھاری اور ناقابل بیان تھا کہ میرا پُرسا بہت حقیر ہوتا، یہی صورت حال مقصود احمد بٹ کے بیٹے کے وصال کے حوالے سے ان کا دکھ ہمالیہ سے بھاری ہے جس پر پُرسا دینے کے لیے کوئی زبان، کوئی فقرہ ابھی دنیا میں متعارف نہیں ہوا۔ اور اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے یکتا اور بے نیاز ہونے کی بات کی ہے۔ نہ کسی کا بیٹا ہے نہ باپ، نہ بھائی اور نہ کسی سے ایسا رشتہ۔ گویا یہ اللہ کا اعلان ہے کہ رشتوں کے نام سے میرے پاس منت کی کوئی گنجائش نہیں۔ اب میرے پاس جناب مقصود بٹ کے لیے پُرسا دینے کے الفاظ ہیں اور نہ اعصاب میں قوت البتہ مقصود بٹ کو میں نے صبر کی چٹان کی طرح پایا میں سوچ رہا تھا کہ میں سامنا کیسے کروں گا، کیا بات کروں کا مگر مقصود احمد بٹ صبر کے پیکر تھے اور کہتے ہیں آپ صرف دعا کرنا، وہ اللہ کا مال تھا اور پھر کہتے ہیں بس دعا کرنا۔ یہ اندوہناک سانحہ اور غم بچوں کو بوڑھا کر دے کہ آنے والے نسلیں بھی ہنسنا بھول جائیں جبکہ۔ میں مذہبی حوالہ سے بات نہیں کر رہا مگر کچھ لوگوں سے سنا ہے کہ سوگ و غم کی تین دن سے زیادہ اجازت نہیں ہے، شاید یہ صرف فقرے کی حد تک ہے دکھ غم اور جدائی کے صدمے تو زندگی کے ساتھ ہی جایا کرتے ہیں۔ ایسے اندوہناک سانحہ کا اندازہ لگانا یا اس کا الفاظ میں اظہار کرنا کسی کے بس کی بات نہیں البتہ جو دل درد سے آشنا ہے جو آنکھ نم رہنے کی عادی ہے وہ اس درد کو خوب سمجھتی ہے۔

درد معلوم ہوا تو بحثیں ہوئی

درد محسوس ہوا تو بولا نہ گیا

مرحوم کے جنازے میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی، پنجاب کی حاضر، ریٹائرڈ ہر قسم کی بیوروکریسی اور سیاستدانوں میں کوئی ہو گا جو مقصود بٹ کو ان کے بیٹے کا پُرسا دینے نہ آیا ہو۔ ہر شعبہ زندگی سے ہزاروں لوگوں نے ان کے دکھ میں شرکت کی۔ اللہ کسی دشمن کو بھی ”دُدھ پتر“ کی تکلیف نہ دکھائے، مقصود بٹ کی دنیا رخصت ہوئی، اللہ کریم ان کو اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے اور عاصم عزیز ایڈووکیٹ کو بے بغیر حساب جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

مصنف کے بارے میں