چالیں اور گھاتیں

چالیں اور گھاتیں

بھارت بظاہر ایک سیکولر ملک ہے اوردنیا میں اِس بارے بھارتی قیادت فخریہ پر چار بھی کرتی ہے لیکن کہنے اور عمل میں یہاں بہت فرق ہے بظاہر سیکولر ملک عملی طور پر ایک ایسی ہندوریاست میں بدلتاجا رہا ہے جہاں سیاسی اور مذہبی حوالے سے عدم برداشت عروج پر ہے اِس بارے رواں دہائی کے دوران کچھ ملکوں کو احساس بھی ہونے لگا ہے یہ ایسا ملک ہے جس کی عرصہ سے پالیسی رہی ہے کہ کسی طرح بیرونِ ملک مسلم دنیا کے خیر خواہ ہونے کاتاثر بناکررکھا جائے اِس کے لیے کئی مکارانہ چالیں چلی گئیں مکارانہ چال کے طورپرہی سعودی عرب میں ہمیشہ کسی مسلمان کو بطور سفیر تعینات کیاجاتا رہاحالانکہ یہ بظاہر سفیر ہوکر بھی عملی طور پرایک قید ی کی سی زندگی گزارتا کیونکہ خفیہ ایجنسی راکے ہر کارے سفیر کی ہر حرکت اور رابطے پرکڑی نظر رکھتے مگر سعودی حکومت کی نظر میں خیرخواہ کا امیج برقرار رکھنے کی چالیں بھی کسی حدتک بے اثر ہونے لگی ہیں جس کی وجہ نو پور شرما جیسے متعصب اور جنونی کردارہیں جنھوں نے بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا ہے ایسے کرداروں کی گستاخانہ گفتگو پرمسلم دنیا کی خاموشی اب بے چینی میں بدل رہی ہے اور اُن کی طرف سے سخت ردِ عمل آنے لگا ہے یہ بھارت کے سیکولر ڈرامے کی اہمیت اور اثر پذیری ختم ہونے کانہ صرف ثبوت ہے بلکہ بھارت کی معیشت ڈانواں ڈول ہونے کا خطرہ بھی حقیقت کا روپ دھارنے کے قریب ہے اسی لیے بھارتی قیادت کی طرف سے کچھ ایسے ناٹک رچائے جانے لگے ہیں تاکہ نہ صرف مسلم ووٹرز کو آئندہ انتخاب میں تقسیم کرتے ہوئے اُنھیں اپوزیشن کا حصہ بننے سے باز رکھنے کے ساتھ مسلم ممالک میں دوبارہ اچھا امیج بنایا جا سکے مگر اِس چال اور گھات کے اچھے نتائج کے بارے میں کچھ کہنا محال ہے۔

ہندوجنونی مسلمانوں کو برداشت کریں یا مساجد اورمدرسوں کا احترام کریں ایسی کسی خبر پر یقین کرنا ممکن ہی نہیں آر ایس ایس یعنی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت جو مسلمانوں کوہندوبنانے یا پھرملک سے نکالنے پر پختہ یقین رکھتے ہیں وگرنہ مسلم کمیونٹی کو جان سے مارنے،اُن کی املاک جلانے اور تباہ کرنے کا عزم و اِرادہ کسی سے چھپاتے نہیں گزشتہ ہفتے چند قریبی رفقا کے ساتھ نہ صرف دارالحکومت دہلی میں موجود ایک مسجد میں گئے بلکہ وہاں ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ ایسے انداز میں گزارا جیسے وہ مسجدجیسی عبادت گاہ کابے حد احترام کرتے ہیں بات یہیں تک محدود نہ رہی بلکہ ایک ہی دن مسلم دنیا کو فریب دینے کے لیے دوسرا کام یہ کیا کہ مساجد اور مدرسوں سے نفرت کرنے والا یہ جنونی دارالحکومت کے ایک مدرسے کے اندر بھی چلا گیا یہاں بھی کئی ساتھی ہمرکاب رہے جس سے کچھ حلقوں میں سوال گردش کرنے لگا ہے کہ کہیں کانگرس کی طرح ظاہری طورپربی جے پی بھی مذہبی جنونیت کا لبادہ اُتارنا تو نہیں چاہتی؟کچھ ایسے ہی طرزِعمل کا مظاہرہ ماضی میں ا ٹل بہاری واجپائی نے کیا اور شاعری کے ذریعے امن پسندی کے گیت تو گائے مگراِس دوران ملک کے طول وعرض میں 

مسلمانوں پر حملے بھی ہوتے رہے اوراُنھیں دوسرے درجے کا شہری بنانے پر کام جاری رکھا نریندرمودی جیسے مذہبی عدم برداشت پر یقین رکھنے والے شخص نے بھی بطور وزیراعلیٰ گجرات میں مسلم قتل ِ عام کرانے کی بنا پر ہی جماعت میں اہمیت حاصل کی انھی وجوہات کی بناپر نئی چال اور گھات کا مطلب سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے جو مسلمانوں کو کسی متحدہ فیصلے سے باز رکھنے کے سوا کچھ نہیں۔

موہن بھاگوت کے دل میں سوائے ہندوؤں کے کسی کے لیے نرمی یا رحم دلی نہیں وہ مذہبی فسادات کرانے میں طاق ہے مسلمان ہوں یا عیسائی،سکھ یا دلت یہ کسی کو برداشت نہیں کرتے اسی لیے مسجد اور مدرسے کے دورے کی خبر سبھی کے لیے حیرانگی کا باعث بنی ہے اور یہ سوال کیاجانے لگا ہے کہ ممکن ہے بی جے پی کازیلی ونگ آرایس ایس اقلیتوں کے حوالے سے موجودہ پالیسی تبدیلی کرنے کی تیاری میں ہو مگر ایسی کوئی بھی توقع خود فریبی کے سواکچھ نہیں کیونکہ جس دن موہن نے بغل میں چھری منہ میں رام رام کے مصداق مسجد کا دورہ کیااسی دن بی جے پی حکومت کے بنائے اٹارنی جنرل نے ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ جاکر کرناٹک حکومت کی ایما پر سکولوں و کالجوں جیسے تعلیمی اِداروں میں حجاب کی سخت مخالفت کی توپھر طریقہ کار میں تبدیلی کی بات کرنے سے قبل ایسا سوچنے والوں کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ بی جے پی کی سیاست ہی مسلم مخالف ایجنڈے پر اُستوار ہے وہ مذہبی منافرت نہ پھیلائے تو کسی صورت انتخاب جیت ہی نہیں سکتی اب جبکہ 2024میں عام انتخابات ہونے والے ہیں آر ایس ایس یا بی جے پی ہندو ووٹر کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتیں بلکہ اُن کی پوری کوشش ہے کہ ہندوووٹر تو اُن کے ساتھ رہے البتہ مسلم ووٹر کو تقسیم کر دیا جائے کیونکہ اگر مسلم ووٹر متحد ہوجائے تومحتاط اندازے کے مطابق لوک سبھا کی سو سے زیادہ نشستوں کے نتائج بدلنے پرقادر ہے اسی لیے آر ایس ایس کے سربراہ یہ جو اچانک مسلم کمیونٹی پر مہربان ہوئے ہیں اِس کے پسِ پردہ چاہت یا خلوص ہرگز نہیں بلکہ منافقت اور بغض ہے جس سے مسلم اکابرین کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ موہن بھاگوت نے جس مسجد کا دورہ کیا اُس کے پیش امام کی طرف سے مہمان کے لیے کافی اچھے کلمات سامنے آئے ہیں تو کیا چند ایک دوروں سے مسلم کمیونٹی پسیج جائے گی؟ بظاہردولت اور دباؤ سے ایسا کسی حدتک ممکن ہے۔

بی جے پی ہو یا اُس کا ذیلی ونگ آر ایس ایس،دونوں کبھی مسلمانوں کے خیر خواہ ہو ہی نہیں سکتے بلکہ دونوں مسلمانوں سے شدید نفرت کرتے ہیں اور بھارت کو مسلمانوں سے پاک دیکھنے کے متمنی ہیں مگر اندرونِ ملک انتخاب جیتنے اور مشرقِ وسطیٰ میں موجود بھارتی لیبرکو بے روزگار ہونے سے بچانے کے لیے ایک چال کے طورپر ڈرامہ کرنے کی ضرورت پیش آگئی ہے کیونکہ یہ بھارتی لیبر ہر سال کئی ارب ڈالرکماکر اپنے ملک بھیجتی ہے جن کا ملکی معیشت کی بحالی میں اہم کردار ہے لیکن یہ اربوں ڈالر آئے روز مسلم کش فسادات اورحکومتی جماعت کے اہم عہدیداروں کی طرف سے گستاخانہ خیالات کی وجہ سے خطرے میں ہیں کیونکہ باربار گستاخانہ اظہار کی بناپر عرب ممالک میں بھارتی امیج کو نقصان پہنچ رہا ہے دبئی میں مندر بنانے کے باجودعوام میں وہاں حالات سازگار نہیں ہو سکے اور عوامی حلقوں کی طرف سے شدید منفی نوعیت کے خیالات سامنے آرہے ہیں جس سے آئندہ انتخابات کے نتائج کے متعلق پشین گوئی کی جانے لگی ہے کہ شایدبھارتی مسلمان متحد ہوکر موجودہ حکمرانوں کے خلاف ووٹ دیں ایسے ہی امکانات کو کم کرنے کے لیے مساجد اور مدرسوں کے دورے کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے۔

حکومت کے خلاف ایک وسیع تر اتحاد کے لیے اپوزیشن رہنما متحرک ہو چکے ہیں اور اِس دوران وہ یہ کوشش کررہے ہیں کہ کسی طرح حکومت کو اقلیت مخالف اور دشمن ثابت کیا جائے اِس میں وہ کہاں تک کامیاب رہتے ہیں یہ توآنے والا وقت ہی بتائے گا البتہ اِس میں کوئی ابہام نہیں رہا کہ بی جے پی کے خلاف مسلم ووٹر متحد ہوکر اپوزیشن کی طرف مائل ہونے لگاہے یہی پریشانی جنونیوں کو چال اور گھات میں تبدیلی لانے کا باعث ہے اور انتخابی شکست کے خطرات کوکم کرنے کے لیے جنونی لوگوں کو مساجد و مدرسوں کے دورے کی طرف لائی ہے تاکہ ایک تو عرب ممالک کو باور کرایا جائے کہ وہ اسلام مخالف نہیں دوم یہ کہ مسلم ووٹرکواپوزیشن کی طرف جانے سے روکا جاسکے مگر آثار بتاتے ہیں کہ بغل میں چھری اورمنہ میں رام رام کی چال اور گھات کچھ زیادہ کامیابی کا باعث شاید ہی بن سکے بلکہ 2024  کے عام انتخابات بی جے پی کے زوال کا زینہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں