آخر کب تک؟؟؟

آخر کب تک؟؟؟

ہمارے ملک میں نظام عدل جتنا مضبوط اور شفاف ہے اْس کا اندازہ موجودہ سیاسی کھیل سے لگایاجا سکتا ہے, یہ اس ملک کے نظام کا وطیرہ رہا ہے کہ جب بھی جو جماعت حکومت میں ہوتی ہے تو اپوزیشن میں موجود جماعت پر کیسز بنائے جاتے ہیں انہیں عدالتوں میں کھسیٹا جاتا ہے اور یہ کیسز کئی کئی سال چلتے ہیں۔ایسے میں اپنے خلاف بنائے گئے کیسز کا دفاع کرنے کے لئے جن جن حربوں کا استعمال کیا جاتا ہے اور جس طرح سے مخالفین کو بدنام کرنے کے لئے پروپگنڈے کئے جاتے ہیں اْس میں نہ کسی کی عزت کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے اور نہ ہی ملکی مفاد کو۔ پچھلے کچھ عرصے سے اپوزیشن میں بیٹھے عمران خان اپنی تمام تقریروں اور بیانات میں ایک ہی راگ الاپتے دیکھائی دیتے ہیں ڈاکو ڈاکو,چور چور۔

خان صاحب جب اقتدار میں تھے تب بھی ن لیگ اور پی پی کے بارے میں ہر وقت اس طرح بات کرتے تھے جیسے کسی آسیب کے سائے کی زد میں ہوں۔ صرف خان صاحب ہی نہیں ہمارے ملک میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کا یہی حال ہے کہ مخالفین کے بارے میں جب بات کی جاتی ہیں تو عزت و وقار سے عاری زبان استعمال کی جاتی ہے اور جتنا ہو سکے نیچا دیکھانے کے چکر میں گندگی اچھالی جاتی ہے۔دنیا بھر میں ایسا ہوتا ہے کہ بر سرِاقتدار آنے والی پارٹی اپوزیشن کو موقع دیتی ہے اپنے تحفظات بیان کرنے کا اور اپوزیشن بھی ملکی مفاد کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہو ئے بھر پور کردار ادا کرتی ہے اگرچہ اختلافات ہر جگہ پائے جاتے ہیں مگر کسی بھی چیز کو ملکی مفاد سے بالا تر نہیں سمجھا جاتا۔بائیس کروڑ آبادی کے اس ملک میں سیاسی مفاد اور انا پرستی کی بھینٹ چڑھتی عوام آج کل مہنگائی کی جس چکی میں پس رہی اور سونے پر سوہاگا سیلاب نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔

ایوانوں میں بیٹھنے والے اس بائیس کروڑ عوام کی ترجمانی تب تک کیسے کر سکتے ہیں جب تک وہ ذاتی مفاد کی بجائے اس ملک اور قوم کا نہیں سوچیں گے اس کی مثال ملک میں چل رہی سیاسی گہماگہمی ہے کہ آئے روز کبھی ویڈیوز سامنے آتی ہیں تو کبھی آڈیوز حکومت ہو یا اپوزیشن ذاتیات کی سیاست کرتے دیکھائی دیتے ہیں عدلیہ کو تو گھر کی لونڈی بنا رکھا ہے۔کسی بھی پارٹی کی ویڈیوز یا آڈیوز سامنے آتی ہیں تو اس پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی جاتی ہے اپنی پارٹی کے مفاد کے لئے اْسے استعمال کیا جاتا کے بجائے اس کے اصل کرداروں کو سامنے لایا جائے ملکی سلامتی پر سمجھوتہ کرنے والوں کو بے نقاب کیا جائے یہاں بیان بازی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور وہ ادارے جو کہ خود مختار اور سیاسی اثرورسوخ سے بالاتر بنائے گئے تھے وہ بھی کہیں نہ کہیں وقت اور ضرورت کے تحت جھکاؤ کا شکار نظر آتے ہیں۔

ہمارے عدالتی نظام پر ہمیشہ سے انگلیاں اْٹھائی جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ نسلیں گزر جاتی ہیں مگر بر وقت انصاف نہیں ملتا تو ایسے میں جب احتساب جیسے ادارے کو سیاسی انتقام کے لئے استعمال کیا جائے تو عام عوام کے لئے اس ملک میں انصاف یا بہتر زندگی کا ضامن کیا ہو گا۔کیا اس ملک میں اب بس یہی رہ گیا ہے کہ ایوان میں کھڑے ہو کر عوام کی مشکلات, ملکی مفاد اور ترقی کہ علاوہ سیاسی رہنما ایک دوسرے کو چور اور ڈاکو کہیں نا زیبا زبان استعمال کریں اور ایوان کی کاروائی کسی انجام تک پہنچنے کی بجائے شور شرابے کی نذر ہو جائے۔

جلسے جلوس دیکھ لیں تو بھی سیاست دان ملکی مفاد کے لائحہ عمل پر بات کرنے کی بجائے صرف ذاتیات پر مبنی باتیں کرتے دیکھائی دیتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ ہمارے ملک میں ایک زندہ حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتامگر حیرت تب ہوتی ہے جب سیاست دان ایک دوسرے کو کبھی چیری بلوسم اور کبھی گیٹ نمبر دو کی پیداوار کے طعنے دیتے ہیں جبکہ دیکھا جائے تو سب کو ہی انگلی پکڑ کر چلنا کون سیکھاتا ہے اور کون رستے ہموار کرتا ہے اس حقیقت کو بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا۔

سیاسی انتقام کی بنیادوں پر بنائے گئے کیسز کا جب سالوں کوئی فیصلہ نہیں ہوتا اور بلآخر کسی نہ کسی صورتحال کا سہارا لے کر انہیں ختم کیا جاتا ہے تو اس تمام تر سیاسی کھیل تماشے میں نقصان کس کا ہوتا ہے؟ اْن سیاسی جماعتوں کا یا مخالفین کا؟

اگر حقیقت کا پردہ چاک کر کے دیکھا جائے تو نقصان نہ ان للکارتے ہوئے سیاست دانوں کا ہوتا ہے نہ کسی پارٹی کا۔ نقصان اگر ہوتا ہے توصرف اور صرف اس ملک کی عوام کا ہوتا ہے اس ملک کی عوام کے وسائل کا۔عوام انہیں منتخب کر کے اس لئے نہیں ایوانوں میں بھجتے کہ وہاں جا کر اپنی اور اپنی پارٹی کے مفاد اور کرسی کی لڑائی میں گم ہو کر اس ملک کی ترقی اور غریب عوام کے حالت زار کا نہ سوچا جائے، ووٹ مانگنے آتے ہیں تو دعوں اور وعدوں کی ایسی چادر تانی جاتی ہے کہ سچائی جب افشاں ہوتی ہے تو غریب عوام کے لئے صرف دو وقت کی روٹی کے لئے در بدر کے دھکے ہی حصے میں آتے ہیں، ہسپتالوں میں ادویات نہیں, تعلیم کے لئے اسکول نہیں سسکتے ہوئے مائیں بچوں کو جنم دیتی جان دے دیتی ہیں, کتے کے کاٹنے کی ادویات تک دستیاب نہیں۔ڈینگی نے زور پکڑا ہے تو میگا پلیٹلٹس نہیں ہیں عوام سسک سسک کر جانیں دے رہے ہیں کیونکہ مہنگائی نے دو وقت کی روٹی کمانا مشکل کر رکھا ہے مہنگے علاج کہاں سے کروائے جائیں مگر سوال صرف یہ پیدا آخر کب تک؟؟؟

کیا اس ملک اور عوام کے بھی اچھے دن آئیں گے کوئی ان کی بہتری کا بھی سوچے گا، اور جن اصولوں پر اس ملک کو تخلیق کیا گیا تھا ان اصولوں کو بھی عملی جامہ پہنایا جائے گا؟

مصنف کے بارے میں