کسی بھی فوجی مراکز کے معائنے کی اجازت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا: ایران

کسی بھی فوجی مراکز کے معائنے کی اجازت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا: ایران

تہران : ایران نے ایک بار پھر امریکی مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے کسی بھی فوجی مراکز کے معائنے کی اجازت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا


ایران کی پارلیمنٹ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ملک کے فوجی مراکز کے معائنے کی کبھی اجازت نہیں دی جائے گی اور جامع ایٹمی معاہدے میں بھی کسی ملک یا ادارے کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔اسلامی جمہوریہ ایران جامع ایٹمی معاہدے کی مکمل پاسداری کر رہا ہے۔

ترجمان حسین نقوی حسینی نے کوششوں کا ذکر کیا جو امریکہ ایران کے فوجی اور غیر جوہری مراکز کے معائنے کے لیے، جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے انجام دے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی اے ای اے کی آٹھویں رپورٹ میں بھی اس بات کی تائید کی گئی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران جامع ایٹمی معاہدے کی مکمل پاسداری کر رہا ہے۔ جامع ایٹمی معاہدے کی رو سے ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کی نگرانی صرف اور صرف آئی اے ای کے ذمہ داری ہے اور اس عالمی قانونی ادارے کی رپورٹوں کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران نے جامع ایٹمی معاہدے پر مکمل عملدرآمد کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ، آئی اے ای اے پر بے انتہا دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ ایران کو جامع ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دے تاکہ اس طرح جامع ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کو روکا اور ایران کو نقصان پہنچایا جاسکے۔ حسین نقوی حسینی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ایران آئی اے ای کے معائنہ کاروں کو جانچ پڑتال کی اجازت دینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا بشرطیکہ آئی اے ای اے کی جانب سے، خفیہ ایٹمی سرگرمیوں کی انجام دہی کے دعوؤں کے بارے میں، قابل اعتبار دستاویزی ثبوت اور شواہد، باضابطہ طور پر ایران کو پیش کیے جائیں۔