ضیاء الدین اسپتال پر چیف جسٹس ثاقب نثار کے چھاپے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

ضیاء الدین اسپتال پر چیف جسٹس ثاقب نثار کے چھاپے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

فوٹو فائل

کراچی: ضیاء الدین اسپتال پر چیف جسٹس ثاقب نثار کے چھاپے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، انھوں نے شرجیل میمن کے کمرے میں داخل ہو کر کہا ’میں چیف جسٹس پاکستان ہوں، آپ کی خیریت معلوم کرنے آیا ہوں۔‘

تفصیلات کے مطابق آج صبح  چیف جسٹس پاکستان نے شہر قائد کے ضیاءالدین ہسپتال میں مختصر ترین دورہ کیا ۔ہسپتال پہنچنے کے بعد  چیف جسٹس  صرف  شرجیل میمن کے کمرے میں گئے۔ اس دوران چیف جسٹس نے شرجیل میمن سے 3 منٹ ملاقات کی۔جہاں سے شراب کی بوتلیں برآمد ہوئیں ۔

دریں اثنا چیف جسٹس نے کمرے سے شراب کی بوتلیں برآمد ہونے پر شرجیل میمن کے ملاقاتیوں اور ضیاء الدین اسپتال کے متعلقہ ریکارڈ کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، انھوں نے کہا کہ اسپتال کی ایک ماہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی جائے۔

قبل ازیں چیف جسٹس کو آئی جی جیل خانہ جات نے وی آئی پی قیدیوں کے اسپتال داخلے پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ شرجیل میمن ضیاء الدین، انور مجید کارڈیو جب کہ عبد الغنی مجید جناح اسپتال میں ہیں۔

چیف جسٹس نے آئی جی سے استفسار کیا کہ کیا واقعی یہ ملزمان ان ہی اسپتالوں میں ہیں؟ انھوں نے کہا کہ جی بالکل، یہ ملزمان ان ہی اسپتالوں میں ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے ان اسپتالوں کا اچانک دورہ کیا اور صورتِ حال کا خود مشاہدہ کیا۔

جب چیف جسٹس اسپتال پہنچے تو کمرے کے باہر موجود ملازم نے بتایا کہ شرجیل میمن سو رہے ہیں، اس وقت کمرے کے اندر لائٹ بند تھی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ لائٹیں کھولیں اور شرجیل میمن کو اٹھائیں۔

 دوسری جانب شرجیل میمن کے کمرے سے شراب اور منشیات برآمد ہونے کے بعد ان کے ضیا ءالدین ہسپتال سےسینٹرل جیل منتقل کردیا گیا ہے جبکہ ہسپتال میں ان کے کمرے کو بھی سیل کردیا گیا ہے۔

خیال رہے  کراچی پولیس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن پر شراب برآمدگی کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ شرجیل میمن پر امتناع منشیات کے سیکشن 4 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔