طالبان کا اصل امتحان

Hameed Ullah Bhatti, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

افغان واقعات سے دنیا حیران ہے فروری 2020 دوحہ میں طالبان اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے معاہدے سے امید پیدا ہو ئی کہ اگلے مرحلے میں انٹر افغان مذاکرات میں سب کے لیے قابلِ قبول سیاسی تصفیہ ہوجائے گا مگربات چیت سے مضطرب اشرف غنی حکومت نے ایسی کوئی کوشش کامیاب نہ ہونے دی اور قیدیوں کی رہائی کے طے شدہ معاہدے سے انحراف کیا جس سے  امن کے حوالے سے بے یقینی کے سائے گہرے ہوئے اور یہ خدشہ پیداہوا کہ 1989میں روسی افواج کے انخلا کی طرح افغانستان دوبارہ اندرونی خلفشار کا شکار ہو سکتا ہے حالانکہ امریکہ اور نیٹو نے سب کو یقین دلایا تھا کہ تین لاکھ تربیت یافتہ اور جدید اسلحہ سے لیس فوج نہ صرف دفاع کی اہل بلکہ ساٹھ ستر ہزار طالبان کوبھی آسانی سے کچل دے گی مگر ہفتہ عشرہ کے اندر طالبان کے ملک کے بڑے حصے پر کنٹرول سے دنیا حیران رہ گئی اِس حیرانگی میں اِن واقعات سے مزید اضافہ ہو ا جب ہزاروں کی آبادیوں پر مشتمل شہروں کو چار یا پانچ طالبان لڑے بغیر فتح کر تے گئے پھر امریکہ اور نیٹو نے دنیا کو یقین دلایا کہ کابل کا کنٹرول حاصل کرنے میں طالبان کو تین سے چھ ماہ لگ سکتے ہیں مگر یہ دعویٰ بھی غلط ثابت ہواطالبان کے کابل کے نواح میں آنے کی خبریں سن کر ہی مزاحمت کرنے کی بجائے سرکاری فوج اسلحہ چھوڑکر تحلیل ہو گئی اِس فتح سے طالبان کو ہتھیاروں کے بھاری ذخائر ملے جس سے اُن کی حربی قوت میں مزید بہتری آئی یہ ایسا حیران کُن واقعہ تھا جودنیا کے لیے قطعی غیر متوقع تھا حیرانگی کے واقعات ابھی تھمے نہیں بلکہ طالبان کے مقابل شدت پسند گروپوں کے متحرک ہونے سے دنیا اتنی حیران وششدر ہے جس سے بیس سالہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی کامیابی سوالیہ نشان بنتی دکھائی دیتی ہے۔

عالمی طاقتوں اور تجزیہ کاروں کے اندازوں کے قطعی بر عکس جب طالبان نے گزشتہ ماہ اگست میں ملک کے 34میں سے 33صوبے اور دارالحکومت کابل تیز رفتار پیش قدمی کرتے ہوئے بغیر کسی بڑی مزاحمت کے فتح کرلیے توسب کو یقین تھا کہ ملک کے دیگر حصوں سے کابل کے حالات مختلف ہوں گے اور طالبان کے سخت گیر رویے پرفوجی ناکامی کے باوجودکابل کے شہری ضرور غم و غصہ اور ناپسندیدگی ظاہر کریں گے لیکن ایسا کچھ ہونے کی بجائے ہزاروں شہری اپنا ملک چھوڑنے کے لیے ایئرپورٹ پہنچ گئے کابل شہر میں قانون شکنی مکمل طور پر ختم اور امن و سکون بحال ہونے سے دنیا نے یہ پیغام لیا کہ اب طالبان کے اقتدار کوکوئی خطرہ نہیں مگرابتدا میں وادی پنج شیرسے بغاوت کی خبریں دنیا کوحیران کرنے کا باعث بنیں پھر اچانک امریکی صدر جو بائیڈن نے القاعدہ اور داعش کے منظم ہونے اور کابل ایئر پورٹ پر ممکنہ حملے کا امکان ظاہر کیاجس کی برطانیہ نے بھی تائید کی تائید کے اگلے روز ہی کابل شہر خود کش دھماکوں سے گونج اُٹھا 

جس میں تیرہ امریکی اورچھ برطانوی فوجیوں سمیت 170 لوگ مارے گئے جن میں طالبان بھی شامل ہیں نائن الیون کے بعدامریکی فوجیوں کی ہلاکت کے حوالے سے نہ صرف یہ سب سے بڑا واقعہ ہے بلکہ یہ ایسا واقعہ ہے جس میں تیسرے فریق نے امریکیوں اور طالبان کوبھی بیک وقت نشانہ بنایاحیران دنیایہ دریافت کرنے میں حق بجانب ہے کہ جدید ہتھیاروں اوروسائل کے ساتھ اطلاعات کے باوجود امریکہ و برطانیہ حملوں کا سدِ باب کیوں نہیں کر سکے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ حالات اُن کی مرضی و منشا کے عین مطابق ا فغانستان میں فوجی موجودگی کا جواز دیتے ہیں اسی لیے ردِ عمل میں جوش و جذبے کا فقدان ہے خود کش دھماکوں کی ذمہ داری داعش خراسان گروپ نے قبول کرتے ہوئے حملہ آور کی نشاندہی بھی کی ہے انخلا کی تاریخ سے چند روزقبل یہ تخریبی کارروائی اِس امر کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ کچھ قوتوں کی پوری کوشش ہے کہ خطے میں امن و امان قائم نہ ہو۔ حملوں سے یہ بھی تاثر پختہ ہوا ہے کہ پُر امن اور محفوظ انخلا کے لیے صرف طالبان پر انحصار غلط ہے بلکہ خطے میں کچھ اور قوتیں بھی ہیں جونقصان کا موجب بن سکتی ہیں۔

دیگر حیران کُن واقعات کی طرح ششدر کرنے والی پاک فوج کے ترجمان جنرل بابر افتخار کی27 اگست کی پریس کانفرنس ہے جس میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ افغان سرحد بالکل محفوظ اور صورتحال پوری طرح کنٹرول میں ہے ابھی پریس کانفرنس کی بازگشت بھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ 29اگست کوافغان سرزمین سے دہشت گردوں نے باجوڑ فوجی چوکی کو نشانہ بنا کر پاک فوج کے دو جوان شہید کر دیے حالانکہ طالبان نے ہمسایہ ممالک کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اپنی سرزمین کسی ہمسائے کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے لیکن محفوظ سرحد اور صورتحال کے کنٹرول کے دعوے اور طالبان کی یقین دہانی کے باوجود ایسا ہونا ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ نہیں ہوا بلکہ اب بھی کچھ گروہ سرگرم ہیں جو خطے کو بدامنی کا مرکز بنانے کے متمنی ہیں مزید یہ کہ مسئلہ افغان کے حل کی کلید اکیلے طالبان کے پاس نہیں بلکہ کچھ ایسے فریق بھی ہیں جو دہشت گردی کے بل بوتے پر دنیا سے اپنی مرضی کے فیصلے کرانا چاہتے ہیں خطے کے حالات پر نظر رکھنے والے ماہرین کو خدشہ ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) افغان طالبان سے راہیں جداکر نے اور داعش و القاعدہ جیسے شدت پسندوں کے ساتھ مل کر جنگ و جدل کی طرف جانے لگی ہے عراق وشام میں ایسا ہو چکا حیرانگی کی بات یہ ہے کہ شدت پسند گروہ تباہی کے لیے مسلم ممالک کاہی کیوں انتخاب کرتے ہیں؟ اِس کا کسی کے پاس شافی جواب نہیں۔

افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کے انخلا کا آخری دن گزرچکا اب حکومت بنانے کے لیے طالبان کی اہلیت وصلاحیت کا اصل امتحان شروع ہو گیا ہے اُنھیں نہ صرف ماضی کے حریفوں کو ساتھ ملانا ہوگا بلکہ خواتین اور انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی برادری کے خدشات دور کرنا ہوں گے تاکہ نہ صرف جامع سیاسی حل کی منزل حاصل ہو سکے بلکہ عالمی برادری کا تعاون بھی ملے القاعدہ اور داعش جیسی شدت پسندوں تنظیموں کاخاتمہ بھی اتحاد واتفاق سے ہی ممکن ہے انخلا کا یہ مطلب نہیں کہ امریکہ اور عالمی طاقتیں افغان امور سے لاتعلق ہوجائیں بلکہ محفوظ اور پُرامن افغانستان کے لیے سب کوفوجی کے بجائے سیاسی حل کے لیے اپنا کردار ادا کرناچاہیے تاکہ تشدد پر یقین رکھنے والوں کی حوصلہ شکنی اوربات چیت سے امن قائم کرنے کے لیے کوشاں قوتوں کو تقویت ملے القاعدہ، داعش اور ٹی ٹی پی کی طرف سے بدامنی پھیلانے کے منصوبوں کا پوری قوت سے جواب دینے سے کسی کو انکار نہیں لیکن اِس سے قبل طالبان کو اعتماد میں لیناچاہیے ننگر ہار میں کابل حملوں کے ماسٹر مائنڈ اور سہولت کار کو ڈرون سے نشانہ بناکر ہلاک کرنا اور کابل میں ڈرون سے داعش کے دوکارکنوں کی ہلاکت کی کارروائیاں محدودسہی مگر طالبان کا نکتہ چینی یا مذمت نہ کرناامن کی خواہشمند قوتوں کے لیے کافی حوصلہ افزا ہے اور اِن واقعات سے امید پیدا ہوئی ہے کہ عام افراد کی جانوں کو نقصان پہنچائے بغیر عالمی برادری کارروائی کرے توآئندہ بھی طالبان کی طرف سے تعاون مل سکتا ہے اگرماضی کی طرح دنیا لاتعلق ہو گئی تو نہ صرف سیاسی تصفیے کی راہیں مسدود ہوں گی بلکہ پُرتشدد واقعات کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔