ہم نصف ٹن وزنی لڑکی کا علاج نہیں کر سکتے ،بھارتی ڈاکٹروں کا اعتراف

 ہم نصف ٹن وزنی لڑکی کا علاج نہیں کر سکتے ،بھارتی ڈاکٹروں کا اعتراف

ممبئی: بھارت میں زیر علاج مصر کی نصف ٹن وزنی لڑکی ایمان عبدالعاطی کی صحت کے بارے میںافسوسناک خبر سامنے آئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق  بھارتی ڈاکٹروں نے اپنے  ایک تازہ بیان میں ایمان کے علاج میں اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریضہ جس خطرناک مرض کا شکار ہے اس کا ان کے پاس بھی کوئی علاج نہیں۔


العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایمان عبدالعاطی کے علاج پر مامور بھارتی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایمان جس انوکھی جینیاتی پیچیدگی کا شکار ہے۔ اس وقت اس کا کوئی علاج دنیا میں موجود نہیں ہے۔ بھارت میں مریضہ کی جو سرجری کی گئی ہے وہ بیماری کے ختم کرنے کا سبب نہیں بن سکی‘۔

مصری نیوز ویب پورٹل ’مید دائی‘ کے مطابق بھارتی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دنیا کی سب سے موٹی لڑکی ‘لیبرجین‘ نامی پیچیدہ جینیاتی بیماری کا شکار ہے۔ یہ جین جسم میں پروٹین مہیا کرنے، جسم کے وزن کو منظم کرنے، بھوک اور پیاس کوکنٹرول کرنے، علاوہ ازیں نیند، مزاج اور جسم کے درجہ حرارت کو منظم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ جنین پورے جسم سے ہارمونز کے اخراج کا بھی ذریعہ ہے۔

بھارتی شہر ممبئی کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے مصری مریضہ ایمان عبدالعاطی کو لاحق بیماری کے امریکا میں 36 تجربات کیے گئے ہیں۔

سیفی اسپتال کے ڈاکٹر سہیل شیخ کا کہنا ہے کہ ‘لیبرجین‘ کا کوئی موثر علاج دریافت نہیں کیا جاسکا ہے۔

اس کی سرجری ہی مفید سمجھی جاتی ہے مگر مصری لڑکے کے علاج کے لیے اس کی سرجری بھی کامیاب نہیں رہی ہے۔ اب جڑی بوٹیوں سے بیماری کے خاتمے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔