نیویارک :نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے طلبہ نے امریکی ریاست کیلیفورنیا کے اسٹینفورڈ سینٹر میں ہونے والا ڈزائن چیلنج2017 کا عالمی مقابلہ جیت لیا۔ اس مقابلے میں مختلف امراض سے متعلق بچاو ، تحفظ یا ان میں مدد فراہم کرنے والے تیار کردہ آلات پیش کیے گئے۔مقابلے میں امریکی ریاست میساچوٹس کے انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ( ایم آئی ٹی) نیو یارک کی کارنل یونورسٹی (سی یو) ورجنیا کی ورجینیا ٹیک، یونیورسٹی آف ساو پولو،بیجنگ یونیورسٹی اور خود اسٹین فورڈ یونیورسٹی کے طلبہ پر مشتمل ٹیموں نے حصہ لیا۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹ کی خبر کے مطابق اس عالمی مقابلے میں تمام ممالک کی ٹیموں نے مختلف امراض سے بچاو، تحفظ اور ان میں مدد فراہم کرنے سے متعلق تیار کردہ مختلف آلات پیش کیے ۔ پاکستانی طلبہ نے عالمی رینکگ میں اچھی پوزیشن میں شمار ہونے والی تمام یونیورسٹی کی ٹیموں کو شکست دیتے ہوئے یہ مقابلہ جیت لیا، ٹیم کو نقد انعام سمیت ایوارڈ پیش کیا گیا۔
نسٹ کے طلبہ کی 3رکنی ٹیم میں حوریا انعم، اویس شفیق اور ارسلان جاوید شامل تھے۔نسٹ کے طلبہ نے ذہنی بیماری کے باعث ہونے والی تھرتھراہٹ ، کپ کپی یا رعشے کی بیماری میں مدد فراہم کرنے والا ایک آلہ تیار کیا تھا، جس کی مدد سے اس بیماری میں مبتلا افراد کہیں بھی آزادی سے گھوم پھر سکتے ہیں۔
طلبہ کی جانب سے تیار کی گئی ڈوائس تاروں کے ذریعے ایک چپ سے منسلک ہے، جو تھرتھراہٹ یا کپ کپی میں مبتلا مریض کی بانہوں میں چسپاں کردی جاتی ہے.ڈوائس کے چلتے رہنے اور چپ کے مریض کے جسم سے چسپاں رہنے تک مریض آسانی سے اپنے کام سر انجام دے سکتا ہے۔