کشمیر ،ایک سُلگتی وادی

02-Apr-18

کشمیر دنیا کی قدیم ترین تہذیب وثقافت کا منبع ہے ۔اس کی تا ریخ کم و بیش ۵۰۰۰ سال پُرانی ہے۔نویں صدی عیسوی میں کشمیر ہندو ازم اور بدھ ازم کا مرکز رہا ہے۔ تیرھویں سے پندھوریں صدی عیسوی میں اسلامی تہذیب نے یہاں قدم رکھے۔ ۱۳۳۹ ء میں پہلا مسلمان بادشا ہ شا ہ میر یہاں کا حا کم بنا۔۱۸۴۶ء میں راجہ گلا ب سنگھ کشمیر کا حاکم بنا۔


۱۹۴۷ء میں جب پاکستان وجود میں آیا اس وقت تک یہ ہی سکھ خاندان کشمیر پر حکومت کرتا تھا ۔ راجہ گلا ب سنگھ کے خاندان کا سپوت مہاراجہ ہری سنگھ اس وقت کشمیر پر حکومت کرتا ہے۔مہاراجہ مسلمانوں کے خلاف دلی عناد رکھتا تھا ۔اس کے ظلم کے خلاف ۱۹۳۲ء سب سے پہلے شیخ عبداللہ نے آواز اُٹھائی اور پہلی سیا سی جماعت کی بنیاد رکھی ۔۳۴ ۱۹ء میں مہاراجہ نے کسی حد تک جمہوریت کی اجازت دی لیکن حکومت مہاراجہ ہی کی چلتی تھی۔


۲۶اکتوبر۱۹۴۷ء میں بھارت کے دبائو پر مہاراجہ نے کشمیر ریاست کا الحاق انڈیا کے ساتھ کرتے ہوئے کشمیر کی ۸۰ فی صد مسلمان آبادی کی خواہشوں اور امنگوں کو روند ڈالا۔جس کے بعد فوراََ انڈیا نے اپنی افواج جموں اور کشمیر میں داخل کر دی ۔اس مسئلے کو لے کر پاکستان نے پُر زور احتجاج کیا جس پر انڈیا نے یہ معاہدہ پیش کیا جسے پاکستان اور کشمیری عوام نے ماننے سے انکار کر دیا ۔ اس مسئلے کو لے کر پاکستان اور انڈیا میں۱۹۴۷ء میں جنگ شروع ہو گئی یہ انڈیا ہی تھا جو یکم جنوری ۱۹۴۸ء کو مسئلہ کشمیر کو یو ۔این میں لے کر گیا ۔یو ۔این نے دونوں ممالک کے درمیان ۱۹۴۹ ء کو سیز فائر کروا دیا ۔یو ۔ این نے بھی انڈیا کے اس کلیم کو ماننے سے انکار کر دیا اور کشمیر کو ایک متنا زعہ ریا ست قرار دے دیا ۔


کشمیر کا جھگڑا آج دنیا کا قدیم ترین اور عالمی جھگڑوں میں سے ایک ہے اور اس خطے میں ایٹمی جنگ کا باعث بن سکتا ہے۔ ۱۹۴۷ء سے ۱۹۴۸ء کی جنگ میں یو ۔این نے لا تعداد قرا ر داد پاس کیں ۔آخر کا ر ۲۱ اپریل ۱۹۴۸ء کو ایک قرار داد پاس کی گئی کہ جموں اور کشمیر کی ریاست کے مسلمانوں کو جمہوری طور پر یہ آزادی دی جائے کہ وہ چاہیں تو انڈیا یا پاکستان کے ساتھ الحاق کر لیں یا ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے اپنا آپ منوائیں ۔یہ قرار داد ہنوز عمل در آمد کی منتظر ہے۔


۱۹۶۵ ء کی جنگ کی وجہ بھی مسئلہ کشمیر بنا ستمبر۱۹۶۵ ء میں سیز فائر ہوا۔ انڈین وزیر اعظم لال بدھرو شاستری اور پاکستانی صدر ایوب خان نے معاہد ہ پر دستخط کیے جس میں اس بات پر اتفا قِ رائے قائم ہوا کہ اس مسئلے کو پُر امن طریقے سے بات چیت کے ذریعے سے حل کیا جائے۔ ۱۹۹۰ ء میں مسئلہ کشمیر پر بات چیت شروع ہوئی لیکن بغیر کسی نتیجے کے ۱۹۹۴ ء کو ختم ہو گئی اس کی بڑی وجہ انڈیا کا کشمیر کے مسئلے کو نہ ماننا تھا ۔ ۱۹۹۷ ء میں نواز شریف کے دور ِ حکومت میں سیکرٹری سطح کے مذاکرات شروع ہوئے لیکن بھارت اپنے ہی معاہدے سے پھر گیا اور یوں یہ مذاکرات بھی بے سود رہے۔دوسری طرف شیخ عبداللہ کے بیٹے فاروق عبداللہ نے تحریک شروع کی جو آج بھی جاری ہے۔


انڈیا کی کم و بیش ۶ لاکھ فوج کشمیر میں داخل ہے اور وہاں کی عوام پر ظلم و ستم میں مصروف ہے ۔معصوم نہتے شہریوں کے قتلِ عام سے لے کرعورتوں کی عصمت دری غرض ہر طرح کا ظلم ایک عام سی بات ہو کر رہ گئی ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ۱۹۹۶ ء ۔ ۱۹۸۹ء میں پندرہ ہزار کشمیریوں کو مارا جا چکا ہے جبکہ پچھلے ۷ سالوں میں یہ تعداد چالیس ہزار سے تجا وز کر چکی ہے۔ مسئلہ کشمیر چھ عشروں سے اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے زیرِ التوا ہے۔


ہم ہر سال یوم کشمیر جوش و جذبے سے مناتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف اتنا کافی ہے کہ ہم اس دن چھٹی منائیں گھر پر بیٹھیں فلم دیکھیں یا بچوں کے ساتھ کہیں گھومنے چلیں جائیں کیونکہ اب ہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ محرم کی چھٹی ہو یا یومِ آزادی ہو ،یومِ تکبیر ہو یا یومِ اقبال یا پھر کشمیر ڈے ہمارے لیے ہر تعطیل بس تفریح کا ذریعہ بن چکی ہے ۔بیداری کی ضرورت ہے اس امر کی ضرورت ہے کہ اس دن کو ایسے منائیں کہ پوری دنیا نوٹس لے کشمیریوں کو یہ احساس ہو کہ وہ اس مشکل کی گھڑی میں اکیلے نہیں ہیں ہم اُن کے ساتھ ہیں اور اُن کے ساتھ رہیں۔


بھارت کو سمجھنا ہو گا کہ وہ بہ زورِ بازو کشمیریوں کی جدوجہد کو دبا نہیں سکتا ۔اب ظُلم مزید روا نہیں رکھا جا سکتا ۔خود بھارت کے اندر سے بھی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تنقید شروع ہو چُکی ہے ۔نئی صبح کے سورج کی کرنوں کی روشنی اب سُلگتی کشمیر کی وادی کی دھرتی کو چوم رہی ہے ۔اب وہ وقت دور نہیں جب بھارت اپنی ہی بد مستی کا شکار ہو گا ۔ خدا کرے کہ جلد ازجلد یہ مسئلہ حل ہو ۔

سہیل رضا تبسم

(ادارے کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں)

مزیدخبریں