خطے کی سکیورٹی اور استحکام ہماری پالیسی کا حصہ ہے : آرمی چیف

 خطے کی سکیورٹی اور استحکام ہماری پالیسی کا حصہ ہے : آرمی چیف

اسلام آباد:  آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ خطے کی سکیورٹی اور استحکام ہماری پالیسی کا حصہ ہے ، مقاصد کے حصول کیلئے ملک کے اندر اور باہر استحکام ضروری ہے۔

اسلام آباد میں سیکیورٹی ڈائیلاگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ  سکیورٹی ڈائیلاگ میں دوبارہ بات کرکے خوشی ہوئی، ڈائیلاگ کے انعقاد پر معیدیوسف کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

آرمی چیف نے کہا کہ خطے کو دہشت گردی ،غربت ،موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے ، خطے میں استحکام ہماری پالیسی کا حصہ ہے اور اس کیلئے ملک کے اندر اور باہر استحکام ضروری ہے۔ 

،

آرمی چیف نے ملک میں دہشتگردی کے خاتمے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  ہم نے دہشت گردی کے خلاف کامیابیاں حاصل کیں،  دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے 90 ہزار جانیں قربان کیں، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک کوشش جاری رکھیں گے ،  شہریوں کی خوشحالی اور سلامتی ترجیح  ہے۔

افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کے ساتھ ملکر اٖفغانوں کی فلاح و بہبود کیلئے کام کیا، پاکستان نے 40 لاکھ افغان  باشندوں کو پناہ دی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے متعلق رابطوں کو منقطع نہیں کرنا چاہیے ، پابندیاں لگانے کے بجائے افغانوں کے مثبت رویے کو ملحوظ خاطر رکھیں۔

آرمی چیف نے تقریب سے خطاب کے دوران بھارت کی جانب سے پاکستانی حدود میں سپر سانک میزائل گرنے کے واقعے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کو میزائل سے متعلق پہلے آگاہ نہیں کیاتھا ، میزائل کے باعث  کسی کا بھی جانی نقصان ہو سکتا تھا ْ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کیمپ کی پالیٹکس پر یقین نہیں رکھتا، پاکستان نے عالمی قوانین کی پاسداری کی ،پائلٹ واپس کیا ۔انکا کہنا تھا کہ  ایل او سی پر صورتحال فی الحال قابل اطمینان ہے ۔ آرمی  چیف نے  کہا کہ پاکستان سب کے ساتھ ملکر کام کرنا چاہتا ہے ، پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ڈپلومیسی ،مذاکرات  پر یقین رکھتا ہے۔ 

روس سے تعلقات پر بات کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ روس کے ساتھ پرانے تعلقات ہیں، روس کا یوکرین پر حملہ بہت افسوسناک ہے ،بہت سے شہری ہلاک ہوچکے ، پاکستان روس یوکرین جنگ بندی کا مطالبہ کررہا ہے ، دونوں ممالک کے تنازع کو ہاتھوں سے نہیں نکلنا چاہیے ۔

مصنف کے بارے میں