بھارت کی غیر قانونی سرحدی فوجی دراندازیاں ناقابل برداشت ہیں، چین کا انتباہ

بھارت کی غیر قانونی سرحدی فوجی دراندازیاں ناقابل برداشت ہیں، چین کا انتباہ

بیجنگ: چین کی وزارت خارجہ نے بھارتی سرحدی فوج کی سکم سیکٹر میں چین۔بھارت سرحد پر چینی علاقے میں در اندازی سے متعلق ملک کی پوزیشن کا اعادہ کیا ہے۔


وزارت خارجہ کے ترجمان جینگ شوانگ نے کہا کہ قبل ازیں معاملے کے بارے میں جاری کی جانیوالی حقائق شیٹ کا مقصد بین الاقوامی برادری کو بھارتی سرحدی فوج کی غیر قانونی دراندازی کی حقیقت اور حقائق سے آگاہ کرنا اور چینی حکومت کی پوزیشن کا مکمل جائزہ پیش کرنا ہے ۔

ترجمان نے کہا کہ ایسا کر کے چین نہ صرف اپنی علاقائی یکجہتی کا دفاع کرنے کا عزم رکھتا ہے بلکہ بین الاقوامی تعلقات سے متعلق بنیادی اقدار اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کا تحفظ کرنا اور انصاف اور سچائی کو سربلند رکھنا ہے۔چین کو یقین ہے کہ سچ کو جھوٹ میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور انصاف کا بول بالا نہیں ہوسکتا.

چینی پوزیشن کی مزید وضاحت کرتے ہوئے جینگ شوانگ نے کہا کہ ’’ 18جون کو بھارتی سرحدی فوج چین ۔بھارت سرحد کے سکم سیکٹر کو غیر قانونی طورپر پار کر  کے  چینی علاقے میں داخل ہو گئی ،اب تک بھارتی سرحدی فوج غیر قانونی طورپر چینی علاقے میں موجود ہے ، یہ واقعہ رونما ہونے کے بعد سے چین نے بھارت کی طرف سے غیر قانونی در انداز ی کی پرزورمذمت کرنے کے لئے متعدد بار سفارتی ذرائع کے ذریعے بھارت سے سنگین احتجاجی مراسلے ارسال کئے ہیں اور بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تاریخی سرحدی کنونشن کی پاسداری کرے اور فوری اور غیر مشروط طورپر در اندازی کرنیوالی بھارتی سرحدی فوج کو سرحد کے باقی علاقے کی طرف واپس بلالیا جائے ۔

ترجمان نے کہا چین نے زبردست صبرو تحمل کا مظاہرہ کیا ہے تا ہم اپنے غلط اقدام کی تصحیح کیلئے ٹھوس اقدام کرنے کی بجائے بھارت نے اپنی سرحدی فوج کی غیر قانونی دراندازی کے جواز کو ثابت کرنے کے لئے ہر قسم کی ناقابل قبول بہانہ بازی سے کام لیا ، سکم سیکٹر میں چین ۔بھارت سرحد کی پہلے ہی سکیم اور تبت سے متعلق چین اور برطانیہ کے درمیان 1890کے کنونشن کے ذریعے حد بند ی کی گئی ہے اور سرحد کا وضاحت شدہ سیکٹر ہے جسے چین اور بھارت دونوں کی حکومتوں نے تسلیم کیا ہے، یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے جو کچھ کیا ہے وہ 1890کنونشن اور وہاں پر قائم شدہ چین ۔بھارت کی حد بندی کی خلاف ورزی ہے اور یہ بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں اور بین الاقوامی تعلقات سے متعلق بنیادی اقدار کے منافی ہے، اس طرح نہ صرف چین کے علاقائی خود مختاری کی سنگین خلاف ورزی کی گئی ہے بلکہ اس سے علاقائی امن و استحکام اور معمول کا بین الاقوامی نظام سنگین چیلنج لاحق ہو گئے ہیں جسے کوئی بھی خود مختار ریاست برداشت نہیں کر سکتی۔

نیوویب ڈیسک< News Source