طلال چودھری 5 سال کیلئے نااہل قرار

طلال چودھری 5 سال کیلئے نااہل قرار

سپریم کورٹ نے طلال چوہدری کے خلاف توہین عدالت کیس کا فیصلہ 11 جولائی کو محفوظ کیا تھا۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دے دیا۔

 

جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے طلال چوہدری کے خلاف توہین عدالت کیس کا فیصلہ سنایا۔

 

طلال چوہدری کو آرٹیکل 204 کے تحت توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا گیا۔عدالت عظمیٰ نے ان کو حکم دیا کہ جب تک عدالت برخاست نہیں ہو جاتی آپ عدالت میں ہی موجود رہیں گے 

 

طلال چوہدری 5 سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے کے لیے بھی نااہل قرار پائے ہیں جبکہ ایک لاکھ جرمانہ کی بھی سزا دی گئی ہے۔ سابق وزیر مملکت طلال چوہدری نے عدالت میں 2 گھنٹے 5 منٹ قید کی سزا کاٹی۔

 

 

فیصلے کے دن طلال چوہدری کو عدالت میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے طلال چوہدری کے خلاف توہین عدالت کیس کا فیصلہ 11 جولائی کو محفوظ کیا تھا۔

 

یاد رہے کہ طلال چوہدری نے مسلم لیگ (ن) کے جڑانوالہ میں جلسے کے دوران عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک وقت تھا جب کعبہ بتوں سے بھرا ہوا ہوتا تھا۔ آج ہماری عدالت جو ایک اعلیٰ ترین ریاستی ادارہ ہے میں پی سی او ججز کی بھر مار ہے۔

 

مزید پڑھیں: فواد حسن فواد کی معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا

انہوں نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میاں صاحب انہیں باہر پھینک دو، انہیں عدالت سے باہر پھینک دو یہ انصاف نہیں دیں گے بلکہ اپنی نا انصافی جاری رکھیں گے۔

 

خیال رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے یکم فروری کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کو عدلیہ کے خلاف تقریر کرنے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔

 

سپریم کورٹ نے 6 فروری 2018 کو طلال چوہدری کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں ایک ہفتے میں وکیل کی خدمات حاصل کرنے کی مہلت دی تھی۔

 

طلال چوہدری نے 24 فروری کو سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کیس میں اپنا عبوری جواب جمع کرایا تھا۔ سپریم کورٹ نے 26 فروری کو سابق وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری سے متعلق توہینِ عدالت ازخود نوٹس کیس میں وکیل کی عدم پیشی پر سماعت 6 مارچ تک ملتوی کر دی تھی۔

 

عدالت عظمیٰ نے 6 مارچ کو ہونے والی سماعت میں ڈپٹی اٹارنی جنرل کو بیانات سے متعلق سی ڈی طلال چوہدری کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

 

یہ خبر بھی پڑھیں: اقتدار کیلئے عمران خان شیطان سے بھی اتحاد کر سکتے ہیں، سعد رفیق

14 مارچ کو ہونے والی سماعت کے دوران طلال چوہدری پر فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکی تھی۔ بعد ازاں 15 مارچ کو ان پر توہین عدالت مقدمے میں فرد جرم عائد کر دی گئی تھی۔

 

بعد ازاں 21 مئی کو سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران طلال چوہدری کو اپنے دفاع میں گواہان پیش کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

 

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں