نریندر مودی کا عمران خان کو ٹیلی فون کرنا خوش آئند ہے، پاکستان

نریندر مودی کا عمران خان کو ٹیلی فون کرنا خوش آئند ہے، پاکستان

image by facebook

اسلام آباد:پاکستان نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے چیئرمین پاکستان تحریک اںصاف ( پی ٹی آئی ) عمران خان کو ٹیلی فون کرنے کا خیر مقدم کیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فونک رابطے سے دو طرفہ جامع مذاکرات کی راہ ہموار ہوگی،انہوں نے بتایا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا عمران خان کو ٹیلی فون کرنا خوش آئند ہے تاہم انہوں نے یہ واضح کیا کہ نو منتخب وزیر اعظم کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے غیر ملکی سربراہان مملکت کو مدعو نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیئے:عامر خان کو دعوت نامہ نہیں ملا، وہ پاکستان نہیں جارہے
 

خیال رہے کہ 30 جولائی کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے عمران خان سے ٹیلی فونک گفتگو میں پاکستان کے ساتھ تعلقات میں نئے دور کے آغاز کے عزم کا اظہار کردیا ، نریندر مودی نے عمران خان کو ٹیلی فون کرکے انتخاب میں کامیابی پر مبارکباد پیش کی تھی اور نیک تمناؤں اور خواہشات کا اظہار کیا تھا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں عام انتخابات کے پر امن انعقاد پر پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے، بین الاقوامی مبصرین نے بھی انتخابات کے کامیاب انعقاد کو سراہا ہے اور ملک جمہوری تسلسل اور دوسری مرتبہ اقتدار کی منتقلی دیکھ رہا ہے۔

مسئلہ کشمیر پر بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی مظالم کی مذمت کی اور اسلحہ کے انبار لگانے کے بھارتی رجحان پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔

انہوں نے بتایا کہ بھارتی قابض فورسز نے جولائی میں 21 کشمیریوں کو بھارتی قابض فورسز نے جولائی میں 21 کشمیریوں کو شہید جبکہ 310 کو زخمی کیا گیا اور ظلم و بربیت کا سلسلہ جاری ہے۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ بھارت کی جانب سے غیر ملکی صحافیوں کو مقبوضہ کشمیر آنے کی اجازت نہ دینا قابل مذت ہے، بھارت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو چھپانا چاہتا ہے ، انہوں نے کہا کہ بھارت کی قید میں موجود حریت رہنماؤں اور دیگر معصوم کشمیریوں کو انصاف تک رسائی نہیں دی جا رہی اور پابند سلاسل حریت رہنماؤں کی صحت تیزی سے خراب ہو رہی ہے اور انہیں علاج کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے:عمران خان کی حلف برداری میں ضرور جائوں گا، نوجوت سنگھ سدھو
 
 
افغانستان کے معاملے پر بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ پاکستان اور افغان الیکشن پلان امن و ہم آہنگی کا کامیاب اجلاس حال ہی میں منعقد ہوا تھا ، انہوں نے بتایا کہ ورکنگ گروپ اجلاس میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مل جل کام کرنے کا اعادہ کیا کیونکہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے ، ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاک افغان قیادت سے رابطوں میں ہیں، امید ہے اس سے سارک ممالک کے مابین رابطے بڑھیں گے۔

روسی کوہ پیما کے حوالے سے کیے گئے آپریشن پر ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاک فوج نے 29 جولائی کو اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر روسی کوہ پیما کو بچایا ، انہوں نے بتایا کہ روسی کوہ پیماء الیگزینڈر گوبیافو نے زندگی بچانے پر شکریہ ادا کیا ہے ۔

خیال رہے پاک فوج نے 31 جولائی کامیاب ریسکیو آپریشن کرتے ہوئے گلیشیئر میں پھنسنے والے روسی کوہِ پیما الیگزینڈر گوبیافو کو بحفاظت اتار لیا تھا، پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق روسی کوہِ پیما شمالی علاقہ جات میں بیافو گلیشیئر میں 20 ہزار 6 سو 50 فٹ بلند چوٹی لوٹک پر پھنس گئے تھے۔