نواز شریف سے گفتگو: ٹرمپ ٹیم کے بیان کے بعد حکومت شرمندہ

نواز شریف سے گفتگو: ٹرمپ ٹیم کے بیان کے بعد حکومت شرمندہ

اسلام اباد: نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کی طرف سے  وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی وضاحت اور گفتگو کا مختلف متن سامنے آنے کے بعد سے پاکستان نے چپ سادھ لی۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق  پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریہ نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔


ان کا کہنا تھا ’ہمارے پاس ان (ٹرمپ کے انتقال اقتدار کے عملے ) کی جانب سے کوئی بیان نہیں آیا ہے اس لیے میں اس پر تبصرہ نہیں کروں گا۔وزیر اعظم  نے  ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارک باد دینے کے لیے ٹیلی فون کیا تھا جس کے بعد وزیرِ اعظم ہاؤس نے روایت کے برعکس دونوں سربراہان کے درمیان ہونے والی گفتگو کا تمام متن پریس ریلیز کے ذریعے جاری کر دیا۔

اس کے نتیجہ میں امریکی میڈیا اور سابق امریکی حکومتی اہلکاروں نے پاکستان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے سفارتی آداب کی خلاف وزری قرار دیا۔ اس سلسلے میں پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے ’وہ کسی اور حکومتی ادارے کی کارروائی سے متعلق تبصرہ نہیں کر سکتے۔

 پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ ٹیلی فون پر امریکی منتخب صدر کی گفتگو پر تنقید کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے انتقال اقتدار کے عملے نے اپنے رد عمل میں ایک بیان جاری کیا۔ ٹیم نے دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو کا اپنا مختلف متن جاری کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کی ٹیم نے کہا ہے کہ ’منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیر اعظم کے درمیان موثر بات چیت ہوئی ہے جس میں باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے پر بات کی گئی۔

رپورٹس میں بغیر کسی مشیر کا نام لیے کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں ایسی باتیں ڈونلڈ ٹرمپ سے منصوب کی گئیں جو کہنا ان کا مقصد نہیں تھا۔‘ امریکی منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے تعلقات بڑھانے کی بات کی۔ انھوں نے پاکستان آنے کی خواہش ظاہر کی اور ہم انھیں خوش آمدید کہتے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان پر امریکہ میں منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ ماضی میں ان کی جانب سے ٹویٹ کے ذریعے پاکستان مخالف بیانات ہیں۔

دونوں سربراہان کے درمیان گفتگو کے بارے میں پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریہ کا کہنا تھا ’امریکی منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے تعلقات بڑھانے کی بات کی۔ انھوں نے پاکستان آنے کی خواہش ظاہر کی اور ہم انھیں خوش آمدید کہتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ انھوں نے خطے کے تنازعات کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے کی بات بھی کی۔ اور ظاہر ہے ان کا واضح اشارہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کی طرف تھا۔

وزیر اعظم ہاوس کی طرف سے جاری ہونے والے بیان اور ٹرمپ ٹیم کی طرف سے جاری بیان میں واضح تضاد ہونے کے باعث حکومت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔