اوورسیز پاکستانیوں کو مردم شماری میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ

اوورسیز پاکستانیوں کو مردم شماری میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ

 اسلام آباد: پاکستان بیورو شماریات کے چیف آصف باجوہ نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا اس سال ہونیوالی مردم شماری میں بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کو شمار نہیں کیا جائے گا یہ غیر ملکی تصور ہونگے۔ اس وقت بیرون ممالک میں 70 سے 80 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں جو سالانہ 18 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ کے ذخائر پاکستان بھجواتے ہیں۔ آصف باجوہ نے کہا کہ برصغیر پاک و ہند میں پہلی مردم شماری 1881ء میں ہوئی تھی۔


پاکستان بننے کے بعد سے اب تک پانچ بار مردم شماری ہو چکی ہے۔ آئین میں دس سال بعد مردم شماری کرانے کی کوئی شرط موجود نہیں ہے۔ یہ بات عالمی کنونشن میں بھی ہے کہ دس سال بعد مردم شماری کرائی جائے۔ ہر ملک اپنے وسائل کو دیکھ کر مردم شماری کرواتا ہے۔ پاکستان میں چھٹی مردم شماری 2008ء میں ہونا تھی لیکن مختلف وجوہات کی بناء پر اسے ملتوی کرنا پڑا ۔ سی سی آئی نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر 15 مارچ کو چھٹی مردم شماری کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مردم شماری میں ملک میں رہنے والے ہر شخص کو کاﺅنٹ کیا جائے گا۔

مزید خبریں اور معلومات جاننے کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں