تحقیق کے حوالے سے زابر سعید بدر کی کتابوں کا مقام و مرتبہ

تحقیق کے حوالے سے زابر سعید بدر کی کتابوں کا مقام و مرتبہ

تحقیق ایک ایسا شعبہ ہے جس پر دنیا بھر میں بہت توجہ دی جا رہی ہے.امریکہ میں اربوں ڈالر کا بجٹ صرف تحقیق کی مد میں مختص ہے، یہی حال یورپ کا ہے جہاں ہزاروں افراد مختلف شعبہ جات میں تحقیق/ریسرچ کر کے کروڑوں افراد کی زندگیوں میں بہتری اور تبدیلی لانے کے لئے کوشاں ہیں۔


ہمارا پڑوسی ملک بھارت ریسرچ کے حوالے سے ہم سے بہت آگے ہے

ایچ ای سی کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں  گزشتہ 6 سالوں کے دوران  تقریباً 5 ہزار افراد نے ڈاکٹریٹ کیا اور یہ بھی حکومت کی سرپرستی کی وجہ سے ممکن ہوا لیکن بھارت میں یہ تعداد کئی گنا زیادہ ہے۔جن دنوں پاکستان میں صرف پانچ سو پی ایچ ڈی تھے بھارت میں پانچ ہزار تھے، آج بھی ایچ ای سی کی نامعقول قسم پالیسیوں کی وجہ سے سوشل سائینسز میں ایم فل اورپی ایچ ڈی کرنے والوں کو بہت مشکلات کا سامنا ہے۔ ارباب اختیار کا خیال ہے کہ تحقیق کی اہمیت صرف سائینس کی شعبوں میں ہے ۔تاریخ,ادب,ابلاغ عامہ,سیاسیات وغیرہ میں تحقیق کی کیا ضرورت ہے.

مجھے پچپن سے ہی سیاسیات سے خصوصی دلچسپی تھی، ملکی سیاست اور عالمی امور پر تبصرےٹی وی پر میں بڑے ذوق و شوق سے دیکھا کرتی.چنانچہ میں نے ڈاکٹریٹ کے لئے اسی کا انتخاب کیا.

محترم  محمد زابر سعید بدر سے تعارف بھی ان کی کتابوں کے حوالے سے ہی ہوا, کتاب دوست اورقلمی دنیا میں شائد ہی کوئی ایسا ہو جو آپ کے نام سے نا واقف ہو۔ قلمی خدمات میں مختلف موضوعات پر50 سے زائد کتب کی تخلیق آپ کے دانشوارانہ و انقلابی ذہن کی عملی دلیل ہے، صحافت و علمی اداروں سے وابستہ افراد آپ کی خدمات سے بخوبی فیضیاب ہو رہے ہیں۔ زابرسعید بدر سر سے تعارف بذریعہ کتاب”پاکستان اور گلوبل ورلڈ، پاکستان اور ورلڈ افیئرز“ کے ذریعےہوا۔میں اُس وقت اپنے پی ایچ ڈی کے تھیسیز کی تکمیل کے سفر سے گزر رہی تھی،زابر سر کی کتاب میں موجود اُن کے فون نمبر سے رابطہ ہوا اور اُنھوں نے نہ صرف ریسرچ ورک میں مدد کرنے کی حامی بھرلی بلکہ جب جب مجھے دشواریوں کا سامنا رہا اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود میری رہنمائی کی اور ریسرچ ورک کے دوران ایک ریسرچر جن اذیت ناک مسائل سے دوچار ہوتا ہے اُن سے کیسے اور کیونکر نمٹا جائے یہ سکھایا۔افغان وار کے بعد جس طرح عالمی سیاست نے کروٹ لی،اور جہاد و اسلام کے ماننے والوں اور اسے پسند کرنے والوں کیلئے یہ عہد اس لحاظ سے کافی مشکل رہا کہ نئی عالمی قوت امریکہ نے دہشتگرد اور دہشتگردی کی نئی پالیسی اپنا کر جہاد اور جہادیوں کو اپنے مفادات کی عینک سے دیکھا اور دنیا کو عالمی میڈیا کے ذریعے وہی کچھ دیکھانا شروع کردیا جو وہ دیکھانا چاہتا تھا۔ایسے میں اسلام اور اسلام کے ماننے والوں کیلئے افغان وار کے دوران دی گئی قربانیوں اور ۱۱/ ۹ کے بعد کی صورتحال میں جہاد اور جہادیوں کو سمجھنا مشکل ہورہاتھا۔عالمی سیاست کے نشیب و فراز کو میرے جیسی نو آموز لکھاری کیلئے بھی دشوار تھا جیسے آسان بنانے میں زابر سر اور اُن کی کتب نے میری رہنمائی کی۔

آپ کی تحریریں آسان فہم وسادہ لفظوں کی حامل ہیں یہی وجہ ہے کہ طالب علم ہو یا ایک عام قاری، اُن کے انداز بیاں اورنظریات سے استفادہ ہی نہیں کرتا بلکہ گمبھیر مضامین کو بھی بخوبی سمجھنے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے۔ہمہ جہت شخصیت کے حامل زابر سعید بدر یقینی طور پر ایک محب وطن مسلمان دانشور کی حیثیت و مرتبہ کی پاسداری و ذمہ داری سے واقف ہیں،باریک بینی کے ساتھ ماضی حال و مستقبل کادانشوارانہ وسیع مطالعہ اور تجزیہ اُن کے مثبت نظریات کی دلیل ہے۔پاکستانی معاشرے کی سیاسی،سماجی و ادبی تاریخ کو بہ نوک قلم جس طرح صفحات پر سجاتے ہیں وہ آپ ہی کا خاصہ ہے۔

پاکستان کی داخلی سیاست سے لے کر عالمی سیاست و پالیسیز کو بڑی خوبی سے ضبط تحریر میں لا کر علم سیاست کے طالبعلموں کو سیاسی فکر و شعور عطا کرتے ہیں۔حال ہی میں شائع ہونے والی ان کی کتاب پاکستان اور فوج نے کامیابی کے جھنڈے ہر جگہ گاڑ دئیے ہیں.پہلی نظر میں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ماس کمیونیکیشنز کے ماہر قلم ہیں جو کہ ایک ادھورا تعارف ہے اس لئے کہ اُپ وسیع علم و فکر کے حامل قلم کار ہیں اُن کی تمام کتب کے قاری جانتے ہیں کے وہ قلم کی دنیا میں لا محدود اسلوب رکھتے ہیں۔ ہم سب بحثیت پاکستانی اور طالب علم اللہ ربالعالمین سے دعاگو ہوں کہ وہ ہمیشہ اسی جذبے کے ساتھ اپنے علم وقلم سے ملک و قوم کی خدمت کرتے رہیں۔

ڈاکٹر شازیہ اشفاق کا تعلق شعبہ سیاسیات,جامعہ کراچی سے ہے یہیں سے انہوں نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی, ملکی اور عالمی امور پر ان کے مضامیں قومی اخبارات کی زینت بنتے رہتےہیں۔

 نوٹ: بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں.