ایک اور بھارتی فوجی اعلی افسران پر پھٹ پڑا

ایک اور بھارتی فوجی اعلی افسران پر پھٹ پڑا

نئی دلی:  دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور پورے خطے کو جنگی ہیجان میں مبتلا کرنے والا بھارت چاہے ترقی اور خوشحالی کا جتنا بھی راگ الاپ لے لیکن صورت حال یہ ہے کہ بھارتی فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ماتحت افسران اور سپاہیوں کی حالت انتہائی مخدوش ہے اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پچھلے کچھ ماہ سے تواتر کے ساتھ بھارتی فوجیوں کی ایسی وڈیوز منظر عام پر آرہی ہیں جو ان کی حالت زار کی بھر پور ترجمانی کرتی ہیں۔


سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی نئی وڈیو میں ایک فوجی اہلکار کہہ رہا ہے کہ جوان کا کھانا خراب، جلی روٹی اور پانی والی دال کی ویڈیو جب سے وائرل ہو ئی ہے، ٹی وی پر ایک بحث میں جنرل(ر)بخشی کے سامنے ہمارے لیڈر بیر بہادر سنگھ کو بٹھایا گیا تو بخشی صاحب اس دن سے میوٹنی(کھلی غداری)کا ناٹک لے کر بیٹھے ہوئے ہیں۔سپاہی اپنی وڈیو میں کہتا ہے کہ جنرل بخشی صاحب! میوٹنی کا لفظ انگریز حکومت اور ان کی فوج کے خلاف سپاہیوں کا لفظ ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ بھارت میں انگریزوں کے قبضے کے خلاف 1857 میں ہونے والی فوجی بغاوت میں انگریزوں نے اسی میوٹنی کا استعمال کرتے ہوئے بھارتی سپاہیوں کا کورٹ مارشل کیا تھا اور انہیں موت کی سزا بھی دی تھی۔ یہ بغاوت برطانوی حکومت کے انگریز افسروں کی بھارتی عوام اور بھارتی سپاہیوں کے خلاف مظالم اور سازشی سیاست کے خلاف تھا۔ آج نہ تو کوئی غیرملکی بھارت پر حکومت کررہا ہے اور نہ ہی بھارتی فوجی ملک کے غدار ہیں جو اپنی ہی فوج میں رہتے ہوئے بغاوت کریں گے۔اپنی وڈیو میں سپاہی مزید کہتا ہے کہ آپ جیسے بھارتی کالے انگریز، فوجی افسروں کی سوچ کی وجہ سے ہی بھارتی فوج اور کمیشنڈ افسروں اور فوجیوں کے درمیان خلیج روز بروز بڑھتی ہوتی جارہی ہے۔ جانچ تو آپ جیسے افسروں کے خلاف ہونی چاہئے جنہوں نے اپنے سپاہیوں کو خادم، نوکر، ذاتی ملازم، بٹ مین اور بڈی جیسے ناموں کے ساتھ گھریلو نوکر بناکر رکھا۔ رامو سے بدتر حالت کردی ہے ان کی، جسے آپ اپنے سرکاری بنگلے کی صفائی ستھرائی، بچوں کو اسکول لے جانا، میم صاحبوں کے کپڑے دھونا، جوتا پالش کروانا، کتوں کو گھمانا، کتوں کی غلاظت صاف کرنا، بچوں کو اسکول چھوڑنا اور لانا؛ بس اسی ڈیوٹی پر انہیں لگا کر رکھا ہوا ہے۔اس کے باوجود اگر وہ اپنے گھر کی کوئی پریشانی بتاتا ہے تو اسے تب تک چھٹی نہیں ملتی جب تک کوئی دوسرا جوان اس کی جگہ ڈیوٹی سنبھالنے نہ آجائے.