چیز بناتے ہیں میٹھی ، مگر زندگیاں ہیں پھیکی

چیز بناتے ہیں میٹھی ، مگر زندگیاں ہیں پھیکی

سندھ کا ذرخیز ضلع خیرپور ویسے تو بہت ساری چیزوں کی وجہ سے پاکستان سمیت دیگر ممالک میں مشہور ہے ، جن میں خیرپور کی کھجی ،حفت زبان شاعر سچل سرمست ، سندھی زبان کے مشہور شاعر خوش خیر محمد  اور گنے سے بنا ہوا گڑشامل ہیں۔


گڑ جس کی مٹھاس اور اس کا ذائقہ ہر کسی کی پسند ہوگی

سردیوں میں تو اسے کھانا صحت کے لیئے بھی کافی مفید ہے مگر گڑ کو تیار کرنا بھی مشکل کاموں میں سے ایک ہے، گڑ کو تیار کرنے کیلئے مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، سب سے پہلا مرحلا ہوتا ہے گنے کی کٹائی کے بعد اسے مشین تک لانے کا جسے عام زبان میں چیچڑا کہا جاتا ہے، گنے کو چیچڑے میں ڈال کر اس کا رس نکالاجاتا ہے، رس کے نکلنے کے بعد اسے بڑے سی کڑاہی میں پکانے کےلیئے ڈالا جاتا ہے ، مزدور تیز آگ جلا کے اس رس کو پکاتا ہے، رس پکنے کے بعد گاڑہی ہوجاتی ہے پہر اس میں رس گاٹھ اور میٹھی سوڈا ملائے جاتی ہے جیسے وہ رس صاف ہوجائے، گڑ بنانے والا ایک کاریگر کڑاہي میں پک رہے گنے کے رس پر آنے والی میل، جھاگ اور دیگر کثافتوں کو ایک چھلنے کے ساتھ مسلسل باہر نکالتا رہتا ہے۔ رس مسلسل پکنے کے بعد لیکوئیڈ کی شکل میں آجاتی ہے،پکنے کے بعد اسے لکڑی کے بنے ہوئے برتنوں میں بھرا جاتا ہے اور پھر اسے سوکھنے کے لیئے سورج کی روشنی کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔

سوکھنے کے بعد اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کردیئے جاتے ہیں ، اور پھر تیار ہوتی ہے یہ میٹھی سوغات

بظاہر تو یہ کام ہمیں بہت آسان سا لگتا ہے مگر در حقیقت اس کام کیئلے بہت محنت درکار ہوتی ہے اور تو اور گڑ بنانے والے مزدوروں اور کاریگروں کو ان کا صحیح معاوضہ بھی نہیں ملتا، اس میٹھی چیز بنانے والوں کی زندگیاں حقیقت میں تو پھیکی ہیں، گڑ بنانے والے کاریگروں کو روزانہ 700 روپے اور کام کرنے والے مزدوروں کو صرف 400 یا 350 روپے ہی ملتے ہیں، کیوں کہ یہ کام صرف دو سے تین مہہینے ہی چلتا ہے اس لیئے وہ صرف نومبر سے دسمبر تک کام کر پاتے ہیں، پہر ڈہونڈتے ہیں کوئی دوسری مزدوری۔

وہاں کے مقامی آبادگارغلام عمر ابڑونے بتایا کے ہم تقریبا 9 مہینے گنے کی فصل کی کاشت کرتے ہیں ، اور ان نوں مہینوں میں ہم دن رات محنت کرکے اس فصل کا خیال رکھتے ہیں،پہر فصل تیار ہونے کے بعد گنے کا کچھ حصہ تو کسی شوگر مل کو دیتے ہیں باقی جو بچتا ہے اس کا گڑ بناتے ہیں ، انہوں نے مزید بتایا کہ شوگر ملز والے تو ہمیں گنے کا مقرر کردہ ریٹ نہیں دیتے پر پھر بھی مجبور ہو کے گنا انہیں دینا پڑتا ہے شوگر مل والے بڑے بااثر ہیں اگر ان کے ریٹ پر نہیں دیتے تو وہ ہمیں آنکھیں دکھاتے ہیں اور پہر اس کے علاوہ وئی چارہ بھی نہیں ہے ہمارے پاس ،مگرگڑ سے ہماری اچھی خاصی کمائی ہوجاتی ہے اور یہ گڑ تو ہماری شہر کی روایت ہے ہمارے دادا پڑ دادا کے دور سے ہم گڑ بناتے آئے ہیں۔

گڑ بنانے والے ایک مزدور خدا بخش سے جب اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ معاوضہ تو ہمیں پیٹ گزارے کے لیئے ملتا ہے پر کیا کریں کام تو کرنا ہے اور آج کل مزدوری بھی مشکل مل رہی ہے اس لیئے جو ملے بسم اللہ ، یہ تو ہوائی روزی ہے آج ہے کل نہیں یہ کام ختم ہونے کے بعد ہم دوسرے شہروں کے لیئے چلے جاتے ہیں ۔

                                           نبیل ابڑو سندھ یونیورسٹی میں ماس کمیونیکیشن کے طالبعلم ہیں