ایران میں حکومت مخالف مظاہروں میں ہلاک ہونیوالوں کی تعداد 20ہو گئی

ایران میں حکومت مخالف مظاہروں میں ہلاک ہونیوالوں کی تعداد 20ہو گئی

تہران: ایران میں مہنگائی سے تنگ عوام کے حکومت مخالف مظاہرے چھٹے روز میں داخل ہو گئے۔ سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد اب تک 20 ہو گئی۔مظاہرین نے کئی پولیس اسٹیشنز پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی اور آگ لگا دی۔


پولیس نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہلاک افراد کی تعداد 10سے تجاوز کر کے20ہو گئی ہے۔یہ احتجاج 2009 میں اصلاحات کے حق میں ہونے والی ریلی کے بعد سب سے بڑا عوامی احتجاج ہے۔اور قوت کے ساتھ ساتھ نہ صرف صورت حال بگڑتی جا رہی ہے بلکہ ایران میں تاحال سوشل میڈیا سروسز بحال نہیں کی جا سکیں۔

اور صدر حسن روحانی کا خطاب بھی اس مظاہرہ کی روک تھام میں کوئی خاص کردار ادا نہ کر سکا۔اپنے خطاب میں صدر روحانی نے کہا تھا کہ ایرانی عوام حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے کے لیے آزاد ہیں لیکن سکیورٹی کو خطرے میں نہیں ڈالا جائے۔

انھوں نے تسلیم کیا تھا کہ کچھ معاشی مسائل ہیں جن کو حل کرنا ضروری ہے لیکن ساتھ ہی متنبہ بھی کیا کہ پرتشدد کارروائیاں برداشت نہیں کی جائیں گی۔

تفصیلات کے مطابق یہ مظاہرہ تہران تک محدود نہیں ہے تہران کے علاوہ کرمان شاہ، خرم آباد، شاہین شہر اور زنجان میں بھی جلوس نکالے جا رہے ہیں۔