حکومت کا تمام افراد کے نام فوری ای سی ایل سے نہ نکالنے کا فیصلہ

حکومت کا تمام افراد کے نام فوری ای سی ایل سے نہ نکالنے کا فیصلہ
سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ای سی ایل میں شامل ہر شخص کا الگ جائزہ لیا جائے گا۔۔۔۔۔فوٹو/ فیس بُک

اسلام آباد: وزیراعظم ہاؤس میں جاری وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران ای سی ایل میں شامل 172 افراد کے معاملے پر مشاورت کی گئی جب کہ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی اور قانونی ماہرین نے وزیراعظم کو بریفنگ دی۔


وفاقی کابینہ نے ای سی ایل میں شامل افراد کے فرداً فرداً مقدمات کا جائزہ لینے اور فوری طور پر تمام افراد کا نام ای سی ایل سے نہ نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ای سی ایل میں شامل ہر شخص کا الگ جائزہ لیا جائے گا اور جائزہ مکمل ہونے پر کچھ ناموں کو ای سی ایل سے نکالا جا سکے گا۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 31 دسمبر جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت کے دوران جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا تھا۔

چیف جسٹس پاکستان نے وزیرمملکت برائے داخلہ کو ہدایت کی تھی کہ ای سی ایل میں ڈالے گئے ناموں پر نظرثانی کی جائے۔