صاف شفاف الیکشن کی امید ختم ہوتی جا رہی ہے، نواز شریف

صاف شفاف الیکشن کی امید ختم ہوتی جا رہی ہے، نواز شریف

ارے امیدواروں کو ڈرایا دھمکایا جا رہا اور ان پر پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے لیے دبا ڈالا جا رہا ہے،فوٹؤ بشکریہ سوشل میڈیا

لندن :سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ صاف شفاف الیکشن کی امید ختم ہوتی جا رہی ہے۔لندن میں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا عام انتخابات میں دھاندلی کی جارہی ہے ،بغیر تصدیق بات نہیں کرتا ، اقبال سراج سے بات کرکے حقائق معلوم کئے ۔

نواز شریف نے کہا ہے کہ عام انتخابات میں دھاندلی کی جارہی ہے اور سینٹ کے الیکشن میں کھیلا جانیوالا کھیل عام انتخابات میں کھیلا جارہا ہے ۔ اس موقع پر جب ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ کا رانا اقبال سراج سے کوئی رابطہ ہواہے ؟ تو مسلم لیگ ن کے صدر نے کہا کہ میں بغیر تصدیق کے کوئی بات نہیں کرتا ۔ اقبال سراج سے کل والے واقعہ کے بعد بات ہوئی تھی اور میں ان سے بات کرکے تمام حقائق جانے تھے ۔ حالیہ واقعات انتہائی افسوناک ہیں، ہمارے امیدواروں کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے اور ان پر پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے لیے دبا ڈالا جا رہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے امیدواروں کو جیپ کے نشان پر آزاد الیکشن لڑنے کے لیے بھی مجبور کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات کو متنازع نہ بنایا جائے اور ملک میں ایسی کیفیت پیدا نہ کی جائے جس سے انتشار پیدا ہو۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ صاف و شفاف الیکشن کی امید ختم ہوتی جا رہی ہے لیکن عوام باشعور ہو گئے ہیں اور دھاندلی برداشت نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ زندگی کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہوں لیکن قوم کو مایوس نہیں کروں گا اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ان کا ساتھ دوں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اہلیہ کا مرض معمولی ہوتا تو پاکستان جا چکا ہوتا، اہلیہ کی طبعیت بہتر ہوتے ہی پاکستان واپس چلا جاؤں گا۔

چوہدری نثار سے متعلق سوال پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ چوہدری نثار کی باتوں سے دکھ اور تکلیف ہوتی ہے، چوہدری نثار کی باتیں بہت تکلیف دیتی ہیں لیکن آج تک ان کی کسی بات کا جواب نہیں دیا۔خیال رہے کہ پاناما اسکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد سے نواز شریف اور چوہدری نثار کے درمیان اختلافات میں کشیدگی بڑھی جو اب کافی شدت اختیار کر چکی ہے اور چوہدری نثار برملا اس بات کا اظہار بھی کر چکے ہیں کہ ان کا اختلاف پارٹی سے نہیں بلکہ نواز شریف سے ہے۔