سود کے معیشت اور معاشرے پہ اثرات

سود کے معیشت اور معاشرے پہ اثرات

ملک میں بد ترین سیاسی عدم استحکام بڑھتے ہوئے غیر ملکی قرضے،بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی من مانی شرائط ،برداشت سے باہر ہوتی روز افزوں مہنگائی،بیروزگاری،زرعی و صنعتی انحطاط، غربت کی شرح میں اضافہ اور بعض دوسرے منفی عوامل بلاشبہ ملکی معیشت کو دیوالیہ پن کی طرف لے جا رہے تھے ۔ان سب مسائل کی بنیادی وجہ ایک ہی سمجھ میں آرہی ہے جو کہ حالات آج تک نہ تو کنٹرول میں آرہے ہیں اور نہ ہی اُن میں بہتری آرہی ہے وہ ہے ،قرض در قرض اور سودی نظام جس کی دلدل میں ہم لوگ روز بہ روز دھنستے ہی چلے جا رہے ہیں اب نہ تو اس سے نجات مل رہی ہے اور نہ ہی حل۔ 

سودی نظام اور غیر ملکی مالیاتی فنڈ نے ملک کا دیوالیہ کر دیا ہے ،مگر معلوم نہیں کہ ہمارے حکمرانوں کو اس بات کا کیوں احساس نہیں ہو رہا ،یا پھر وہ جانتے بوجھتے دیکھا ان دیکھا کر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف سے ہم قرض تو لیتے ہیں مگر یہ کسی بھی ترقی پذیر ملک کو قرض تو دیتے ہیں مگر اپنی شرائط پہ یہ کسی بھی ایسے ملک کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے جن کو یہ قرض دیتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد بریٹن وڈز کے معاہدے کے تحت بین الاقوامی تجارت اور مالی لین دین کی ثالثی کے لیے دسمبر 1945میں قائم ہوا۔اس کا مرکزی دفتر امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں ہے ۔اُس وقت دنیا کے 185ممالک اس کے رکن ہیں۔شمالی کوریا ،کیوبا ،اور کچھ چھوٹے ممالک کے علاوہ تمام ممالک اس کے ارکان میں شامل ہیں۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پر بڑی طاقتوں کا مکمل راج ہے ۔یہ ادارہ تقریباً تمام ممالک کو قرضہ دیتا ہے ۔ان قرضوں کے ساتھ غریب ممالک کے اوپر سخت شرائط بھی لگائی جاتی ہیں یہ شرائط مقروض ملک کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کی بجائے اسے بگاڑتے ہیں ۔بہت سے دانشوروں نے بارہا یہ کہا کہ ان بین الاقوامی اداروں کے ڈھانچے کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔

میں اپنے قارئین سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ آخر اس بین الاقوامی قرض اور اس طریقہ کار سے کیسے ملک ترقی کی راہ پہ چل سکے گا،یہ تو ایسا ہی سمجھ لیجئے یا دیوانے کا اک خواب،یا بچہ کی چاند مانگنے کی ضد،یہ جب سے سود خوری پروان چڑھتی چلی گئی اس کے نقصانات بھی بڑھتے چلے گئے ،سود خوری معاشرے کے اقتصادی اعتدال کو تباہ کر دیتی ہے اور دولت و ثروت کے ارتکاز کا سبب بنتی ہے کیونکہ اس کے ذریعے فقط 

ایک طبقہ فائدہ اٹھاتا ہے اور تمام تر اقتصادی نقصانات دوسرے طبقے کو برداشت کرنے پڑتے ہیں ۔یہ جو بات اکثر سب سنتے ہیں امیر اور غریب ملکوں میں دن بہ دن فاصلہ بڑھ رہا ہے تو اس کی میں اور اہم وجہ سود ہی تو ہے۔

اب اس سودی نظام کو ختم کرنے کے لیے کوشش بھی کی جا رہی ہے تو دوسری طرف آئی ایم ایف سے قرض مل جانے پہ ہمارا حکمران طبقے کی تو خوشی کی انتہا نہیں کہ وہ خوشی سے بغلیں بجا رہے ہیں،مگر حالیہ وفاقی شرعی عدالت نے ،ربا،(یعنی سود)کو جسے عام لفظوں میںبینکوں کی زبان میں اب انٹرسٹ یا پرافٹ کا لفظ بولا جاتا ہے اُسے غیر شرعی اور حرام قرار دیا ہے ،اور حالیہ سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی آگیا کہ اس سودی نظام کا خاتمہ کیا جائے۔

واضح رہے وفاقی شرعی عدالت میں سودی نظام کے خلاف کیس کئی دہائیوں سے زیر سماعت تھا،وفاقی شرعی عدالت میں30 جون 1990کو سودی نظام کے خاتمے کے متعلق پہلی درخواست دائر کی گئی تھی،وفاقی شرعی عدالت کے 9چیف جسٹس صاحبان مدت پوری کرکے چلے گئے ،جبکہ 2002سے 2013تک مقدمے کی ایک سماعت بھی نہ ہوئی۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے شرعی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا تھا اور حکومت کو جون 2002تک فیصلے پر عملدآمد کا حکم دیا تھا،تاہم بعد ازاں اُس وقت کی جنرل پرویز مشرف کی حکومت کی جانب سے اس فیصلے پر بھی نظر ثانی کی اپیل دائر کر دی گئی تھی۔جس کے بعد 24جون 2002 کو شرعی عدالت کا فیصلہ معظل کر دیا گیا اور ربا کی تشریح کے لیے مقدمہ واپس شرعی عدالت بھجوا دیا گیا تھا۔

تقریبا 19سال سے شریعت کورٹ میں سودی نظام کے خلاف کیس زیر التواہے اس دوران کئی سماعتیں ہوئیں،متعدد درخواست گزار اور عدالتی معاونین انتقال کر گئے مگر معاملہ جوں کا توں ہی رہا مگر اب جب فیصلہ آیا،شرعی کورٹ ،اور سپریم کورٹ کا فیصلہ جب ایک ہوا ،اور عدالت نے حکم دیا کہ حکومت تمام قوانین میں سے ،،انٹرسٹ،، کا لفظ فوری حذف کرے۔ شرعی عدالت نے فیصلے میں کہا :1839سے نافذالعمل انٹرسٹ ایکٹ مکمل طور اسلامی شریعت کے خلاف ہے،لہذا سود کے لیے سہولت کاری کرنے والے تمام دوسرے قوانین ،اور مختلف قوانین کی شقیں غیر شرعی قرار دی جاتی ہیں۔ وفاقی شرعی عدالت آئین پاکستان کے تحت قائم ایک عدالت ہے ،جسے یہ جانچنے اور اس بات کا تعین کرنے کا اختیار حاصل ہے کہ ملکی قوانین اسلامی شرعی قوانین کے مطابق ہیں نہیں۔

سپریم کورٹ نے بھی سودی نظام کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ 2027تک معاشی نظام کو سود سے پاک کرنے کا حکم جاری کیا ہے اور اس بات کو بھی کہا کہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی کا سود سے پاک اقتصادی نظام بنانے پہ زور دیا ہے۔اس فیصلے کے بعد ایک ہلچل سی محسوس ہو رہی ہے ایک تو سٹیٹ بینک آف پاکستان نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کر دی ہے جس میں شرعی کورٹ کے فیصلے پر تشریحات طلب کی ہیں،اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی مختلف لوگوں کی آراء اور مختلف ٹرینڈ دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔ اگر ہم دین اسلام کی بات کرتے ہیں تو مذہب میں تو اس بات کی کسی بھی طرح گنجائش ہی نہیں ہے کہ ہم سود کو اپنے معاشرے میں جگہ دیں۔ اور اگر ہم موجودہ معاشی سسٹم کی بات کریں تو ہمارا سارے کا سارا نظام ہی انٹرسٹ (یعنی سود،ربا) پہ ٹکا ہوا ہے۔اگر عدالت کا یہ حکم بھی ہے کہ 2027 تک بھی اس نظام کی تبدیلی ہو جائے تو مشکل کیا ممکن ہی نہیں ہے۔

اس بات کا بھی خدشہ محسوس ہو رہا ہے ،اس فیصلے کے بعد بینکوں کا بائیکاٹ بھی ہو سکتا ہے۔آپ نے اکثر دیکھا ہو گا پاکستان میں جتنے بھی اسلامک بینک،بغیر سود آسان اقساط پہ قرض دینے والے ،کسی بھی بینک سسٹم کا موازنہ کر لیں کوئی بھی بنا انٹرسٹ کے نہیں چل رہا اور نہ ہی چل سکتا ہے اس کی وجہ ملازموں کی تنخواہیں،بلڈنگ کے اخراجات وہ سب کہاں سے پورے ہونگے۔

شرعی کورٹ اور سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا ہم خیر مقدم تو کرتے ہیں مگر سوال یہ پیدا ہوتا کہ پہلے ہی معاشی عدم استحکام سے ملکی معیشت کا پہیہ جام ہے اس فوری فیصلے کے عملدآمد سے کیسے ممکن ہو گا نظام کو چلانا۔اس فیصلے کے بعد آئی ایم ایف سے قرض لینا اس فیصلے کی سیدھی سیدھی خلاف ورزی ہے۔

ایک اچھا فیصلہ تو آیا مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں بہتر پالیسی بنانے والوں کی بہت قلت پائی جاتی ہے اور جو اہلیت رکھتے ہیں اُن کو اس نظام سے دور رکھا جاتا ہے ۔

اب سب کے لیے سوال ہے کیا یہ سودی نظام ختم ہو سکے گا جس کی جڑیں اتنی مظبوط ہو چُکی ہیں ،وفاقی شرعی عدالت نے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے پانچ سال کا حکم دیا ہے کہ حکومتی اراکین 31دسمبر 2027تک ملک کا معاشی نظام سودی نظام سے پاک تشکیل دیں۔

مصنف کے بارے میں