مایوس نہیں ہونا، یہ نظام ضرور بدلے گا

مایوس نہیں ہونا، یہ نظام ضرور بدلے گا

اس وقت دیکھا جا سکتا ہے کہ ملک میں شدید سیاسی بحران ہے فریقین باہم دست گریبان ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں جس سے عوام میں مایوسی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے مگر حیرت یہ ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کو اس کی کوئی فکر نہیں وہ عوامی اضطراب کی پروا کیے بغیر آگے بڑھنا چاہ رہے ہیں جبکہ صورت حال قطعی مختلف نظر آتی ہے کیونکہ عام آدمی کی زندگی گویا ایک دہکتا ہوا انگارا بن چکی ہے وہ خود کو ہر لمحہ جھلستا ہوا محسوس کر رہا ہے اس کی جینے کی راہ مسدود ہوتی جا رہی ہے اس کے ساتھ ہر سطح پر نا انصافی ہو رہی ہے۔ اور اس کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے۔ ایسا اس لیے ہو رہا ہے کہ موجودہ نظام حکومت و حیات کو پچھہتر برس کے بعد بھی تبدیل کرنے کی سعی نہیں کی گئی وہی بے ڈھنگی چال ہے جو چلی جا رہی ہے لہٰذا جو کوئی بھی کچھ کرنا چاہتا ہے وہ کر گزرتا ہے اسے پوچھنے والا کوئی نہیں اور جو ہے بھی اسے کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس میں اس کو جانی و مالی نقصان بھی اٹھانا پڑ رہا ہے مگر یہ بھی طے ہے کہ اس نظام حیات کو بدلنا پڑے گا کہ اب وہ دن گئے جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے آج کا شہری طویل عرصے کے بعد بہت کچھ سیکھ چکا ہے۔ وہ شعوری منزل کے قریب پہنچ گیا ہے لہٰذا وہ احتجاج کر رہا ہے اپنی آواز کو بلند سے بلند کرتا چلا جا رہا ہے اگرچہ اسے یہ خوف بھی لاحق ہے کہ اسے اپنے حق کے حصول پر پس زنداں بھی دھکیلا جا سکتا ہے مگر وہ بول رہا ہے لہٰذا تبدیلی کا عمل شروع ہونے والا ہے۔ جسے روکا نہیں جا سکتا کیونکہ پچھہتر برس معمولی عرصہ نہیں ہوتا اس میں دنیا بہت آگے چلی گئی ہے اس نے تعمیرو ترقی کے راستے پر رواں رہتے ہوئے انسانی زندگی کو پر اسائش و سہل بنا دیا ہے مگر افسوس ہمیں ابھی آپس کے لڑائی جھگڑوں سے ہی فرصت نہیں۔ اْدھر سرکاری محکمے ہیں جو عوام کو مزید اذیت میں مبتلا کرنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں ان کے اپنے ضابطے اور اصول ہیں  جس کا جو جی چاہتا ہے وہ کر رہا ہے سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ بنانا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے یعنی عوام حکمران طبقات کے علاوہ بیورو کریسی کے ہاتھوں بھی پریشان ہیں پھر مہنگائی ہے جو اس قدر بڑھ رہی ہے کہ آکاس بیل بھی اتنی رفتار سے نہیں بڑھتی آج کوئی چیز خریدنے جاؤ تو اس کی قیمت کچھ ہو گی کل جاؤ تو کچھ اور ہو گی۔  اس سیلاب کو روکنا حکمرانوں کا فرض ہے مگر وہ بھی شاید مجبور ہیں کیونکہ آئی ایم ایف نے انہیں بے بس کر دیا ہے یہ الگ بحث ہے کہ انہیں بے بس کیوں ہونا پڑا ہے وہ ابھی تک اس حوالے سے قومی اتفاق رائے سے کوئی فیصلہ کیوں نہیں کر سکے اور اگر کر لیتے تو یہ جو زندگی کسی تپتے صحرا میں بھٹک رہی ہے وہ نہ بھٹک رہی ہوتی گلستانوں میں اٹھکیلیاں کر رہی ہوتی۔ بہرحال 

حالات تیزی سے ایک بہت بڑے بگاڑ کے حصار میں جا رہے ہیں جن کے آگے حکمت عملیوں اور منصوبوں کا بند باندھنا ہو گا۔ اس کے لیے صرف حکمرانوں کا ہی فرض نہیں ہر شخص کو آگے آنا ہو گا وہ یہاں کہیں بھی ہے اسے خلوص نیت سے اپنے حصے کا کام کرنا پڑے گا کیونکہ ہم واقعتا ملکی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہے ہیں کہ اس وقت جو صورت حال ہے وہ تڑپا دینے والی ہے لہٰذا لوگ نا امید ہونے لگے ہیں وہ  کسی خوفناک منظر کو ابھرتا ہوا دیکھ رہے ہیں مگر یہ بات ہمیں ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جب ہر سمت اندھیرا پھیل رہا ہو تو روشنی کی ایک کرن بھی کافی ہوتی ہے عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے اور صبر کا دامن کسی صورت ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے کہ وقت کبھی بھی ایک جیسا نہیں رہتا کوئی بھی کیفیت جامد نہیں ہوتی بدل جاتی ہے لہٰذا یہ سچ ہے کہ اس وقت ہم خوفناکیوں کی زد میں ہیں ہر گھڑی ہم پر بھاری ہو رہی ہے جس سے لگتا ہے کہ یہ چمن یونہی رہے گا۔ خزاں اپنی اداسی کے ساتھ اسی طرح موجود رہے گی مگر یہ درست نہیں۔ راستے کتنے ہی پر خار کیوں نہ ہوں منزل کی جانب رواں قافلے کو نہیں روک سکتے اس کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے کیونکہ اس میں کچھ راہی ضرور موجود ہوتے ہیں جو حوصلہ نہیں ٹوٹنے دیتے اسی طرح ہم میں بھی بہت سے ایسے لوگ باقی ہیں جو امید کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں جنہیں دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ یہ نظام یہ سماج ضرور بدلے گا۔ 

جی ہاں! چند روز پہلے  ایک ضروری کام کے سلسلہ میں ہمارا تھانہ ’’ہیر ‘‘ جانا ہوا تو وہاں ہماری  ملاقات محکمہ پولیس کے ایک ذہین وفطین افسر راشد ملک سے ہوگئی جو  بطور ڈی ایس پی اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ان کے زیر نگرانی تین تھانے ہیں۔  وہ بڑے ہشاش بشاش‘  مستعد اور توانا نظر آئے ان کی آنکھوں کی چمک سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وہ ایک انصاف پسند افسر ہیں خیر وہ شہریوں کی شکایات بڑے انہماک سے سن رہے تھے اور فوری ان کا ازالہ بھی کر رہے تھے جس چیز نے ہمیں متاثر کیا وہ یہ تھی کہ انہوں نے جو بھی فیصلہ سنایا مظلوم کے حق میں ہی سنایا وہ اپنے ماتحتوں کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی کے احکامات جاری کر رہے تھے۔ یہ سب دیکھ کر ہم حیران ہوئے کہ پولیس جس پر عام آدمی کو اعتماد نہیں رہا وہ اس سے خائف ہے اور متنفر بھی‘ اس میں ایسے افسر بھی پائے جاتے ہیں جنہوں نے ہاتھ میں انصاف کا ترازو تھام رکھا ہے اور اپنے تئیں ظلم و زیادتی کو ہر ممکن روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ یقین نہیں کریں گے کہ راشد ملک ڈی ایس پی جن سے گفتگو کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ انہوں نے یہ طے کر رکھا ہے کہ وہ سچ کا ساتھ دیں گے چاہے اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنا پڑے لہٰذا ہمارے سامنے انہوں نے ایسے جھگڑے اور تنازعات ختم کرائے جن کے لیے فریقین برسوں سے عدالتوں کے الجھاؤ میں الجھے چلے آرہے تھے۔ وہ ابھی جونیئر افسر ہیں مگر قوت فیصلہ رکھتے ہیں لہٰذا جب وہ ترقی کرتے ہوئے اور با اختیار ہوں گے تو پورے یقین سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کے علاقہ کے لوگوں کو سو فیصد انصاف ملے گا فیصلے لمحوں میں ہوں گے طاقتورں ، سینہ زوروں اور قبضہ گیروں کے حوصلے پست ہوں گے ان پر قانون کی گرفت سخت سے سخت تر ہو گی لہٰذا اس اندھیری رات سے اہل وطن کو گھبراہٹ نہیں ہونی چاہیے کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی راشد ملک موجود ہے جو اس تاریکی کو روشنی میں بدلنے کے لیے اپنے ہاتھ میں ایک چراغ جلائے ہوئے ہے۔ یہاں ہم یہ عرض کرتے چلیں کہ ہمارے قلم سے کسی افسر کسی سیاستدان یا کسی اہل زر کی مدح سرائی یونہی ممکن نہیں ہوتی مگر جو حق دار ہے اس کی تعریف لازمی کر تے ہیں لہٰذا جب راشد ملک ایسے دیانت دار فرض شناس پولیس افسر ہوں تو ان کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے اس سے اجتماعی مایوسی میں کمی واقع ہونے کا قومی امکان ہے۔ 

مکرر عرض ہے کہ جہاں اہل اقتدار و اختیار کی صورت حال کو ٹھیک کرنے کی ذمہ داری ہے تو وہاں ہمیں بھی ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دینا ہو گا تا کہ یہ رجحان بڑھے اور ایک خوشحال اور پر امن معاشرے کی تشکیل ہو سکے۔

مصنف کے بارے میں