مالی سال 18-2017، پنجاب کا 1970 ارب سے زائد مالیت کا بجٹ پیش

مالی سال 18-2017، پنجاب کا 1970 ارب سے زائد مالیت کا بجٹ پیش

لاہور: اسپیکر رانا اقبال کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس ہوا۔ صوبائی وزیر خزانہ عائشہ غوث نے آئندہ مالی سال 18۔2017ء کا بجٹ پیش کیا۔ ان کا بجٹ تقریر میں کہنا تھا تمام تر مسائل کے باوجود متوازن بجٹ تیار کیا ہے اور رواں برس مختلف منصوبوں میں 220 ارب روپے بچت کی گئی کیونکہ منصوبوں کی بروقت تکمیل پنجاب حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔


عائشہ غوث پاشا نے مزید بتایا پنجاب حکومت کی کاوشوں سے صوبے میں سی پیک کے کئی منصوبے جاری ہیں جن میں بجلی کے کئی منصوبے شروع ہو چکے ہیں۔ رواں سال غیر ملکی سرمایہ کاروں سے 57 معاہدے کیے گئے اور پنجاب میں اس وقت سرمایہ کاری ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔

نیو نیوز کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق پنجاب کے 2017-18 کے بجٹ کا کل حجم 1970 ارب 70 کروڑ روپے مختص کیا گیا ہے جبکہ ترقیاتی منصوبوں کیلئے 635 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

پنجاب کے بجٹ میں سرکاری ملازمین اور پنشنزز کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔

کسان پیکج کیلئے 15 ارب روپے مختص کیے جائیں گے اور کسانوں کیلئے 6 ارب سے زائد کا ٹیوب ویلوں پر ٹیکس پنجاب حکومت ادا کرے گی جبکہ پنجاب میں گروتھ ریٹ 2.5 سے بڑھ کر 4.12 ہو گیا ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ نے بتایا کہ اسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی فراہمی کیلئے 40 کروڑ روپے مختص کیا گیا ہے جبکہ خیراتی اسپتالوں کیلئے ایک ارب 60 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ پنجاب کے بڑے اسپتالوں میں 2ہزار بیڈز کا اضافہ کیاجائے گا جبکہ 70 کروڑ کی لاگت سے ڈائیلسز کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی ۔

دوسری جانب  جگر اور گردے کی بیماریوں کے اسپتال کو  320 بستروں تک لیجایا جائے گا اور ایک ارب کی لاگت سے جنوبی پنجاب میں 100 موبائل ہیلتھ یونٹ فراہم کیے جائیں گے اور جنوبی پنجاب کے 11 اضلاع میں زچہ بچہ کی صحت کیلئے 1 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ تقریر میں مزید بتایا گیا کہ ہائپاٹائٹس کنٹرول پروگرام صوبے بھر کے تمام ٹیچنگ اسپتالوں تک بڑھایا جائے گا اور پنجاب کی 5 ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز میں 200 ارب کی مالیت سے تشکیل نو ہو گی جبکہ 2017-18 میں جنرل ریونیو کی مد میں 502 ارب روپے کا تخمینہ ہے۔

انہوں نے بجٹ تقریر میں بتایا  کہ سوشل سیکٹر کیلئے 201 ارب 63 کروڑ رقم مختص کی جائے گی جبکہ ایف ڈی پی کے ذریعے پنجاب کو 1154 ارب اور 18 کروڑ روپے آمدن متوقع ہے اور مالی سال 17-18 میں جاریہ اخراجات کا کل تخمینہ 1021 ارب روپے ہے تنخواہوں کی مد میں 258 ارب، پنشن 173 ارب ، مقامی حکومتوں کیلئے 361 ارب اور سروس ڈیلیوری اخراجات 228 ارب 10 کروڑ رقم مختص کئے گئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ مجموعی طور پرشعبہ تعلیم کیلئے 345ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جس میں سے بجٹ میں ضلعی تعلیم کیلئے 230 ارب روپے جبکہ اسکولوں کی تعمیر و ترقی کیلئے 28 ارب روپے مختص کئے گئے۔ پنجاب کے 10 ہزار اسکولوں کو سولر سسٹم پر منتقل کیا جائے گا۔ ہائرایجوکیشن کے شعبے کیلئے 44 ارب 60 کروڑ اور لیپ ٹاپ اسکیم کیلئے 7 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

اپوزیشن کا احتجاج

بجٹ تقریر کے دوران روایتی انداز میں اپوزیشن کی طرف سے بھرپور شور شرابا کیا گیا اور شیم شیم اور جھوٹ جھوٹ کے نعرے لگائے گئے۔ اپوزیشن ارکان سیاہ پٹیاں باندھ کر اجلاس میں شریک ہوئے جبکہ اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے بجٹ کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں اچھال دیں۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں