گھوٹکی : سندھ کے شہر گھوٹکی میں انسانیت بھی شرمندہ ہوگئی، لوگ پولیس کی تفتیش سے گھبراتے ہیں یا انسانی اقدار اس قدر نیچے آچکی ہیں آخر ان سب حرکتوں کا ذمہ دار کون ہے۔ گھوٹکی میں انسانیت سر بازارسسک سسک کر دم توڑ گئی۔سر راہ مرنے والے آدمی کو کسی نے اسپتال چھوڑنا گوارہ نہ سمجھا اطلاع کے باوجود پولیس بھی دیر سے پہنچی ۔
حب کے بازارمیں نامعلوم شخص ایڑھیاںرگڑتے ہوئے جان کی بازی ہار گیا ،مرنے والے کو نہ ایمبولینس نصیب ہوئی ۔اور نہ اسپتال انتظامیہ نے کوئی زحمت کی ،گھنٹوں بعد کسی خداترس شخص نے لاش کو رکشہ ٹرالی پر رکھ کر اسپتال منتقل کیا۔
انسانیت سوز واقعہ کو سماجی رہنما ثمر من اللہ نے معاشرتی اقدار کی موت قرار دیا ثمر من اللہ کے مطابق یہ واقعہ حکومت کی نااہلی یا غربت کے باعث نہیں ہوا ،جب تک ہم میں انسانیت کا جذبہ پیدا نہیں ہوگا ،ایسے واقعات ہوتے رہینگے