غیر ملکیوں کو بھارتی بچوں کی فروخت،حکمراں جماعت بی جے پی کی رہنما گرفتار

نئی دہلی :بھارت میں انسانوں کی بیرون ملک تجارت اور مقامی بچوں کی غیر ملکیوں کو مبینہ فروخت میں ملوث ہونے کے الزام میں وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی ایک سینیئر علاقائی سیاست دان کو گرفتار کر لیا گیا ۔میڈیارپورٹس کے مطابق پولیس نے بتایا کہ نئی دہلی میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی یا بی جے پی کی اس اعلیٰ علاقائی عہدیدار پر الزام ہے کہ اس کے انسانوں کی تجارت کرنے والے ایک ایسے جرائم پیشہ گروہ کے ساتھ رابطے تھے۔
جو بے اولاد غیر ملکی جوڑوں کو بھارتی بچے فروخت کرنے کا کام کرتا تھا۔اس وسیع تر اسکینڈل کی چھان بین کرنے والے تفتیشی ماہرین نے بتایا کہ اس گروہ کی طرف سے ’گود لینے کے نام پر‘ لیکن ایک قطعی غیر قانونی عمل کے دوران جو بچے یورپ، امریکا اور کئی ایشیائی ملکوں سے آنے والے بے اولاد جوڑوں کو بیچے گئے، ان کی عمریں چھ ماہ اور چودہ برس کے درمیان تک ہوتی تھیں۔
[پولیس کے مطابق انسانوں کی خرید و فروخت کے اس مجرمانہ کاروبار کے دوران کسی بھی بے اولاد غیر ملکی جوڑے کو کوئی بچہ 12 ہزار اور 23 ہزار امریکی ڈالر کے برابر تک رقم میں بیچا جاتا تھا، جس کے بعد ایسے بھارتی بچے بیرون ملک بھیج دیے جاتے تھے۔گرفتار کی گئی بی جے پی کی اس سرکردہ خاتون سیاست دان کا نام جوہی چوہدری ہے، جو ریاست مغربی بنگال میں وزیر اعظم مودی کی ہندو قوم پسند جماعت بی جے پی کی جنرل سیکرٹری ہیں۔ جوہی چوہدری کوگرفتار کر کے ان پر فرد جرم بھی عائد کر دی گئی ہے۔